450

میرے خواب

میرے خواب
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔خواب انسانی زندگی کا اہم حصہ ہیں ۔ خواب کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن ہے۔ہر انسان خواب ضرور دیکھتا ہے ، چاہے وہ خواب نیند کی حالت میں یا جاگتے ہوئے۔ اور انہی خوابوں کی بنیاد پر زندگی کے بڑے بڑے کام پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں۔جیسے ہمارے پیارے ملک پاکستان کی تخلیق۔ جاگتی آنکھوں کے خواب کو خیال کہہ دیا جاتاہے۔ خواب و خیال اللہ تعالی کی طرف سے انسان کیلئے پیغامات ہوتے ہیں۔ ا سی لئے خواب کو پیغمبری کا چالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔میں نے بھی عام انسانوں کی طرح کچھ خواب د یکھے ہیں اور اپنے انہی خوابوں کو تحریر کے صورت میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
کیونکہ آج کل سیاسی گہما گہمی ہے اور ہر لیڈر اپنے ملازم لکھاریوں ، دانشوروں کی سوچ اور خیالات کو اپنی تقریروں کے ذریعے آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔ لیکن اُن کے الفاظ میں اصل طاقت نہیں ہوتی جو اس ملک کا قائد کے الفاظ میں ہوتی تھی کہ ا ن پڑھ شخص بھی اُ ن کی انگریزی تقریرکو سمجھ لیتا تھا۔گذشتہ رات ہم نے بھی ایک سیاسی خواب دیکھا۔کیا دیکھتے ہیں کہ ہم اہلِ پاکستان سے یوں مخاطب ہیں۔
اہلِ وطن کی خدمت میں سلام۔ہم بہت عرصہ سے سوچ رہے تھے کہ آپ لوگوں سے بات کی جائے لیکن ہر بار یہ سوچ کر چُپ ہو رہتے کے وسیلہ کون بنے گا کیا کوئی اخبار ؟ لیکن وہ کیوں اپنے بھرتی کے دانشوروں کی جگہ ہماری بات آپ سے کروائیں گے۔کوئی ٹیلی ویژن ؟ ارے نہیں !وہ بھی کہاں ہمیں گھاس ڈالیں گے اور ڈالنی بھی نہیں چاہئے کہ ہم انسان ہیں جانور تھوڑی۔ خوش قسمت ہیں جانور کہ ان کو اب انسانوں کی موت نہیں مرنا پڑتا۔نہ انہیں چینی کی فکر ہے ، نہ آٹے کی اور نہ دودھ کی بلکہ کچھ تو خود ہمارے لئے اپنی تھوڑی سی خدمت کہ بدلے ہمیں دودھ دیتے ہے اور کچھ ہماری لذتِ دہن کہ لئے اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں۔
معذرت! بات ہمیں آپ سے کرنی تھی آپ کے بارے میں لیکن شروع کردی جانوروں کے بارے میں۔ہمیں آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے ۔ کیا آپ لوگ جینا چاہتے ہیں؟ آپ کا جواب مجھے پتا ہے ۔’’جی‘‘ اور اگر ہم پوچھیں کہ’’ کس حال میں‘‘ تو آپکا فوری جواب ہو گا کہ’’ہر حال میں‘‘ تو میرے نادان ساتھیو! اسی ایک جواب کا فائدہ اُٹھاتے ہو ساری قوم کو اس ’’حال‘‘ میں جینے کی سہولت دی جا رہی ہے ۔جو کی موت سے بھی بدترہے۔
ہمارے دانشور اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے مشورے تو بہت دیتے ہیں اور جو زیادہ ہی ذہین ہوتے ہیں وہ ہمارے حکمرانوں کی تقرریں لکھتے ہیں لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ خود آگے بڑھ کر کہیں کہ دوستو ، ساتھیو! آؤ ہمارے سنگ چلو، ہم تمھارے رستے کہ سارے سنگ سمیٹ کر اپنی جھولی میں ڈالتے ہیں ۔ اب اگر ہم ان کی دانشوری کو یہاں بیان کرنے لگیں تو اخبار کے بارا صفحات بھی کم پڑ جائیں گے۔ چھوڑیں ان باتوں کوہم اپنی بات کرتے ہیں۔
آپ بتائیں، کیا آپ سب اچھے حال میں جینا چاہتے ہیں ؟ کیا اپنی نسلوں کو اچھا مستقبل دینا چاہتے ہیں ؟ تو پھر آپ سب کوہم پر اعتماد کرنا ہوگا اور ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ سوچ میں پڑ گئے کیا؟ سوچئے ضرور سوچئے ،ہزار بار سوچئے اور پھر سوچ سمجھ کر جواب دیجئے کیا آپ ہمارا ساتھ دیں گے؟ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کو اپنے ساتھ رکھیں گے اور آپ کے ساتھ رہیں گے۔ اگر آپ ان الفاظ پر غور کریں گے اور اسکی گہرائی تک پہنچیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ ساتھ ساتھ چلنے اور آگے پیچھے چلنے میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اس وقت حکمران اور ان کے اتحادی آگے چل رہے ہیں اور عوام ان کے پیچھے ،کچھ تو بہت ہی پیچھے، اسی لئے تو نظر نہیں آتے کہ بھوکے ہیں یا پیاسے، پاؤں پر چل رہے ہیں یا گھٹنوں پر یا گھسٹ گھسٹ کر۔
یہ جو ہمارے حکمرانوں کے نام نہاد مخالف لیکن اندرونی طور دوست انقلاب کی باتیں کرتے ہیں یہ ہم غریبوں کو مروانا چاہتے ہیں خدارا ان کی باتوں میں مت آےئے گا۔یہ خود گرفتاری دے دیں گے اور آرام سے اندر بیٹھے مزیں اُڑایں گے۔ غریب مرنے والوں کا مذاق اُڑائیں گے۔ اور مکروہ چہروں پر منافقانہ افسردگی لا کر بیان دے دیں گے۔اللہ اللہ خیر صلا۔ہم انقلاب لائیں گے لیکن ساری دنیا سے منفرد۔ ہمیں کامل بھروسہ ہے کہ اللہ کی مدد بھی شاملِ حال ہو گی۔اگر آپ نے ساتھ دیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہ صرف اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیں گے بلکہ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام بھی پا لیں گے،اپنی آنے والی نسلوں کی نظر میں سُرخرو ہو جائیں گے، دنیا میں ہماری نظیر نہیں ملے گی ۔ہم آنے والے وقتوں کیلئے ایک مثال بن جائیں گے۔ اور اقوامِ عالم میں ہمارا حوالہ دیا جائے گا۔ تو ساتھیو! اُٹھواور صبحِ نو کیلئے اپنے آنگن کے دروازے کھولوکہ قسمت کی دستک بار بار نہیں ہوتی اس کیلئے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ رحمتِ خداوندی کی ہوائیں ہمیشہ نہیں چلتیںآؤ اس رحمت سے بہرہ مند ہو کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار لیں۔ہم نے آپ سے جو ساتھ چلنے اور ساتھ رہنے کا وعدہ کیا ہے اس کے بارے میں فقط اتنا کہتے ہیں کہ ہم اس کے لئے اللہ کو اپنا گواہ بناتے ہیں کہ کائنات میں اس سے بڑھ کر کوئی شاہد نہیں۔اگر آپ تیار ہیں تو صرف اتنا کیجئے کہ اپنے اپنے گھروں پر سفید پرچم لہرا دیں، چاہے گھر میں موجود کسی پھٹے پرانے کپڑے کو کسی ڈنڈے سے باند ھ کر لٹکا دیں۔اس سے ہمیں پتا چل جائے گا کہ کتنے ساتھی نیند سے بیدار ہوگئے ہیں اور ہمارے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔
ہم حالات کے درست ہونے تک اسی طرح آپ سے مخاطب ہوتے رہیں گے۔ آپ ہم پر بھروسہ کرتے ہوئے ویسا ہی کرتے رہیں جیسا ہم آپ سے کرنے کو کہیں۔اس سے نہ تو ہمارے کسی بھائی کا جانی نقصان ہو گا اور نہ کسی کام میں رکاوٹ آئے گی۔والسلام۔اللہ ہم سب کاحامی و ناصر ہو۔ الھم آمین۔
اے اہلِ وطن۔آپ کیلئے یہ ہمارا دوسرا پیغام ہے۔ ابھی ہمیں وہ نتائج نظر نہیں آئے جن کے بھروسے پر ہم کہہ سکیں کہ ہم اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس قافلے میں ارضِ وطن کی کم از کم چھیاسٹھ فیصد%۶۶ساتھی ہمارے ساتھ ہوں’’علم اعداد کے ماہرین جانتے ہیں کہ کیوں؟‘‘ ابھی یہ تعداد بہت تھوڑی ہے ۔آپ لوگ اپنے حلقہ احباب اور عزیز و اقارب تک ہماری بات پہنچائیں اور انہیں ہمارے ساتھ چلنے کیلئے قائل کریں۔اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد از جلد صف بندی کرلیں۔
آپ کہیں گے کہ !احباب جب پوچھیں گے کہ ہم کرنے کیا جا رہے ہیں؟ہمارے مقاصد کیا ہیں؟ہمیں فائدہ کیا ہوگا اور نقصان کیا اُٹھانا پڑے گا ؟تو آپ کیا جواب دیں گے،تو ساتھیو! ہم ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں جس کی مثال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ہم نہ تو کوئی نیا ملک بنا رہے ہیں ، نہ کسی ملک یا قوم کے خلاف کوئی نیا محاذ بنا رہے ہیں اور نہ ہی اللہ اور اس کے رسولﷺ احکامات سے انحراف کر رہے ہیں۔ ہم تو اپنے دیس کو اس کے نام کی طرح پاک کرنے جا رہے ہیں ۔ہم اپنی اندرونی اور بیرونی غلاظتوں کو دھو کر اپنی ارواح اور اجسام کو پاکیزہ کرنے جا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری اس اجتماعی طہارت سے خوش ہو کر ہماری تمام کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف کرتے ہوئے ہم پر اپنے کرم کی بارشیں برسائے گا ۔
سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھ لیں کہ ہم کوئی انقلاب نہیں لارہے۔دنیا جانتی ہے کہ انقلاب خون مانگتا ہے اور ہم تو اتنے نازک دل ہیں کہ ہمارے گھر سے بلی چوزا پکڑ کر لے گئی تو ہم رو پڑے تھے(تب ہم پندراسال کے تھے) تو ایسے میں اپنے ساتھیوں کا خون بہتا کیسے دیکھ سکتے ہیں ۔ہاں یہ اور بات ہے کہ مقصد کے حصول کیلئے جب دشمن رکاوٹ بنے تو پھر سر کٹوانا بھی پڑتا ہے۔ایسے میں آپ ہمیں ہراوّل دستے میں پائیں گے۔
ہمیں پتا ہے کہ آپ کا اشتیاق بڑھ گیا ہے۔ آپ یہ جاننے کیلئے بیتاب ہو رہے ہیں کہ ہم کرنا کیا چاہتے ہیں۔ تو سنئے !
ہم ملکِ پاکستان کو ’’متحدہ اسلامی پاک امارات‘‘بنانے جا رہے ہیں۔اس کی تیرا ’’۱۳‘‘ ریاستیں ہونگی۔ہمارے ہمسایا ممالک افغانستان، ایران اور ہندوستان کو کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم انکی سرزمین کے کسی بھی حصہ پر قبضہ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ہاں البتہ کشمیر کا فیصلہ وقت پر چھوڑے دیتے ہیں کہ جیسے اللہ کی مرضی لیکن یہ یاد رہے کہ ہم اسے بھارتی حصہ تسلیم نہیں کرتے یہ متنازع علاقہ ہے ۔
ہم چودا سو سال پہلے دئیے گئے منشور کو مکمل آئین کی شکل دیں گے۔
ہمارے پرچم میں بھی تھوڑی سی تبدیلی ہوگی۔
ملک میں انتظامی معاملات کیلئے صرف اور صرف قومی زبان اُردو ہی استعمال ہوگی۔
عدلیہ ، مقننہ اور امورِانتظامیہ میں اصلاحات ہونگی۔
تعلیم،صحت اور دفاع کو اولیّت دی جائے گی اور ہر کسی کیلئے یکساں معیار ہوگا۔
تعلیمی نصاب قومی زبان میں ہوگا، تمام علاقی زبانوں کو یکساں طور پر تعلیم کا حصہ بنایا جائے گا۔
ہر کسی کیلئے کوئی ایک بین الاقوامی زبان سیکھنا لازمی ہوگا(ہر زبان کیلئے محدود نشستیں ہونگی)
ہر ضلع کی سطح پردو جامعات لازمی ہونگی۔ قید خانوں کو ختم کر کے اُنکی جگہ کھیل کے میدان بنا دےئے جائیں گے۔
ملک سے ہفتہ وار جانور کے ذبیحہ کا ناغااور سود کی لعنت کو مکمل طور پر ختم کرد یا جائے گا۔
ہر کسی کیلئے دفاعی تربیت ضروری ہوگی۔
آپ سوچ رہیں ہونگے کے یہ سب کیسے ممکن ہوسکتا ہے تو ساتھیو یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب ہم سب ساتھ چلیں گے۔ تو آئیں ہمارا ساتھ دیں ہمیشہ ساتھ رہنے کیلئے۔ اپنے ارد گرد چھتوں پر سفید پرچموں کا اضافہ کریں۔ والسلام
اللہ ہم سب کاحامی و ناصر ہو۔ الھم آمین۔
آپ کیلئے یہ ہمارا تیسرا پیغام ہے۔ہم جانتے ہیں کہ آپ ہمارے گذشتہ پیغامات سے سمجھ رہے ہوں گے کہ شایدہم دوستوں کے ساتھ مل کر کوئی نئی سیاسی جماعت متعارف کروانے والے ہیں ۔ واللہ ایسا ہر گز نہیں ہے ابھی تک ہم فردِ واحد ہیں اور ہمارے ساتھ ربِ کریم کی ذات ہے۔ اُس کے بعدآپ ہی ہمارے ساتھی ہیں۔اللہ کی مدد سے اور آپ ساتھیوں کے تعاون سے ہمیں اس مملکتِ خدادا کو دنیا بھر کے لئے مثالی اور قابلِ فخر بنانا ہے۔
ہمارا سب سے پہلا یہ کام ہو گا کہ ہم سب انفرادی طور پر اپنی اصلاح کریں گے۔ ہم میں جو برائیاں ہیں ان سے کنارا کشی کرتے ہوئے آئندہ زندگی میں ان سے بچے رہنے کا عہد کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی کی دعا کریں گے۔
اپنی اصلاح کے لئے ہمیں کن کن کاموں سے بچنا ہوگا۔
جھوٹ، سود، بددیانتی ،رشوت ستانی، ڈاکا زنی، دھوکے بازی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری،خوشامد، تکبر، حسد، شراب نوشی،زنا، لواطت اور آوارگی سے
اور ہمیں کن باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
احترامِ انسانیت، تحمل ، برداشت، ایمانداری، سچائی، شرم وحیا، پاکبازی، انصاف، سخاوت، حب الوطنی، اطاعتِ والدین، چھوٹوں سے شفقت اورنفس کشی کو۔
اگر ہر فرد اپنے گریباں میں جھانکتے ہوئے خود ہی اپنا احتساب کر لے تو یقیناہم جلد ہی اپنے مطلوبہ اہداف کو پالیں گے۔ یہ کا م مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں ۔ اس کے بعد ہر شخص اپنے اہل و عیال ، دوست و احباب اور رشتے داروں کو اس کا درس دے۔ کسی بھی برے کام سے روکنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ افراد کو بُرے کا م کے نقائص سے آگاہ کیا جائے اور زبردستی اس سے رکنے کیلئے نا کہا جائے بلکہ بار بار صرف اچھے کام کو کرنے کو کہا جائے۔اچھے کاموں کے فوائد اور اُن کی اہمیت کو اُجاگر کیا جائے۔
جب معاشرے کا ہر فرد خود ہی اپنی اصلاح کرلے گا تو یقیناپچاس فیصد کام ہو جائے گا۔ باقی کا پچاس فیصد حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ حکومت اپنی اس ذمہ داری سے کیسے عہدہ برا ہوگی، اس کی تھوڑی سے تفصیل ہم یہاں بیان کئے دیتے ہیں۔
آئین میں تبدیلی جو کہ ناگزیر ہے۔
ملکی قوانین میں تبدیلی(سابقہ دفعات کو ختم کر کے مکمل طور پر اسلامی دفعات کو لاگوکیا جائے گا۔) جیلوں میں موجود تمام ملزمان کو رہا کردیا جائے گا اور مجرمان کو سزا دے دی جائے گی۔آئندہ ہر مقدے کا فیصلہ صرف تین پیشیوں میں ختم کردیا جائے گا،قاضی مقدمات کا فیصلہ انصاف اور مساوات سے کریں گے۔
معاشی بہتری کے لئے ماحصولات کے لئے نیا طریقہ اپنایا جائے گا۔پرانے تمام ماحصولات جن میں چوروں نے موروں کو چھوٹ دی تھی واگزار کرائے جائے گے۔ بہت سے ماحصولات کو ختم کردیا جائے گا۔نئے ماحصولات کے لئے اسلاف کے نظام سے استفادہ کیا جائے گا۔ امارت اور غربت کے درمیان فرق کو ختم کرنے کیلئے حکومتی اور نجی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں مسابقت پیدا کی جائے گی اور غیر ملکی ادارے بھی مقرر کردہ حد سے زیادہ یا کم تنخواہ اپنے ملازمین کو نہیں دے سکیں گے۔ اس کا اطلاق بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی اداروں پر بھی ہوگا۔بچت کے نام پر انتظامیہ جو چھوٹے درجے کے ملازمین کے حقوق پر ڈاکا ڈالتی ہے اور خود عیاشی کرتی ہے اس کا سختی سے قلع قمع کیا جائے گا۔ہمیں اندازہ ہے اپنے پیاروں سے دور ذاتی اور ملکی ترقی کے لئے اہم کردار ادا کرنے والے مزدوروں، ہنرمندوں کے ساتھ بیرونِ ممالک میں خاص طور پر ملکی ادارے کیسا سلوک کرتے ہیں ۔ ہم اگر یہاں اس کا تذکرہ کردیں آپ کی آنکھوں سے آنسو نہیں تھمیں گے۔ یہ جو کسی مزدور کی لاش ملک میں آتی ہے اس کے پیچھے نوے فیصد انتظامیہ کی بے حسی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ انتظامیہ کے ان افراد کا جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اُتنی ہی زیادہ ان میں فرعونیت ہوتی ہے بلکہ فراعنہ مصر اگر انہیں دیکھ لیتے تو اپنی فرعونیت سے توبہ کرلیتے۔
(جاری ہے) والسلام
اللہ ہم سب کاحامی و ناصر ہو۔ الھم آمین۔
غیر قانونی درآمدات اور برآمدات کا خاتمہ کیا جائے گا۔صرف اعلیٰ معیار کی اشیاء کی برآمد کی اجازت ہوگی۔ غیر معیاری اشیاء کی برآمدکرنے والے افراد کی املاک کو ضبط کر لیا جائے گا۔ کھانے کی اشیاء اور جانور اُس وقت تک برآمد کرنے کی اجازت نہ ہوگی جب تک ملکی ضرورت کے مطابق ذخیرہ موجود نہ ہوگا اور یہ اشیاء سو فیصد حکومتی جانچ کے بعد برآمد کی جا سکیں گی۔کسی بھی نئے نظام کا اطلاق باہمی مشاورت سے ہوگا۔ اقوام عالم کے ساتھ ہمسری کے لئے اس میں ناگزیر تبدیلیاں بھی وقت کے ساتھ ساتھ مشاورت سے ہوتی رہیں گی۔کسی بھی شے کی درآمد انتہائی ضرورت کے تحت ہی کی جائے گی۔ملکی وسائل کو زیادہ سے زیادہ برؤے کار لایا جائے گااور خود انحصاری کو فروغ دیا جائے گا۔
تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے سارے نظام کو ازسرنو لاگو کیا جائے گاجس کے لئے عالمی معیار کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔تعلیمی نظام سارا قومی زبان میں ہو گا ۔ جو لوگ انگریزی میں ناکام ہونے کی وجہ سے اپنی اعلی تعلیم مکمل نہیں کرسکے انہیں کسی بھی دوسرے مضمون میں امتحان دے کر اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔بچوں کو مدارس نہ بھیجنے پر والدین کو بھاری جرمانہ ہوگا۔ملازمت میں فوقیت ان کو دی جائے گی جو قومی اور مقامی زبان پر عبور رکھتے ہوں گے۔
اساتذہ کی تعلیم اور تربیت کے معیار کو بہتر بنا جائے گا۔ صرف اہل اساتذہ ہی ملازمت جاری رکھ سکیں گے۔ اساتذہ کا مشاہرہ درجہ اوّل میں رکھا جائے گا۔ مدرسہ میں تعلیمی دورانیہ بڑھا دیا جائے گا۔ تعلیم کے ساتھ جسمانی اور دماغی کھیلوں کو فروغ دیا جائے گا ، ہر طالبِ اور اُستاد کے لئے ان کھیلوں کا حصہ بننا لازمی ہوگا۔ سارے ملک میں ایک ہی نصاب اوریکساں طریقہ امتحان ہوگا۔امتحانی پرچے کا۸۰ فیصد معروضی اور ۲۰ فیصد انشائیہ (صرف ایک سوال) پر مشتمل ہوگا۔ نجی ادارے بھی حکومت کا مرتب کردہ نصاب ہی پڑھائیں گے۔ کسی بھی ادارے میں کسی بھی غیر ملکی زبان میں تعلیم نہیں دی جائے گی ماسوائے بطور غیر ملکی زبان کے مضمون کے طور پر اور یہ مضمون دنیا کے تقریباً آدھے سے زیادہ ممالک کی زبانوں پر مشتمل ہوگا۔ ہر زبان کی مخصوص نشستیں ہونگی۔ کھیل کی الگ جامعات ہونگی۔ والدین بچوں کو گھر پر خود تعلیمی مدد فراہم کیا کریں گے کسی بھی بیرونی فرد کی خدمات نہیں لی جا سکیں گی۔ ایسے تمام امدادی ادارے تربیتی اداروں میں تبدیل کردئیے جائیں گے وہاں امدای تعلیمی سہولیات فراہم کرنا جرم ہوگا۔اخلاقی اور ثقافتی تربیت کو خصوصی طور پر نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔ہنر مندی اور حفاظت کے متعلق مضامین کو ابتدائی تعلیم کا حصہ بنایا جائے گا۔

صحتِ عامہ کی بہتری کے لئے مفت سہولیات کی فراہمی کا بندوبست کیا جائے گا۔ علاج معالجہ کا معیار عالمی سطح کا ہوگا۔ غیر معیاری ادویات بنانے اور فروخت کرنے والوں کو قتلِ انسانیت کے برابر سزار دی جائے گی۔ معالجین کو پابند کیا جائے گا کے وہ اپنے پیشے کے تقدس کہ کبھی پامال نہ کر سکیں۔ہر معالج چاہے وہ عورت ہو یامرد کم از کم پانچ سال تک روزانہ آٹھ گھنٹے حکومتی طبی مراکز میں فرائض کی آدائیگی کاپابند ہو گا ۔اُس کے بعد اگر وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونِ ملک جانا چاہے یا نجی مرکزِ صحت بنانا چاہے تو اُسے مکمل آزادی ہوگی۔نجی مراکزِ صحت میں بھی حکومتی مقرر کردہ نرخ سے زیادہ رقم وصول نہیں کی جا سکے گی۔سارا طبی نصاب بھی قومی زبان میں ہی ہوگا۔ تحقیق کرنے والوں اور نئی ادویات متعارف کروانے والوں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔
ملک سے لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کے خاتمے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں گے۔ افراد اور مقننہ کے اداروں کو اسلحہ سے پاک کر دیا جائے گا۔ کسی کو بھی اپنے ساتھ حتیٰ کہ گھر میں بھی اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ ہوگی۔ صرف اور صرف ایک ادارے کے اہلکاروں کے پاس اسلحہ ہو گا اور وہ بھی انتہائی ضرورت کے وقت اس کا استعمال کر سکیں گے۔جب تک سارا ملک اسلحہ سے پاک نہیں ہوجاتا اس ادارے کے لوگ اسلحہ لے کر بازار میں گھوم سکیں گے اُس کے بعد اُن کو بھی اسلحہ سمیت بازاروں میں جانے کی اجازت نہ ہوگی۔ کسی کو اپنے ساتھ اسلحہ بند محافظ رکھنے کی اجازت نہ ہوگی۔ امیرِ ریاست، قاضی القضاء، وزیرِ دفاع اور غیر ملکی ایلچیوں کے محافظ بھی نمائشی اسلحہ لے کر ساتھ نہیں چلیں گے۔
والسلام ۔اللہ ہم سب کاحامی و ناصر ہو۔ الھم آمین۔
تمام ریاستیں دفاع، تعلیم ، صحت، امورِ خزانہ اور امورِ خارجہ کے علاوہ سب معاملات میں خود مختار ہونگی۔ ان تمام امور کی انجام دہی کے لئے ریاستیں علاقائی وسائل سے مناسب حصہ کی ادائیگی مرکزی حکومت کو کریں گی،جس کی شرح مشاورت سے طے کی جائے گی۔تمام ریاستوں میں مکمل طور پر اسلامی قوانین کی پاسداری لازمی ہوگی۔ تمام اقلیتوں کے ساتھ ان کے مذہبی عقائد اور قوانین کے مطابق سلوک ہوگا۔غیر ملکی افراد پر لازم ہو گا کہ وہ مکمل طور پر علاقی تہذیب اور ثقافت کی پاسداری کریں ورنہ انہیں جرمانے اور سزا کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔منشیات ،شراب، جوئے اور فحاشی کے تمام مراکز ہر سطح پر ختم کردےئے جائے گے۔ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے یا غیر ملکی افراد کو ان اشیاء سے کسی بھی سطح پر استفادہ کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔تمام ریاستیں تہذیب اور ثقافت کو اُجاگر کرنے کے لئے نمائشوں اور کھیل تماشوں کا اہتمام موسموں کے بدلنے کے ساتھ کرتی رہیں گی۔نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں میں نمایاں نتائج دکھانے والوں کو مرکزی سطح پر بھی انعامات سے نوازا جائے گا۔کسی بھی نئی تحقیق،دریافت یا ایجاد کرنے والے کو خصوصی مراعات دی جائیں گی اورنا صرف ملکی سطح پر اُس سے استفادہ کیا جائے گابلکہ حکومت اُسے عالمی سطح پر بھی متعارف کروائے گی۔حکومتی منصوبوں کے افتتاح کے لئے امیرِ مملکت یا ریاستی امیر وں کی بجائے علاقے کے نیک لوگوں کو مدعو کیا جائے گا۔حکومتی عہداداروں کی آمدورفت کے دوران کسی قسم کا خصوصی اہتمام نہیں کیا جائے گاتمام لوگ عام شہریوں کی طرح قوانین کی پاسداری کریں گے۔
ہر ملک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات قائم کئے جائیں گے۔تمام ممالک کے ایلچی مقرر کردہ حدود سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کریں گے ورنہ انہیں ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کردیا جائے گا۔ تمام ممالک کی ثقافت اور بولیوں کواپنے ملک میں متعارف کروانے اور اپنی ثقافت کو دوسرے ممالک میں اُجاگر کرنے کے لئے طائفوں کا تبادلہ ہوگااور اُن میں معاشرتی اور مذہبی اقدار کا پورا پورا خیال رکھا جائیگا۔غیر ممالک کے ادیبوں، شاعروں ، اساتذہ ، کھلاڑیوں اور معروف لوگوں کو نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لئے مدعو کیا جائیگا۔اپنے ملک کے مشہور اور معروف لوگوں کو خیر سگالی کے دورے پر تمام ممالک میں بھیجا جائیگا۔کوئی بھی شخص یا ادارہ ذاتی طور پر بیرونِ ملک کسی بھی دوسرے ملک میں ثقافتی یا مذہبی سرگرمیوں کے لئے نہیں جا سکے گا۔
ملک سے باہر موجود ہم وطنوں کو معیاری سہولتوں کی فراہمی کا بندوبست کیا جائیگا۔ہر وطنی بیرونِ ممالک میں موجود سفارتخانوں سال میں ایک بار ضرور حاضر ہوگا۔ملکی وقار کو اہمیت دی جائیگی۔تمام وطنیوں کو دیارِ غیر میں اُس ملک کے قوانین کی مکمل پاسداری کرنی ہوگی جہاں وہ رہتا ہوگا۔بیرونِ ممالک میں کام کرنے والے وطنیوں کے اہلِ خانہ کی نگہداشت ریاستی سربراہ کے ذمہ داری ہوگی۔ اگر کوئی بھی وطنی دیارِغیر میں کسی بھی جرم میں ملوث پایا گیا اُس کو
غیر ملک کی سزا کے علاوہ ملک میں بھی سزا دی جائے گی۔ یہ سزا اُس کے اہلِ خانہ سے ضروری سہولیات کی واپسی کے ساتھ ساتھ جائیداد کی قرقی کی بھی ہوسکتی ہے۔
غیر قانونی طریقہ سے ملک سے باہرجانے والوں کی جائیداد قرق کر لی جائے گی اور اُن کے اہلِ خانہ کو بھی سزادی جائے گی۔ابھی تک جو لوگ غیر قانونی طور پر بیرونِ ممالک میں رہ رہے ہیں وہ ایک سال کے اندر واپس نہ آئے تو اُن کی ملکی شہریت ختم کردی جائے گی۔اُس کے بعد اُن کو ملک میں داخلے کے لئے اجازت نامہ لینا ہوگا۔
ہمارے مندرجہ بالا خیالات آج کے نہیں برسوں پُرانے ہیں یوں سمجھ لیں آشکار کرنے کی اجازت اب ملی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ آپ کے ذہنوں میں ہمارے بارے اور ان منصوبوں کو پورا کرنے کے بارے میں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں ۔ آپ اپنے سوالات کسی بھی طریقے سے پوچھ سکتے ہیں بل واسطہ یا بلاواسطہ ۔ تمام اہلِ وطن بشمول اہلِ دانش کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں اور کچھ بھی پوچھ سکتے ہیں۔ ہم آئندہ پیغام میں اُن سب کے جوابات دیں گے۔
والسلام ۔اللہ ہم سب کاحامی و ناصر ہو۔ الھم آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں