258

وعدہ خلافی کی مذمّت و ممانعت

ﷲ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے آخرت کا نظام یہ رکھا ہے کہ چیزوں کا مہیا ہونا انسان کی خواہشات کے تابع ہوگا، انسان جو چاہے گا فوراً اس کے لیے وہ چیز فراہم ہو جائے گی۔ لیکن دنیا کا معاملہ اس سے مختلف ہے، یہاں انسان ایک چیز کی خواہش کرتا ہے، لیکن وہ اسے بروقت پورا نہیں کرسکتا، وہ ایک چیز کا ضرورت مند ہوتا ہے، لیکن وہ چیز اسے بروقت مہیا نہیں ہوتی۔

اسی لیے انسان ایک دوسرے سے لین دین کا محتاج ہوتا ہے، اس لین دین میں اکثر عہد و پیمان کی نوبت آتی ہے، اس لیے شاید ہی کوئی انسان ہو جس کو زندگی کے مختلف مراحل میں خود وعدہ کرنے یا دوسروں کے وعدے پر بھروسا کرنے کی نوبت نہ آتی ہو۔ وعدہ کرنے والے پر دوسرا شخص بھروسا اور اعتماد کرتا ہے اور بعض دفعہ اس اعتماد پر خود بہت سے معاملات طے کر گزرتا ہے، اس لیے وعدے کی بڑی اہمیت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں