200

بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ درست، مزید مہنگائی کرنا ہوگی، آئی ایم ایف

پاکستان کے معاشی جائزے کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے کہ پاکستان کو مالیاتی پالیسی مزید سخت اور شرح سود بڑھانے کی ضرورت ہے، اعلامیے کے مطابق پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی کی ضرورت ہے کیونکہ بڑھتا ہوا خسارہ، کم ہوتی معاشی ترقی اور زرِمبادلہ کے ذخائر بڑے چیلنجز ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں معیشت کی بہتری کیلیے اٹھائے گئے اقدامات ناکافی ہیں تاہم پاکستان کو ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس آمدن بڑھانے کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے، اسٹیٹ بینک کی خود مختاری مزید بڑھانے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کو مزید مستحکم بنانے کی تجویز بھی دی ہے۔

اعلامیہ میں مزیدکہا گیا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ حکومت کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور محصولات میں اضافے اور نان فائلر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے پاکستان کے دسمبر سے اب تک پالیسی سطح کے اقدامات کی تعریف کی۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان نے روپے کی قدر میں اٹھارہ فیصد کمی کی، شرح سود میں مجموعی طورپر 275 بیسک پوائنٹس اضافہ کیا گیا، حکومت نے اضافی وسائل حاصل کرنے کیلیے ضمنی بجٹ پیش کیا، کاسٹ ریکوری کیلئے بڑے پیمانے پر گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔

حکومت کو ایکسٹرنل فنانسنگ میں بہتری کیلئے جلد اضافی پالیسی ایکشن لینے کی ضرورت ہو گی، پاکستان کو شرح مبادلہ میں مزید لچک دکھانا ہو گی، مانیٹری پالسی کو مزید سخت کرنا ہوگا، درمیانی مدت کی سٹریٹجی میں مزید فسکل ایڈجسٹمنٹ کرنا ہونگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں