184

سیلفی اور سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال سے کیا تحقیق سامنے آئی ؟

سوانسی یونیورسٹی اور اٹلی کی میلان یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر 74 افراد کو شامل تحقیق کیا جس میں 18 سے 34 سال کے افراد شامل تھے اور چار ماہ تک ان کا مطالعہ کیا گیا۔
اب ان میں سے جن افراد نے سوشل میڈیا کا بے دھڑک استعمال کیا اور تصاویر زیادہ پوسٹیں کیں ان میں خود پرستی اور نرگسیت کے رجحانات میں 25 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔ واضح رہے کہ نرگسیت ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان خود کو اہم سمجھتا ہے اس میں خودنمائی کے رجحان اور عہدے کے لالچ میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی عادت ہوجاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا مثلاً ٹویٹر پر تحریر اور دیگر لنکس پوسٹ کرنے والے افراد میں نرگسیت نہیں دیکھی گئی تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے نرگسیت دھیرے دھیرے بڑھتی ہے اور وہ دن میں کم سے کم تین گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں تاہم بعض نے کہا کہ وہ اپنی ملازمت سے ہٹ کر روزانہ آٹھ گھنٹے تک سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔

مطالعے کے اختتام پر سوان سی یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات پروفیسر فِل ریڈ کہتے ہیں کہ جو اپنی یا دوسروں کی تصاویر والی پوسٹ زیادہ شیئر کرتے ہیں ان میں نرگسیت اور خودپرستی کا جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں