78

عید تو بچپن کی ہوتی تھی۔۔۔تحریر : ارشد قریشی

عمر کے ساتھ ساتھ بچپن کی خوشیاں بھی ماند پڑتی رہتی ہیں کچھ تبدیلیاں آپ کو اپنی ذات میں محسوس ہوتی ہیں جبکہ کچھ زمانے میں بھی محسوس ہوتی ہیں اسی طرح بچپن کی عید کا مزہ ہی کچھ اور تھا جس کی تیاریاں نصف رمضان سے ہی شروع کردی جاتی تھیں جس میں کپڑے، جوتے، چشمے۔،رومال اور عطر وغیرہ شامل ہوتے تھے جبکہ بچیاں کپڑوں اور جوتیوں کے ساتھ ساتھ جیولری اور میک اپ کا سامان بھی خریدتی تھیں اور سہیلیوں کا تمام رات ایک دوسرے کے ہاتھوں میں مہندی لگانا بھی جاری رہتا تھا۔ دوست ایک دوسرے کو تحفے بھی شوق سے دیا کرتے تھے عید سے ایک دو دن قبل گھروں دکانوں کا صاف ستھرا کرکے سجایا جاتا تھا برقی قمقمے لگائے جاتے تھے بچوں میں عیدی تقسیم ہوتی تھی تو محلے کے بچوں کا اس طرح مجمع لگ جاتا تھا گویا سب کے سب ان کے اپنے بچے ہوں اور بچے بھی اس طرح عیدی کے منتظر ہوتے تھے جیسے وہ اپنے گھروالوں سے عیدی لے رہے ہیں عیدے لینے کے بعد بچے نہایت ادب و احترام سے عید مبارک کہتے تو دل خوشی سے جھوم جاتا تھا۔

اہل محلہ ایک ساتھ مل کر عید گاہ نماز کے لیئے جایا کرتے تھے اسی دوران گھر کی خواتیں گھروں کو صاف ستھرا کرکے دروازوں سے بچوں کی واپسی کا انتظار کرتی تھیں عید کے تینوں دن بچوں کے درمیان کھیلوں کے انعامی مقابلے کروائے جاتے تھے مٹھائی کی دکانوں پر رنگ برنگی مٹھائیاں سجائی جاتی تھیں بندر نچانے والے اور اونٹ کی سواری کرانے والے بھی جوق در جوق گلی محلوں کا رخ کرتے تھے جبکہ رنگ برنگے غبارے بیچنے والے بھی بڑی تعداد میں محلوں کا رخ کرتے تھے ، بچے اپنی عیدی کو بار بار گن کر ایک دوسرے کو بتاتے تھے کہ انھیں کتنی عیدی ملی عید کے دن وہ اپنے آپ کو امیر ترین انسان سمجھتے تھے ایک روپیہ عیدی سے اب بات سو ، پانچ سو سے ہزار تک پہنچ گئی لیکن یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ جو ں جوں آپ کی عمر بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ آپ کو ملنے والی عیدی بھی کم ہوجاتی ہے اور ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ آپ کی عیدی تو سرے سے ہی ختم ہوجاتی ہے لیکن عیدی بانٹنے کی رقم کافی بڑھ جاتی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ عید کی خوشیاں ماند پڑتی گئیں اور یہ صرف ایک تہوار رہ گیا جس میں عید گاہ میں نماز پڑھنا اور لوگوں سے گلے ملنا ہی اب تک باقی ہے اس کے بعد شہروں میں تو زیادہ تر لوگ عید تمام دن سو کر ہی گزارتے ہیں گاؤں دیہاتوں میں کئی جگہوں پر اب بھی عید کی خوشیاں اسی طرح نظر آتی ہیں لیکن شہروں میں ایسا بہت کم ہی نظر آتا ہے۔

جہاں یہ سب تفریحات دیکھنے کو ملتی تھیں وہیں فلم بینوں کے ایک بڑی تعداد سینیماوں کا رخ بھی کرتی تھی یا پھر پی ٹی وی پر نشر ہونی والی عید ٹرانسمیشن سے لطف اندوز ہوتے تھے پروگرام تو پروگرام جناب مختلف کمپنیوں کے چلنے والے تہنیتی اشتہارات بھی دل موھ لیتے تھے جیسا کہ بابو بیٹری بنانے والوں کی جانب سے اہل وطن کو عید مبارک قبول ہو، ریشماں صابن، میٹرو ملن اگربتی، دربار سیوئیاں ،باٹا شوز،سروس شوز وغیرہ وغیرہ کے خوبصورت اشتہارات جو آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہیں وقت کے ساتھ ساتھ نہ جانے ایسے اشتہارات بھی کہیں کھوگئے۔ عیدالفطر سے قبل رمضان کے تینوں عشروں میں روح پرور پروگرام نشر کیئے جاتے تھے جسے دیکھ کر ایمان تازہ ہوجاتا تھا مکہ اور مدینے سے براہ راست نماز تراویح دیکھائی جاتی تھی ، آہ ! کیا خوبصورت وقت تھا کتنا پر امن کتنا بھائی چارہ اورکتنی شرم و حیا اور ادب و اخلاق ہوا کرتا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں