60

ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دیکر واپس لے لیا.

ریڈیو رپورٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی کارروائی کے اپنے حکم کو واپس لے لیا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز خلیجی ریاست اومان کے توسط سے ایران کو حملوں کی وارننگ دی ہے۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا جنگ نہیں چاہتا بلکہ بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ جن ثالثوں نے امریکی پیغام خامنہ ای تک پہنچایا ان کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر نے بات چیت کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کی کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

دوسری طرف مختلف فضائی کمپنیوں نے مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی فضائی گزر گاہ کا استعمال بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پابندی سے شمالی امریکا سے ایشیا جانیوالے پروازیں بھی متاثر ہونگی۔ادھر سعودی وزیر خارجہ عادل الجیر کا کہنا ہے کہ اگر
ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کیا تو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، جرمن چانسلر نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کا سیاسی حل ممکن ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکی مسلح افواج کو ایران کو منہ توڑ جواب دینے کے اپنے ابتدائی حکم کو واپس لے لیا ہے۔ جس میں ایران کے ریڈار اور میزائل بیٹریزکو نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ امریکی افواج نے اپنے صدر کے حکم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی تھیں، جنگی طیارے فضا میں طبل جنگ بجا رہے تھے اور جنگی بحری بیڑے نے پوزیشن سنبھال لی تھیں کہ صدر نے حکم واپس لے کیا تاہم فوجی کارروائی کا حکم واپس لینے کے مراسلے میں کوئی وجہ تحریر نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق کچھ آگاہ کیا گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں