51

عمران خان کا واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب ملک میں طاقتور کا احتساب شروع ہو چکا ہے. ارشد قریشی

رپورٹ ارشد قریشی

امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل ون ایرینا میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں طاقتور کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشکل وقت ہے جو چند ماہ یا سال بھر تک رہے گا لیکن ہم ملک کو مشکل سے نکال کر دکھائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے تاجروں کو پاکستان کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کے لیے رجسٹرڈ ہونا پڑے گا اور ٹیکس دینا پڑے گا، 10 سال پہلے پاکستان کا قرضہ چھ ہزار ارب روپے تھا جو 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، ہمیں گذشتہ دو حکومتوں سے یہی پیسہ واپس لینا ہے۔

وزیر اعظم کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’پاکستانی باصلاحیت ہیں لیکن میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے انھیں پاکستان میں مواقع نہیں ملتے۔ ہمیں میرٹ کا سسٹم بحال کرنا ہے۔ خاندانوں کی سیاست اور جاگیر دارانہ نظام ختم ہوگا تب ہی میرٹ آئے گا۔

انہوں نے کہا پاکستان میں معدنیات کے اربوں ڈالر کے ذخیرے موجود ہیں۔ ’ہمارے ملک میں اربوں ٹن کوئلہ موجود ہے۔ یہاں تو سو سال تک بجلی کی کمی ہونی ہی نہیں چاہیے۔ بڑی کمپنیاں پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے نہیں آتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جن کمنپیوں سے بھی ملے ہر کمپنی یہی کہتی ہے کہ ہم سے رشوت مانگی جاتی ہے لیکن اب کمپنیاں پاکستان ضرور آئیں گی۔ہم پہلی بار سرکاری اسکولوں میں ایک نصاب لانے کی کوشش کررہے ہیں، مدرسوں کی تنظیموں سے معاہدہ کرکے مدرسے کے بچوں کو عصری علوم دینے کا کام جاری ہے تاکہ وہاں سے بھی ڈاکٹر و انجینئر بنیں کیوں کہ 25 لاکھ بچے مدرسے میں جاتے ہیں۔

عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان میں کرپشن پر بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں کیوں نکالا؟ دراصل یہ نیا پاکستان بن رہا ہے۔ یہ ہے تبدیلی، کبھی پاکستان میں طاقتور کا احتساب نہیں ہوا۔ وزیر اعظم نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بیرون ملک سے سفارشیں کرائی گئیں، ایک بادشاہ نے بھی سفارش کی، اگر ہم نے طاقتور کا احتساب کر دیا اور بے نامی جائیدادیں ضبط کرلیں اور بیرون ملک گیا پیسہ واپس لے آئے تو یہی ہے وہ وقت جب پاکستان بدلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کہتے ہیں جیل کا کھانا اچھا نہیں ہے، ایئرکنڈیشنر لگا دو، اب ٹی وی چاہیے، اگر یہی سب کچھ جیل میں دینا ہے تو یہ سزا تو نہیں ہوئی، ایئرکنڈیشنر اور ٹی وی جیل سے نکالیں گے جس پر مریم بی بی بہت شور مچائیں گی۔

سابق صدر آصف زرداری پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’دیکھ رہا ہوں کہ وہ جیل جاتے ہی ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ آپ کو بھی ہم جیل میں رکھیں گے جہاں ٹی وی اور ایئرکنڈیشنر نہیں ہوگا۔

عورتوں کے حقوق کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افسوس سے کہتا ہوں کہ دیہات میں آج تک خواتین کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ایک قانون لے کر آ رہے ہیں جس میں خواتین کو جائیداد میں حصہ دینا پڑے گا۔ خواتین کو حقوق دینے کا تصور بھی ریاست مدینہ نے دیا۔ ریاست مدینہ ایک جدید ریاست تھی جو جدید اصولوں پر استوار تھی۔

انھوں نے امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے درخواست کی کہ یہاں موجود لوگ اپنے بچوں کو پاکستان بننے کا مقصد بتائیں کہ اسے ایک اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا جو کہ مدینہ کی ریاست تھی جو کہ قرآن و سنت کے اصولوں پر مبنی تھی۔

انھوں نے ملک میں کھیلوں کے فروغ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈکپ کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگلے ورلڈکپ میں بہترین ٹیم لے کر آئیں گے اور اسی طرح دیگر کھیلوں پر بھی توجہ دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں