117

ڈونالڈ ٹرمپ اور عمران خان آمنے سامنے. ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

تحریر : ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان 22جولائی کو واشنگٹن میں امریکی حکومت کے مرکز واہٹ ہاوس میں پہلی مرتبہ آمنے سامنے تھے۔یہ دعوت امریکہ کے صدر نے از خود دی تھی، پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے بارے میں منفی خیالات رکھنے والا شخص جو دنیا کے طاقت ور ملک کا صدربھی ہے پاکستان کے وزیر اعظم کا میزبان ہوا۔ عمران خان کے ذہن میں امریکہ سے کسی بھی قسم کی امداد طلب کرنا نہیں تھا بلکہ وہ برابری کی سطح پر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات چاہتا تھا۔ صدر ٹرم کے ذہن میں ممکن ہو یہ بات گردش کررہی ہو کہ عمران خان بھی امریکہ سے اپنی بگڑتی معاشی صورت حال پر مدد کا مطالبہ کرے گا لیکن صدر ٹرمپ نے عمران خان کے تیور، چال ڈھال، انداز دیکھے تو اپنی ذہنی سوچ کو فوری بدل لیا،وہ سمجھ گیا کہ یہ بندہ سابقہ پاکستانی حکمرانوں جیسا نہیں، یہ خود دار ہے، بلاصلاحیت ہے، سچ گو ہے، دو ٹوک بات کرے گا۔ عمران خان کی باڈی لینگویج بھی بتارہی تھی کہ وہ امریکہ کے سامنے جھکنے،گرنے، خوشامد کرنے والا نہیں، ایک روز قبل ہی اس نے واشنگٹن کے ارینا اسٹیڈیم میں ہزارو پاکستانی امریکن کے سامنے کہا تھا کہ ان کا لیڈر اپنی قوم کو مایوس نہیں کرے گا، وہ پاکستان کا سودا نہیں کرے گا، صدر ٹرمپ کو امداد کی اپیل نہیں کرے گااور اس نے ایسا کر دکھایا، صدر ٹرمپ حیران، امریکی حکومتی ارکان حیران اور عوام خوش۔ اللہ کا شکر کہ پاکستان کو ایک ایسا لیڈر میسر آیا جو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پاکستانی قوم کا مقدمہ رکھ سکتا ہے، وہ ٹرمپ کے سامنے سینا تان کر بیٹھ سکتا ہے، اسے اپنی بات بغیر پرچیوں کے، بغیر مشیروں کی مدد کے سمجھا سکتا ہے۔ یہی ہوا اس نے ٹرمپ کو قائل کر لیا، ٹرمپ قائل ہوگیا، وہ پاکستان کی اہمیت سمجھ گیا،اسے احساس ہوگیا کہ اسلام آباد کبھی جھوٹ نہیں بولتا، اس کو احساس ہوگیا کہ امریکہ کو افغانستان کی دلدل سے پاکستان ہی آزاد کراسکتا ہے۔ یہ عمران خان کی بے باکی، دانشمندی ہی تھی کہ ٹرمپ نے اپنے دل کی بات اگل دی کہ ”مودی سے بات ہوچکی کشمیر پر ثالثی کر سکتا ہوں“۔

ساری باتیں ایک طرف صدر ٹرمپ کی اس بات نے پاکستان کے دشمن ملک بھارت میں بھونچال آگیا، بھارتی حکومت کے عہدیدار حیران، حزب مخالف چراغ پا، احتجاج اور شور، واویلا، میڈیا میں طوفان آیا ہوا ہے۔ یہ سب کچھ عمران خان نے نہیں کیا بلکہ عمران خان کا وہ مثبت رویہ تھا، وہ متاثر کن گفتگو تھی، تحمل مزاجی تھی، پر اثر سوچ کا اظہار تھا جس نے صدر ٹرمپ کو سچ اگلنے، بھارت کے اندر کی صورت حال کا اظہار کرنے پا آمادہ کیا۔ کشمیری کا مسئلہ تو عمران نے اٹھانا ہی تھا وہ تو خود صدر ٹرمپ نے اٹھادیا، اس نے ثابت کردیا کہ کشمیر میں بھارت ظلم و زیادتی کررہا ہے، اس کا ظلم سالوں سے کشمیریوں پر ہورہا ہے۔صدر ٹرمپ کے اس بیان سے اندازہ لگانا مشکل نہیں نریندر مودی کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ ایک مثبت بات ہے، اس کی تعریف کرنی چاہیے کہ دیر آید درست آید، اگر بھارتی حکومت امریکہ صدر ٹرمپ کی ثالثی میں کشمیر کو آزادی دے دیتی ہے، تو اس سے بڑھ کر اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ کشمیری رہنماؤں نے بھی صدر ٹرمپ کی اس بات کو مثبت قرار دیا اور عمران خان کی کشمیر پالیسی کی تعریف کی۔ عمران خان کے امریکی دورہ کی سب اہم کارکردگی مسئلہ کشمیر پر صدر ٹرمپ کی ثالثی ہے۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستانی کو دی جانے والی امریکی امداد جو سابقہ حکومتوں کے ادوار میں بند ہوگئی تھی اس کی بحای کی بھی بات کی، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کے لیے امریکی امداد بندہوئی اس وقت عمران خان وزیر اعظم نہیں تھے۔ یہ بھی ایک مثبت پیش رفت ہے پاکستان کے لیے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستا ن میں پاکستان کے کردار کی بھی تعریف کی اور اسے سراہا، پاکستان سے بہتر تعلقات کی بات کی، دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کی بات بھی ہوئی، ٹرمپ نے پاکستان کا دورہ کرنے پر کہا کہ اسے دعوت ملی تو وہ ضرور پاکستان جائیں گے۔ عمران نے اپنے ایک انٹر ویو میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر شکیل آفریدی پر بھی بات کی۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ایک عظیم ملک، عمران خان کو پاکستان کو مقبول ترین وزیر اعظم قرار دیا، اور پاکستانی عوام کو باصلاحیت جیسے القابات سے نوازا۔

مجموعی طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا دورہ امریکہ کو کامیاب قرار دیا جارہا ہے، بیرونی دنیا کا میڈیا سوائے بھارت کے اس دورہ کو پاکستان کی عمدہ خارجہ حکمت عملی قرار دے رہی ہے۔ اندرون ملک ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرئ مین بلاول بھٹو زرداری نے مثبت ٹوئیٹ کے ذریعہ عمران خان کے دورہ کو پاکستان کے لیے مثبت قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ باوجود اس کے کے انہیں تحفظات ہیں لیکن پاکستان کے مفاد میں یہ دورہ کامیاب دورہ ہے۔ بلاول کا یہ عمل ان کے سیاسی بلوغت کا ثبوت ہے، وہ ایک خاندنی سیاست داں ہے، انہوں نے دیگر جماعتوں کے سیاستدانوں کی طرح بخل سے کام نہیں لیا۔ فراغ دلی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے برعکس نون لیگ اور مولانا صاحب، اسفند یار ولی جیسے روائیتی سیاست دانوں نے چپ سادھے رکھی بلکہ اس کی منفی باتوں کو اجاگر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے یہ دورہ بحیثیت عمران خان نہیں کیا بلکہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے تشریف لے گئے۔ اس دورہ کے ثمرات اگر ہوں گے تو اس سے پورا پاکستان فیضیاب ہوگ، پاکستان کو فائدہ پہنچتا ہے تو گویا پاکستانی عوام فیضیاب ہوں گے۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے، ہمیں آزاد ہوئے 70 سال سے زیادہ ہوگیا، سیاست دانوں کی اکثریت نے ستر کی دہائی اور اس کے بعد کی سیاست کو دیکھا ہے۔ اقتدار آنی جانے چیزیں ہیں، انسان فانی ہے، ہمیشہ اقتدار نہیں رہنا۔ مثبت سیاست کی جانب آئیں، پاکستانی عوام بھی بہت باشعور ہیں، وہ بھی سیاست اور سیاست دانوں کو گزشتہ ستر سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اچھی بات کو اچھا کہنے میں کوئی برائی نہیں، اس سے آپ کو وقار بلند ہوتا ہے، اچھائی کو بھی خرابی کہنے سے آپ ہی کا امیج خراب ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں