42

آج کے بچوں کی اخلاقی تعلیم و تربیت ضروری ہے۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر۔۔۔ پیر سید سہیل بخاری

ہم آپ کو صحیح صحیح ان کا قصہ سناتے ہیں وہ چند نو جوان تھے جو اپنے رب تعالیٰ پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کا مرتبہ ہدایت میں اور بڑھا دیا اور ان کے دلوں پر ہم نے صبر و استقامت کی گرہ لگا دی جب وہ اعلان حق کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا رب تعالیٰ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی دوسرے معبود کو ہر گز نہیں پکاریں گے۔اگر ہم ایسا کریں تو گویا ہم نے بڑی ہی بیجا بات کہی۔ یہ ہماری قوم کے لوگ جہنوں نے اس اللہ کے سوا اور کئی معبود بنا رکھے ہیں بھلایہ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل پیش نہیں کرتے سو جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے اس سے زیادہ کون ظالم ہے اور جب تم نے ان کو اور جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے ہیں چھوڑدیا تو غار میں چل رہو جہاں تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلادے گا اور تمہارے کام میں سہولت پید ا کر دے گا اور تم سورج کو دیکھتے ہو جب طلوع ہوتا ہے تو ان کی غار سے اپنے ہاتھ کی طرف بچتا ہوا جاتا ہے اور جب غروب ہو تا تو ان سے بائیں ہاتھ کی طرف کترا کر نکل جاتا ہے اور وہ اس کے بیچ میں تھے۔ (یہ چیز) اس سکے عجائبات قدرت میں سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے بہرہ مند کرے وہی ہدایت پاتا ہے اور جسے گمراہ کرے تو تم اس کیلئے کوئی دوست رہنما نہ پاؤ گے۔

طلباء و طالبات کی اخلاقی تعلیم و تربیت کرتے وقت اساتذہ اور والدین کو اس بات کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے کہ طالبعلم اس دنیا میں جو کچھ سیکھتا ہے اس میں والدین اور اساتذہ کے طرز عمل کا حاصل د خل ہوتا ہے۔ لہذا طالبعلم کے سامنے والدین اور اساتذہ اچھے طرز عمل کا عملی مظاہرہ کریں تاکہ ان کی اخلاقی تعلیم و تربیت پر مثبت اثر پڑے۔ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے آپس میں ہر گز کسی بحث و تکرار اور جھگڑے والی باتیں نہ کریں اس سے ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہو جاتے ہیں ان کے سامنے کبھی بھی اپنے بہن، بھائیوں، رشتہ داروں اور دوستوں کی برائی ہر گز نہ کریں ان کے سامنے کسی کی بات کا مذاق نہ اڑائیں۔ ہمیشہ اپنے رشتہ داروں عزیر و اقارب کیلئے تعریفی جملے استعمال کریں تاکہ ان کے ذہن میں مثبت خیالات جنم لیں اور و ہ اپنے رشتہ داروں، دادا، دادی، نانا،نانی کے بارے میں اچھے خیا لات اور پیار بھرے جذبات رکھیں۔ اساتذہ کبھی اپنے ساتھی اساتذہ کے بارے میں منفی جملوں کا انتخاب نہ کریں اس سے طالبعلم کی شخصیت متاثر ہوتی ہے اور دوسرے استاد کے بارے میں اس کے مثبت خیالات منفی میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔طالبعلم کے اچھے مستقبل کا دارومدار والدین اور اساتذہ کیلئے لازم ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ سخت سلوک ہر گز نہ کریں بچوں کوگھر میں نبی پاک ﷺ کی بچوں سے محبت کے قصے سنائیں اس سے بچوں کے دل میں ہمارے پیارے رسول پاک ﷺ کی محبت پیدا ہوگی۔ طالبعلموں کو وطن سے محبت اور حب الوطنی کا درس دیں طالبعلموں کی تعلیم و تربیت کیلئے تفریحی سرگرمیوں کے مواقع فر اہم کرنا بھی ان کیلئے مثبت پہلو ثابت ہو تا ہے۔ طالبعلم کی حوصلہ افزائی کریں طالبعلم میں خود اعتمادی پیدا کریں اور سخت الفاظ بولنے سے اجتناب کریں۔

طالبعلم کی سکول /کالج /یو نیورسٹی میں کامیابیوں پر اسکی حوصلہ افزائی کریں طالبعلم گھر میں کوئی بھی کارنامہ سر انجام دے تو اس کو شاباش دیں اسکو اپنے دل کی بات صاف صاف اور بلا خوف کہنے دیں اسکی طبعیت کے بر عکس سختی اور زبر دستی سے کام نہ کروائیں۔

حضرت نعمان ؓ سے روایت ہے کہ میرے والد بشیر ؓ مجھے اپنے ساتھ لئے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ
“اے رسول اللہ ﷺ میرے پاس ایک غلام تھا جو میں نے اس لڑکے کو بخش دیا حضور ﷺ نے پوچھا کیا اپنے سب لڑکوں کو دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تب رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا اس غلام کو واپس لے لے ” آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ “اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں مساوات اور برابری کا معاملہ کرو” میر ے والد گھر آئے اور انہوں نے غلام واپس لے لیا۔

طالبعلموں کی اخلاقی تعلیم و تربیت اور تعمیر شخصیت میں والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ پر بھی بھاری ذمہ داریاں عائد ہیں پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے انگریزی اور اردو میڈیم اسکولوں میں صبح کے وقت کلاسز شروع ہونے سے پہلے مجلس (اسمبلی)منعقد کی جاتے ہے جس میں تلاوت قرآن پاک، نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانہ ہوتا ہے اس سے طالبعلموں کی اخلاقی تربیت ہو تی ہے اور ان کو و قت کا پابند بناتی ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول مبارک ہے: دنیا میں سب سے خوبصورت پودا محبت کا ہوتا ہے جو زمین میں نہیں دلوں میں اُگتا ہے
رسول پاکﷺ کا فرمان ہے: “جس گھر میں بچے نہ ہوں اس میں برکت کہاں! خدا کے محبوب بندے وہ ہیں جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا۔
بچوں کی بد تمیزی اور نافرمانی کا سبب عموماََ والدین کے گناہ ہوتے ہیں اللہ کریم کے ساتھ اپنا معاملہ درست کریں اور اپنے بچوں کو رزق حلال کھلائیں تا کہ آپکے بچے آپکے تا بعدار ہوں اور استاد کی عزت و تکریم کرکے اپنے مستقبل کو چار چاند لگائیں کیونکہ بچوں کے تا بناک مستقبل کیلئے والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔
رسول پاکﷺ کا فرمان ہے کہ:
جب تک کوئی شخص اپنے ماں، باپ،بیٹے اور سب لوگوں سے زیادہ مجھے پیار ا اور محبوب نہ بنا ئے اس وقت وہ مومن نہیں ہو سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں