34

نئے پاکستان نے عوام کی چیخیں نکال دیں۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر : پیر سید سہیل بخاری

نیا پاکستان میں ایک سال سے دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں عوام کی دودھ پی پی کر چیخیں نکل گئی ہیں کیونکہ یہ دودھ صرف طفل تسلی والے خالی فیڈر کی مانند ہیں مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سونامی روزانہ جہاں بجلی کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں وہاں پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھور ہی ہیں صرف ایک پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھتی بلکہ ہر گھر یلو اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور یہ نیا پاکستان کیسا نیا ہے؟ کہ سبزی کی کوئی بھی آئٹم ایک سو روپے کلوسے کم نہیں پہلے دالوں کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر تھیں اب سبزی کی قیمت پاکستان جیسے زرعی ملک میں بے بس ہو گئی ہیں۔

ہر نئی حکومت کا وطیرہ ہے کہ جانے والی حکومت کو کرپٹ ثابت کرنے کی کوشش میں اپنے 5سال اقتدار کو ختم کرکے پھر نئے الیکشن کی طرف چل پڑتے ہیں اور آج تک کبھی کسی سیاستدان یا حکمران کو پاکستان میں کرپشن کے سلسلے میں سزانہیں ہوئی۔
پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری و ساری ہے نیب دھرا دھڑ سیاست دانوں کو وی آئی پی پرو ٹوکول اور تمام لگژ ری سہولتیں میسر ہیں۔ ایک سیاسی پارٹی کے سینئر رہنما نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ کوئی بھی سیاست دان جس نے کرپشن کی ہوگی وہ کبھی بھی نیب کے ساتھ پلی بارگینگ نہیں کرے گا اگر وہ کرے گا تو کر پٹ ثابت ہو جائے گا اور اس کی ساری زندگی کرپشن کے لیبل پر گزر جائے گی وہ نہ تو سیاست میں حصہ لے سکا اور نہ کوئی الیکشن لڑ سکے گا نیب نے آج تک جتنے بھی سیاست دان یا افسر گرفتار کئے ہیں ان سے کرپشن کی کوئی رقم بر آمد کی ہے؟نہیں!ایسا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا سوائے پبلسٹی کے کہ فلاں کرپٹ ہے فلاں نے اتنی کرپشن کی ہے الزام ثابت نہیں کر سکا یہ ڈرامہ کب ختم ہوگا ایک سال کا لمبا عرصہ گزر چکا ہے اور خزانہ میں سوائے خالی تالی بجنے کے کچھ بھی نہیں آسکا۔

تحریک انصاف کے رہنما پرانے قرضوں پر ہر وقت شور مچاتے رہتے ہیں نئے قرضوں کے حصول کیلئے اسلامی برادر ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے ہاتھ پھیلا رہے ہیں ان نئے قرضوں کی وجہ سے مہنگائی کا سونامی تباہی اور بربادی پھیلا رہاہے لیکن نیا پاکستان کے حکمرانوں کو اس اذیت ناک مہنگائی سے کوئی غرض نہیں ہے۔

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں اس سے حکمرانوں کو کوئی غرض نہیں ہے کہ سٹاک ایکسچینج مندی کا شکار ہے حالانکہ کسی بھی ملک کے کاروباری نظام کا تعلق سٹاک ایکسچینج سے براہ راست ہے مگر نیا پاکستان کے حکمرانوں کو کیا لینا دینا۔ عوام جائے جہنم میں آخر یہ کب تک ہو گا عوام کو کب سکھ کا سانس نصیب ہوگا۔

ریاست مدینہ کے حکمرانوں کیلئے ایک عام فیملی کا ماہانہ خرچہ اور آمدن کی تفصیل اس طرح ہے کہ ایک مزدور کی تنخواہ 15000روپے اور اس کے گھر کے اخراجات تقریباََ 50ہزار روپے کا تخمینہ ہے اس طرح ہر ایک شخص جو اس وقت ریاست مدینہ میں رہ رہا ہے اس کو ہر ماہ تقریباََ 35ہزار سے 45ہزار روپے قرض اٹھا کر اپنی اور فیملی کی سانسیں بحال رکھنا پڑتی ہے۔
آخر کب تک عوام مہنگائی کے سونامی کو برداشت کر پائیں گے گردشی قرضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ایک بڑے مسلہ کی صورت میں سامنے آرہا ہے کہ بجلی کی قیمتیں ہر ماہ بڑھائی جارہی ہے جو کہ عوام پر ایک ایسا بوجھ ہے جس کو برداشت کرتے کرتے وہ غربت کی لکیر کے نیچے دبتے چلے جارہے ہیں۔ نیا پاکستان سے پاکستان کے عوام کو بہت امیدیں تھی مگر اب ایسے لگتا ہے کہ نیا پاکستان کے حکمران بھی روایتی حکمران ثابت ہورہے ہیں اور پرانے پاکستان کے بقول نیا پاکستان کے حکمران کرپٹ لیڈروں اور افسرو ں کو صرف قید کرسکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں