47

خفیہ باغی سینیٹر ز کی تلاش

تحریر ۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

بات اصل میں خفیہ باغی سینیٹرز کی کرنا تھی۔ تلاش کمیٹیوں نے کام شروع کردیا ہے،پہلی تو یہ تحقیق کی جانی چاہیے کہ دونوں پارٹیوں نے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں ان میں تو کہیں ’خفیہ باغی‘موجود نہیں، لگتا نہیں کہ یہ کمیٹیاں باغی سینیٹرز کی نشاندھی کرسکیں گی۔ ان باغی سینیٹرز کا ضمیر از خود کسی وقت جاگے گا اور وہ ایک ایک کرکے یا با جماعت ایوان بالا کے باہر ہنگامی پریس کانفرنس کر کے سینہ ٹھوک کر اعلان کریں گے کہ ہاں ’ہم باغی ہیں‘، ہاں ہم باغی ہیں‘۔ بات یہاں تک نہیں رہے گی بلکہ وہ از خود ان وجوہات کوبھی بیان کریں گے جن کے باعث انہوں نے اپنے سیاسی پنڈتوں کو ایسا چکمہ دیا کہ ان کے ہوش اڑا کر دکھیے۔

ایوان بالا (سینٹ)کے اراکین، صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین کے منتخب کردہ اور متعلقہ سیاسی جماعتوں کے محبوب ترین، قریب ترین، چہیتے ہوتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ ان میں سے  بعض اپنی مالی جاہ وجلال، تمکنت اور طمطراق کے زور پر سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے نور نظر بن کر اس عہدہ پر براجمان ہوتے رہ ہیں۔ ایسے سینیٹر اس وقت بھی موجود ہیں جن کا سیاسی قد کاٹھ صفر ہے، وہ عالم فاضل بھی نہیں، دینی یا دنیاوی تعلیم میں اعلیٰ و افضل بھی نہیں، بس دولت کی ریل پیل نے انہیں اپنے نام کے ساتھ سینیٹر کا لاحقہ لگانے کا شوق ہوا، سیاسی جماعتوں کو ایسے صاحب ِثروت لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو مشکل وقت میں اپنی لمبی لمبی گاڑیوں میں سیاسی جماعت کے لوگوں کو گما تے پھرے، اپنے جہازوں میں اِدھر سے اُدھر لے جائیں۔ ماضی میں بھی ایسے لوگ منتخب ایوانوں تک آسانی سے پہنچتے رہے ہیں، یہی صورت حال مخصوص نششتوں پرنامزد ہونے والے احباب و خواتین کی بھی ہوتی ہے، خواتین جنہوں نے کبھی کسی اجلاس میں تقریر کرنا تو دور کی بات ایک لفظ نہیں بولا وہ سینیٹراور قومی اسمبلی کے رکن ہونے کے مزے لیتی رہتی ہیں۔ ہمارا ملک جو تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اس میں اقربا پروری، ذاتی ضروریات اورخواہشات، میرٹ کا قتل بنیادی وجوہات ہیں۔ موروثیت نے رہی سہی کثر پوری کردی، حالانکہ اقتدار نے تو باپ نے بیٹے کو، بیٹے نے باپ، بھائی نے بھائی کو قتل کرایا ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں طاقت کا سرچشمہ دولت، آبائیت رہی ہے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ایک کو اپنابھائی، اپناباپ،بیٹا، بیٹی، بھتیجے، بھانجے، پاتے،پوتیاں، نواسے نواسیاں یہاں تک کہ دورپرے کے عزیز سب سے زیادہ اہل نظر آتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ تو یہی بتارہی ہے، کم از کم جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے۔ ایوب خان سے پہلے کا حال تو خواب سا ہے لیکن ایو ب خان صاحب کے اقتدار میں ان کے بیٹے گوہر ایوب خان صاحب جواُس وقت جوانی کے نشے میں تھے ملک میں ایوب خان کا نہیں ان کا طوطی بول رہا تھا، میں کراچی کے حوالے سے بات کررہا ہوں۔ بھٹو خاندان کی بھی یہی صورت ہے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں،بڑے بھٹو صاحب کو اپنے کزن ممتاز بھٹو میں خوبیاں ہی خوبیاں نظر آئیں،اس وقت بچے چھوٹے اور سیاست کی جانب ان کی توجہ نہیں تھی، شہید بے نظیر بھٹو نے شادی کے بعد اپنے شوہر کو کنٹرول کیے رکھا، وہ سارے کام کرتے رہے پر سیاست میں اعلانیہ داخل نہیں ہوئے، شہادت کے بعد جو ہوا وہ تو ہونا ہی تھا، بلاول کو عمر سے پہلے ہی بھاری ذمہ داری سونپ دی گئی، بڑے میاں صاحب اور چھوٹے میاں صاحب کا بھی یہی حال ہے۔ پنجاب کی حکمرانی کے لیے بھائی کے سوا کوئی نظر نہیں آیا۔ تمام تر خوبیاں اور اچھائیوں کا منبع چھوٹے میاں ہی رہے۔

بات اصل میں خفیہ باغی سینیٹرز کی کرنا تھی۔ تلاش کمیٹیوں نے کام شروع کردیا ہے،پہلی تو یہ تحقیق کی جانی چاہیے کہ دونوں پارٹیوں نے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں ان میں تو کہیں ’خفیہ باغی‘موجود نہیں، لگتا نہیں کہ یہ کمیٹیاں باغی سینیٹرز کی نشاندھی کرسکیں گی۔ ان باغی سینیٹرز کا ضمیر از خود کسی وقت جاگے گا اور وہ ایک ایک کرکے یا با جماعت ایوان بالا کے باہر ہنگامی پریس کانفرنس کر کے سینہ ٹھوک کر اعلان کریں گے کہ ہاں ’ہم باغی ہیں‘، ہاں ہم باغی ہیں‘۔ بات یہاں تک نہیں رہے گی بلکہ وہ از خود ان وجوہات کوبھی بیان کریں گے جن کے باعث انہوں نے اپنے سیاسی پنڈتوں کو ایسا چکمہ دیا کہ ان کے ہوش اڑا کر دکھیے۔ رائے شماری کے دو مراحل تھے پہلے مرحلے میں اپوزیشن کے سینیٹرز نے کھڑے ہوکر یہ بتانا تھا کہ وہ چیرئمین کے خلاف قرارداد کے حق میں کون کون ہیں، اس مرحلہ پر باغی اراکین جن کے بارے میں تاحال کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کون ہیں اپنے ساتھیوں کے سامنے کھڑے ہوگئے، یہ صورت حال حکومت اور چیر ئمین کے لیے پریشان کن تھی انہیں اپنی شکست صاف نظر آرہی تھی اس لیے کہ 60سینیٹرز اپوزیشن کے کھڑے ہوکر اعلان کر رہے تھے کہ ہم اس چیرئ مین کو نہیں مانتے لیکن یہ فیصلہ قانون کے مطابق حتمی نہیں تھا اس کے بعد ہر سینیٹر کو پریزائیڈنگ آفیسر کے سامنے ڈائس پر جاکر بیلٹ پیپر پر اپنی رائے کا اظہار یا ٹھپہ لگا کر کرنا تھا، اپوزیشن کے انہیں 60اراکین میں سے 14کا ضمیر عین اس وقت جاگ اٹھا جب انہیں بیلٹ پیپر دیا گیا اور انہیں خفیہ طور پر ٹھپہ لگانے کر مرحلہ درپیش ہوا، وہاں انہوں نے اپنی پارٹی، اپنے پارٹی لیڈر اور متحدہ اپوزیشن کے فیصلے، نئے چیرئ مین کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کر د یا۔ ان 14میں سے 6سینیٹرز کے ووٹ مسترد قرار پائے اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ انہوں نے چیرئ مین کے حق میں اور خلا ف کے خانے میں ٹھپہ لگادیا گویا انہوں نے قصداً اپنا ووٹ مسترد کرایاجو کہ ایک مناسب بات تھی، اس سے یہ تاثر بھی گیا کہ ہماری سیاسی جماعتیں سینٹ کے رکن کے لے ایسے عقل و سمجھ رکھنے والوں کاانتخاب کرتی ہیں۔ اس صورت حال کے نتیجے میں 45 سینیٹرز نے تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کی 5 مسترد، جماعت اسلامی کے سینیٹرز نہیں انتخاب میں حصہ ہی نہیں لیا۔ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجانے کے بعد متحدہ اپوزیشن میں صف ماتم کا پچھ جانا لازمی تھا، ہر جماعت کا لیڈر لال پیلا، غصہ سے بھرا ہوا، آپے سے باہر۔ سب سے زیادہ غصہ کا اظہار بلاول اور مریم بی بی نے کیا، بزنجو صاحب سب ہی میں بازی لے گئے انہوں نے تو کھڑاک سے الزام عسکری قوت پر لگا ڈالا، یہاں تک کہ ادارے کے جنرل کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے ایسا کرایا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس نے ان سیاست دانوں کو اس انجام پر پہنچایاہے۔ جب تک آپ کے پاس ثبوت نہ ہوں الزام تراشی سے آپ خود لوگوں کی نظروں میں گر جاتے ہو، بلاول نے یہ ضرور کہا کہ عسکری قوت اس میں شامل نہیں۔ نون لیگ کے ایک سینیٹر نے فرمایا کہ ’ضمیر فروش‘ سینیٹرز کی لسٹ برطانیہ کے جعلی اکاؤنٹ سے آئی۔ جب سے متحدہ اپوزیشن نے یہ چیرئ مین کی تبدیل مرحلہ شروع کیا، اس کے بعد کے تمام ٹی وی ٹاک شو دیکھیں، اخبارات میں بیانات کا جائزہ لیں، کسی ایک نے سینیٹر نے یہ نہیں کہا کہ چیر ئ مین صادق سنجرانی کی کوئی ایک برائی، خامی نہیں گنوائی،سب کہہ رہے تھے کہ سنجرانی جوان ہیں، خوش اخلاق، ہاوس کو خوش اسلوبی سے چلارہے ہیں، سب سے بڑھ کر قبلہ آصف علی زرداری کا انتخاب ہیں، بس قیادت کا فیصلہ، متحدہ اپوزیشن کو اپنی عددی قوت پر ناز، حکومت کو پہلے راؤنڈ میں آسانی سے پچھاڑنے کا ابھمان، غرور، تکبر نے اس انجام کو پہچادیا۔ بلاول نے اپنے سییٹرز کے استعفے لے لیے یا انہوں نے جمع کرادئے جنہیں نون لیگ کے خواجہ آصف نے سیاسی ڈرامہ قرار دیا۔ بنیادی طور پر یہ عمل غلط تھا، متحدہ اپوزیشن کوئی اور اقدام حکومت کے خلاف کرسکتی تھی، مولانا صاحب کی خواہش تو بس یہ ہے کہ کسی بھی طرح عمران کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے، جس کے بہ ظاہر دور دور کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے ویسے سیاست میں کوئی چیز ناممکن نہیں۔ حکومت پر الزام خرید و فروخت کا لگایا جارہا ہے، یہ کام سیاست داں ہر دور میں کرتے رہے ہیں،ایوب خان یا شاید اس سے بھی پہلے سے سیاست دانوں کا یہ عمل سب کے سامنے ہے، کم از کم مری کے ریسٹ ہاؤس، چھانگا مانگا کو لوگ بھولے نہیں، ممکن ہے اب بھی ایسا ہوا ہوکچھ کہانہیں جاسکتا، سیاست دانوں سے کچھ بھی ممکن ہے۔ یہ بک بھی جاتے ہیں، پارٹی سے دوسرے پارٹ میں چلے جانا تو عام سی بات ہے۔ بکاؤ مال اور لوٹے بن جانا، پھر ان دونوں خصوصیات کے ساتھ عوام کے سامنے ٹی وی ٹاک شو میں کس بے شرمی کے ساتھ فلسفیانہ گفتگو کرتے ہیں۔ بقول خواجہ آصف کوئی حیا ہوتی ہے کوئی شرم ہوتی ہے۔ پر ان سیاست دانوں کو نہیں ہوتی۔

            خفیہ باغی سینیٹر ز کی تلاش کا کام کمیٹیوں نے شروع کردیا ہے، کیا طریقہ کار ہوگا، اپنی اپنی جماعت کے تمام سینیٹرز کے انٹر ویو کریں گے، غفیہ طور پر تحقیق کریں گے، گواہان طلب کیے جائیں گے، کچھ معلوم نہیں۔ نتیجہ ہفتہ دس دن میں شاید آجائے، کیا آئے گا، کیا نام سامنے آئیں گے، سوشل میڈیا پر کئی فہرستیں چل رہی ہیں، اگر خفیہ تلاش کمیٹیاں نے تحقیق کے بعد اپنے اپنے سینیٹرز میں سے چند ناموں کی نشاندھی کر بھی دی تو گویا وہ سینیٹرز اگر باغی نہیں بھی ہوں گے تو وہ اعلانیہ باغی ہوجائیں گے، ایک گم نام سیاست داں، تعلق بلوچستان سے،صادق سنجرانی کو کون لایا تھا؟ یہ زرداری صاحب کے ہی لاڈلے تھے، اس وقت بھی سینیٹرز نے اپنی قیادت کے سامنے سرندڑ کیا اور انہیں کامیاب کیا، سنجرانی کا بھلا رضا ربانی سے کوئی مقابلہ ہے، نون لیگ نے زرداری صاحب سے کہا تھا کہ آپ رضا ربانی کو چیرئ مین نامزد کریں وہ بھی ان کی حمایت کریں گے لیکن زرداری صاحب نے کسی ٹھوس دلیل کے بغیر نون لیگ کی یہ آفر ٹھکرادی،یہی ہے ہمارے سیاست دانوں کی سیاست۔ جب سنجرانی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا تو نون لیگ کی اکثریت تھی وہ یہ امید لیے بیٹھی تھی کہ چیرئ مین کی سیٹ اسے مل جائے گی، ایسا نہ ہوا، یہ غصہ بھی تھا نون لیگی سینیٹرز میں،بعض نے کہا کہ اس عمل میں نون لیگ کے ساتھ ہاتھ ہوگیا۔ سمجھ نے والے سمجھ سکتے ہیں۔ پھر حاصل بزنجو ایک ایسے سیاست داں ہیں جن کی تمام عمر تو سیاست میں گزری لیکن ان کی سیاست سے جمہور کو اختلاف ہی رہا، اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ شکست کے فوری بعد انہوں نے جس قسم کا بیان دیا، جس کا جواب آئی ایس پی آر کے ڈی جی کو دینا پڑا۔’انہوں نے بیان کو بے بنیاد اور افسوس ناک قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر میر حاصل بزنجو کے اہم اداارے کے سربراہ پر الزامات بے بنیاد ہیں، سیاسی مفادات کے لیے جمہوریت کو بد نام کرنا جمہوریت کی خدمت نہیں‘۔ نواز شریف صاحب بھی ایسی ہی سیاست پر چل پڑے تھے، چھوٹے بھائی کی سوچ مختلف تھی،اب بھی ہے، چودھری نثار بھی چھوٹے میاں کے ہم خیال تھے، لیکن بڑے میاں صاحب کو طاقت کا ابھمان ہوگیا تھا، ان کی صاحبزادی بھی کچھ کچھ اپنے اباجان کی زبان بولتی دکھائی دیتی ہیں۔ باغی سینیٹرز کو حاصل بزنجو قابل قبول نہ تھے، لیکن وہ اپنی قیادت کے ہاتھوں مجبور تھے، کیسے اظہار کریں، حکمت عملی جو انہوں نے اپنائی سامنے آگئی، یہ آئینہ ہے پارٹی سربراہان کے لیے۔باغی اراکین کے نام سامنے آجانے کی صورت میں ممکن ہے کہ وہ سینیٹرز حکومتی جماعت میں شامل ہوجائیں، یہ بھی ممکن ہے کہ فارورڈ بلاک بنا کر اپنی اپنی جماعتوں کے لیے مسائل پیدا کریں۔ فہم فراست، برد باری کا تقاضہ تو یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کی کمیٹیوں کو اگر نام معلوم ہو بھی جائیں تو اپنی اپنی رپورٹ میں نام ظاہر نہ کریں، نام سامنے آنے سے اپوزیشن میں فساد برپا ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ کمیٹیاں ان وجوہات، اسباب، مسائل، غلطیوں کی نشاندھی کریں کہ جن کے باعث ان کے اپنے ساتھیوں نے یہ عمل کرکے اپنی اختلافی رائے،پارٹی سے اختلاف، پارٹی سربراہ سے اختلاف، پالیسی سے اختلاف،نئے نامزد چیرئ مین کے نام پر اختلا ف کا اظہار کیا۔صادق سنجرانی حکومت کے آدمی تھے نہیں تھے، یہ تو پاکستان پیپلز پارٹی کا انتخاب، زرداری صاحب کے نور نظر تھے، تحریک انصاف کی حکومت بن گئی تو حکومت کے ساتھ ان کی ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہوگئی، اچھے تعلقات ہوگئے، جس کی وجہ سے حکومت نے سنجرانی صاحب کو سپورٹ کیا، وہ ایک طرح سے حکومت کے امیدوار بن گئے، حکومت نے بھی  انہیں اسی طرح سپورٹ کیا جیسے وہ ان کے امیدوار ہوں۔ زرداری صاحب کی صدارت میں نواز شریف نے انہیں برا بھلا کہا، یہاں تک کہ مقدمات بھی قائم کردئے لیکن انہیں مدت پوری کرنے میں سہولت فراہم کی۔ یہی کچھ زرداری صاحب نے نواز شریف کے لیے کیا، مخالفت کرتے رہے لیکن مدت پوری کرنے کی باتیں بھی کیں اور کرنے دی۔ اب دونوں کو یہی کچھ کرنا چاہیے۔ مخالفت اپنی جگہ لیکن حکومت کو اس کی آئینی مدت پوری کرنے کا حق حاصل ہے، حکومت کوکئی محاذوں پر کام کرنا ہوتا ہے، موجودہ حکومت معیشت کے محاذ پر کمزور ہی نہیں بلکہ ناکام دیکھائی دیتی ہے۔مہنگائی کا طوفان حکومت کو بہا لے جاسکتا ہے، حکومت کو یاد ہونا چاہیے کہ ایوب خان کے دور میں چینی مہنگی ہوئی تھی، وہی اس کی حکومت کی رخصت کا باعث بن گیا تھا، ویسے تو اور بھی کئی وجوہات تھیں۔ اس کے برعکس حکومت خارجہ پالیسی میں سرخ رو اور کامیاب دکھائی دیتی ہے، امریکہ کا کامیاب دورہ، امریکہ سے مثبت تعلقات، ٹرمپ کی بہ ظاہر پاکستان سے پینگیں بڑھانا، عمران خان کی تعریف،  کشمیر جیسے مسئلہ کو عالمی سطح پر زندہ کردینا، بھارت کی سبکی دیگر ممالک سے تعلقات اور امدا د وغیرہ ایسے مثبت اور حوصلہ افزا باتیں ہیں اور حکومت کی کارکردگی عمدہ ہے۔ اپوزیش کا کام تو حکومت کی مخالفت ہی ہے وہ اُسے جاری رکھنی چاہیے لیکن مخالفت برائے مخالفت نہیں بلکہ مخالفت برائے تعمیر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں