69

بھارت کے آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی، آرٹیکل 370 کے خاتمے سے متعلق صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔

ویب ڈیسک

بھارت نے ایک بار پھر کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی مذموم کوشش کی ہے، مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش رچی ہے۔

بھارت کے آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی، آرٹیکل 370 کے خاتمے سے متعلق صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔

اس صدارتی حکم نامے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کو آج سے بھارتی یونین کا علاقہ تصور کیا جائے گا، مقبوضہ جموں و کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی علیحدہ سے قانون ساز اسمبلی ہو گی، جبکہ لداخ کو بھارتی یونین کا علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا

بھارتی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے متنازع بل سے متعلق ایوان کو آگاہ کیا، اس دوران اپوزیشن جماعتوں نے راجیا سبھا میں شور شرابہ اور ہنگامہ کیا۔

آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر سے باہر کے لوگ وہاں اپنے نام پر زمین نہیں خرید سکتے تھے۔

مودی سرکار کے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے اقدام پر سابق وزیرِ اعلیٰ مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن بھارتی جمہوریت کی تاریخ کا تاریک ترین دن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکار کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی قیادت کے 1947ء کے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصادم ہے۔

محبوبہ مفتی نے یہ بھی کہا کہ بھارتی حکومت کا یک طرفہ فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، اس فیصلے سے بر صغیر کے لیے تباہ کن نتائج رونما ہوں گے، بھارت کشمیر میں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں