50

دنیا کے منصفوں سلامتی کے ضامنوں کے نام.پیر سید سہیل بخاری

تحریر۔ پیر سید سہیل بخاری

اے ایمان والو! (دشمن کے مقابلہ کیلئے) حفاظت کا سامان لے لو۔ پھر گر وہ بن کرنکلو یا سب اکٹھے ہوکر جہاد کیلئے نکلو اور یاد رکھو تم میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو (ایسے مواقعہ پر) ضرور پیچھے کو قدم ہٹاہیں گے۔ پھر اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی تو وہ کہیں گے کہ خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ حاضڑ نہ تھے اور اگر تم پر خدا کا فضل و کرم ہوا تو ضرور اس طرح کہیں گے گو یا تم میں اور ان میں دوستی کا نام و نشان تک نہیں تھا کہ اے کاش اگر ہم ان لوگوں کے ساتھ ہوتے تو ہم بھی عظیم الشان کامیابی حاصل کرلیتے۔تو چاہیے کہ جو لوگ اس د نیا کی زندگی کو آخرت کی (خوشگوار) زندگی کے عوض فروخت کر چکے ہیں اللہ کی راہ میں جنگ کریں اور جو اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر (خواہ) قتل ہو جائے خواہ غالب آئے (ہر حال میں) ہم اسے اجرعظیم عطا کریں گے اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کیلئے جنگ نہیں کرتے۔جو کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے جہاں کے باشندے بڑے ظالم ہیں نکال باہر کر اور اپنی طرف سے کسی کو ہمار ا حامی بنا دے اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا یا رو مددگار بنا وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جو لو گ منکر و کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو تم شیطان کے حامیوں
کے خلاف جنگ کرو بیشک شیطان کا مکر و فریب (بہت ہی) ضعیف و بے بنیاد ہے۔

آج دنیا کے منصفوں اور سلامتی کے ضامنوں کے نام۔ ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو ظالم کی شکست قریب ہوتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع کشمیر کے حل کی خاطر ثالثی کی پیش کش کی ہے ابھی اس ثالثی کی پیش کش کو چند دن بھی نہیں گزرے کہ مودی سرکار نے اپنی ہندوانہ چال چلتے ہوئے جنونی بھارت نے شہر ی آبادی پر کلسٹربموں سے حملہ شروع کردیا ہے جس سے معصوم بچے اور جوان شہید ہوئے اور کئی افراد شدید زخمی ہوگئے حالانکہ مہلک کلسٹر بموں کا استعمال 2008ء میں غیر قانونی قرا دیا گیا تھا۔یاد رہے کلسٹر بموں کا استعمال 40ء کی دہائی میں شروع ہوا اور تمام شہری آبادی نے اس مہلک ہتھیار کے استعمال کی کافی قیمت چکائی اور ایشیاء، یورپ سمیت مشرق وسطی میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوئے انٹرنیشنل ریڈکراس نے کلسٹر بموں کے استعمال اوراس سے ہونے والے بے گناہ افراد کے بھاری جانی نقصان پر کئی بار تشویش کا اظہار کیا اور 2000ء میں اقوام متحدہ سے یہ سفا کی روکنے کی اپیل کی 2008ء میں کلسٹر کنونشن جرمنی میں منعقد ہوا اس کانفرنس میں 100 سے زائد ممالک نے شرکت کی اور اس مہلک ہتھیار کی تیاری، منتقلی اور استعمال کو روکنے کیلئے اس تاریخی معاہدے کا خیر مقدم کیا اور کلسٹر اسلحے کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا گیا لیکن جنونی بھارت نے مسلسل اس بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہتے کشمیر ی عوام پر اس مہلک ہتھیار کا استعمال کیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کی طاقتور ترین سیکورٹی کونسل کشمیر میں امن اور انصاف قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے 72سال سے کشمیر ی عوام دنیا کو اپنی آزادی کی جد و جہد سے یہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہیں اسی لئے کشمیری عوام کی واضح اکثریت بھارتی آئین کے تحت منعقد ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہے کشمیری عوام نے اب تک ہزاروں جانوں کی قربانی بھارت سے آزادی کی خاطر قربان کی ہیں اور قربانیوں کا یہ نہ رکنے والا سلسلہ ابھی جاری ہے بابائے قوم قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے مگر کبھی کسی سیاسی جماعت نے اس فرمان پر عمل نہیں کیا اور نہ کبھی کسی حکمران جماعت نے اس پر کوئی خصوصی توجہ دی۔ جب کبھی کشمیر پر یا لائن آف کنٹرول پر بھارتی جنون کا حملہ ہوتا ہے تو مذمتی بیانات کے علاوہ کبھی کوئی لا ئحہ عمل تیار نہیں کیا کیونکہ سول حکومت نے یہ نہیں مانا ہے کہ کشمیر کی آزادی ہمارااولین نصب العین ہو نا چائیے حکومت کے خیال میں کہ کشمیر کی ٓزادی کی جنگ عسکری قیادت کا درد سر ہے لیکن موجودہ حکومت نے عسکری قیادت کے ساتھ ملکر ٹرمپ جیسے امریکی صد ر کو ثالثی کیلئے قائل کرلیا ہے اور اگر ٹرمپ ثالثی کومثبت طریقے سے دونوں ممالک کو امن کے ذریعے کشمیر کا مسلہ حل کرنے کیلئے بھارتی حکومت کو قائل کر لیتا ہے تو ممکن ہے کہ کشمیر کا مسلہ جنگ سے نہیں بلکہ امن کے ذریعے حل ہو جائے لیکن بھارت نے اس ثالثی کی پیش کش کے جواب میں اپنا رد عمل خاصا مایوس کن ظاہر کیا ہے اور اس کے جواب میں کشمیر میں شہری آبادی پر کلسٹر بموں سے حملہ کرکے امریکی صدر کی ثالثی کی پیش کش کو مسترد کیا اس بات کا امریکی صدر اور سلامتی کونسل کا فوری نوٹس لے کر بھارت سے بین الاقوامی تمام رابطے ختم کر لینے چاہیے تا کہ جنونی بھارت کو بھی اندازہ ہو جائے کہ اس نے امریکہ سے پنگا لیا ہے۔

اس موقع پر پاکستان نے امریکی حکومت پر یہ واضح کر دیا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء اس وقت تک خطے کو پائیدار امن حاصل نہیں ہو سکتا جب تک تنازع کشمیر، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہوگا۔ 72سال سے بھارت کشمیر ی عوام کو اپنا حامی نہیں بنا سکا حالانکہ اسکے پاس وہ تمام مواقع موجود ہیں جن کی مدد سے وہ کشمیری عوام کو اپنا حامی بنا سکتا تھا اور یہ بات بڑی افسوسناک ہے کہ بھارت نے 35ہزار اضافی فوجی، فضائیہ کو ریڈ الرٹ اور لائن آف کنٹرول پر پاکستانیوں پر کلسٹر بموں کا استعمال کیا اور اب عسکری قیادت پر الرٹ ہو گئی ہے۔ کلسٹربموں کے شہری آبادی پر حملہ کے بعد کشمیر کے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے کرہ ارض پر لینے والے تمام مسلمانوں کو خبردار کیا ہے وہ اگر مقبوضہ کشمیر کیلئے کچھ کر سکتے ہیں تو فوری کریں اگر ہم سب مر گئے اور آپ چپ رہے تو آپ سب اللہ کے سامنے جو ابدہ ہوں گے۔ بھارت تاریخ کا بد ترین قتل عام اور نسل کشی شروع کرنے جا رہا ہے اللہ رب العزت سب کو محفوظ رکھے آمین

مقبوضہ جموں و کشمیر کے باشندے 72سال سے بھارت کے جنوبی ہندؤں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں اور اب بھارت نے شہری آبادی پر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کرکے اپنا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ہر پاکستانی کی رگوں میں کشمیر دوڑ تا ہے اور کشمیر کی تحریک کا میابی سے ہمکنار ہوگی۔
مقبوضہ کشمیر میں بھٹ فیملی آزادی کشمیر کیلئے اپنا اہم کردار ادا کررہی ہے مقبوضہ کشمیر میں ظفر بھٹ اور انکے رفقاء اس تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہیں تو پاکستان میں سینئر حریت رہنما الطاف احمد بھٹ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تحریک آزادی کشمیر کوزندہ رکھے ہوئے ہیں اور ہر سرکاری اور غیر سرکاری پلیٹ فارم پر جموں و کشمیر کی آزادی کیلئے دامے درمے سخنے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ جموں و کشمیر لاکھوں کشمیریوں کی شہادت کے ساتھ پاکستان کا حصہ ہوگا۔

ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ
اندھیری شب میں چیتے کی آنکھ جس کا چراغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں