27

قربانی کریں ! مگربہترانداز میں۔ سلیم اللہ شیخ

اللہ تعالیٰ کو نہ اُن (قربانی) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، مگر اُسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
سورہ الحج، آیت 37

تحریر : سلیم اللہ شیخ

قربانی ایک مذہبی فریضہ ہے۔ قربانی ایک ایسا عمل ہے جو صاحب نصاب مسلمانوں پر فرض ہے۔ جو صاحبِ نصاب نہیں ہیں وہ بھی قربانی کرتے ہیں لیکن ان پر فرض بہر حال نہیں ہوتی ہے۔ فرض نہ ہونے پر بھی اگر کوئی فرد قربانی کرتا ہے تو یہ ایک بہت اچھا اور مستحسن عمل ہے۔بہت سے صاحبان نصاب اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر قربانی کےعمل میں حصہ لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ قربانی کے لیے بہت اچھا، فربہ اور مہنگا جانور خرید کر اس کی قربانی کریں۔ البتہ گزشتہ چند برسوں سے قربانی جیسا مقدس اور مذہبی فریضہ بھی ایک دنیاوی عمل اور کاروبار بن چکا ہے۔ ہم یہاں کسی کی نیت پر ہر گز شک نہیں کریں گے کیوں کہ دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔البتہ اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ اب اس عمل میں سرمایہ دار طبقہ کود چکا ہے اور وہ قربانی کو بھی ایک نمود و نمائش اور دکھاوے کے عمل میں تبدیل کررہا ہے۔ سپر ہائی وے کراچی پر لگنے والی مویشی منڈی میں اب چند بڑے بیوپاری صرف بڑے اور مہنگے جانوروں کا ہی کاروبار کرتے ہیں ۔ ان کے یہاں پانچ سات لاکھ روپے سے کم کا کوئی جانور ہوتا ہی نہیں ہے، علاوہ ازیں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے چند برس قبل مویشی منڈی میں ایک کنسرٹ بھی منعقد کیا گیا، جس پر لوگوں کا شدید رد عمل سامنے آیا، عوام کے رد عمل کے بعد دوبار ہ یہ کام نہیں کیا گیا۔ البتہ ان سرمایہ داروں نے لوگوں کو مہنگے جانور بیچنے اور اپنی جانب راغب کرنے کے لیے اب یہ کام بھی شروع کیا ہے کہ وہ لوگوں کو یہ ترغیب دیتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس اس وقت رقم نہیں ہے تو کوئی بات نہیں! آپ جانور قسطوں پر خرید لیں، اس طرح کی ترغیب دے کر یہ بیوپاری لوگوں کو 20بیس لاکھ ،25 پچیس لاکھ روپےکے جانور قسطوں پر بیچ دیتے ہیں۔ اب یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ قربانی صاحبِ نصاب پر فرض ہے مگر اس کی استطاعت کے مطابق!لیکن یہ کاروباری اور سرمایہ دار طبقہ ایک فرد کو اس طرح کی ترغیب دے کر بلا وجہ اس کو مقروض بنا رہا ہے۔اس طرح قربانی جیسا مقدس فریضہ بھی ایک مشکل اور ناپسندیدہ عمل بن جاتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو نہ اُن (قربانی) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، مگر اُسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔( سورہ الحج، آیت 37 ) یہ تو کاروباری طبقے کی بات
ہے۔ لیکن ہم یہاں ان افراد کی بات کریں گےجو 50، 60 لاکھ یا اس سے بھی زیاد ہ کا ایک جانور قربان کرتے ہیں۔


آئے دن ہم یہ اطلاعات اور خبریں سنتے ہیںکہ منڈی میں 70 لاکھ کا بیل موجود ہے۔ کبھی آتا ہے کہ ایک کروڑ کا بیل موجود ہے۔صاحبِ حیثیت لوگ اس کو خریدتے ہیں۔ ( ان کی نیت کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے، ہم کسی کی قربانی کو دکھاوا نہیں کہ سکتے ۔) ان کے اس عمل سے معاشرے میں ایک منفی رجحان پروان چڑھتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دھن میں مہنگے مہنگے جانور خریدنا شروع کردیتے ہیںاور معاشرے کے متوسط نسبتاً کم خوشحال طبقے کو احساسِ کمتری کا شکار کردیتے ہیں۔ یہا ں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر فرد اللہ کی خاطر 60، 70 لاکھ یا اس سے بھی زیادہ مہنگا جانور خرید کر اللہ کی راہ میں قربان کرتا ہے۔ وہ جانور بہت فربہ، بہت صحت مند ہے۔ بہت اونچا ، تگڑا ہے۔ لیکن اس میں بھی اگر حصے کیے جائیں تو صرف7 ہی ہوں گے۔ اس میں زیادہ سے زیاد ہ کتنا گوشت ہوگا؟؟ 8 من؟ 9 من؟ 10 من یا 12 من بس! یعنی زیادہ سے زیادہ 480 کلو گوشت۔ قربانی کرنے ولا ایک جانور میں 7 حصے ہی کرسکے گا اس سے زیادہ نہیں۔یہ گوشت زیادہ سے زیادہ 480 یا 500 لوگوں کے کام آئے گا۔ گویا کہ ایک فرد لاکھوں روپے خرچ کرکے بھی صرف سات لوگوں کو اس ثواب میں شریک کرسکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ 500 لوگوں کو اس قربانی سے مستفید کرسکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا غلط استعمال ہے۔ اتنا کثیر سرمایہ بھی اگر صرف کچھ لوگوں کے کام آئے تواسلام میں یہ ایک ناپسندہ عمل ہے اور کفران ِ نعمت ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک فرد اللہ کی راہ میں 60،70 لاکھ روپے ہی خرچ کرے لیکن منصوبہ بندی کے ساتھ، اچھے انداز میں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فیض یاب کرے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔لیکن یہ عمل کیسے ہوگا؟ بہت آسان طریقہ ہے۔ 10، 12 یا 60 ،70 لاکھ کا ایک جانور خریدنے کے بجائے سستے جانور خریدے ۔ اس بات کو یوں سمجھیں کہ ایک فرد 50 لاکھ روپے قربانی کے لیے مختص کرتا ہے ۔ اسے چاہیے کہ اس پوری رقم کا ایک جانور خریدنے کے بجائے وہ 70،75ہزار کے 65،66جانور خرید لے۔ ہر جانور میں اوسطاً 3 من گوشت نکلے گا یعنی مجموعی طور پر 198من ( 7920 کلو گوشت) اگر فی جانور 7 حصے کیے جائیں تو یہ 462 حصے بنیں گے ۔ گویا کہ اس نیک عمل میں 462 افراد حصے دار بنیں گے۔ اگر قربانی کے عمل کو موئثر انداز میںانجام دیا جائے تو اس طرح ایک فرد پیارے نبی ؐ، اہل بیت، صحابہ کرامؓ ، اولیائے عظام اورا پنے والدین، بہن بھائیوں کی طرف سے حصے ڈال سکتا ہے اور یہ عمل اس کی فلاح اخروی کا سبب بھی بنے گا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہوسکتا کہ یہ قربانی ایک ہی جگہ ہونے کے بجائے مختلف مقامات پر کی جائے اور کوشش کی جائے کہ غریب بستیوں میں بھی قربانی کی جائے تاکہ وہاںکے لوگ بھی قربانی کے گوشت سے مستفید ہو سکیں۔علاوہ ازیں ایک جانور کو ذبح کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 8سے 10 افراد کافی ہوں گے، جب کہ 66 جانوروں کی قربانی کے لیے 50سے 60 افراد کی ضرورت ہوگی اور اگر قربانی مختلف جگہوں پر کی جائے تو افراد کار کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔ اس طرح زیادہ افراد کو مزودری ملے گی ۔دوسری جانب یہ دیکھیے کہ جب کوئی فرد ایک مہنگا جانور خریدے گا تو سارا سرمایہ صرف ایک فرد کے پاس جائے گا اور اسلام کا جو مطمع نظر ہے سرمائے کی گردش وہ پورا نہیں ہوگا۔یعنی ایک دولت مند کی جیب سے پیسہ نکل کر دوسرے دولت مند کی جیب میں چلا جائے گا۔ اس کے برعکس اگر 65 جانور مختلف بیوپاریوں سے خریدے جائیں تو تقریباً 10 سے 12 افراد کو پیسہ جائے گا اور سرمایہ زیادہ گردش کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ قربانی جیسے مذہبی فریضے کو کاروبار بنانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور چھوٹے کاروباری افراد کو فائدہ ہوگا۔ تو آیئے لوگوں کو قائل کریں کہ اپنے کثیر سرمائے کو اللہ کی راہ میں بہتر انداز میں خرچ کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوں، زیادہ سے زیادہ لوگ ا س کے ثواب میں شریک ہوں۔اس طرح قربانی پورے معاشرے کے لیے سود مند ثابت ہوگی اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس طرح معاشرے میں قربانی کے نام پر پھیلی نمود نمائش اور دکھاوے کے خاتمے کا سبب بنے گااور جو سرمایہ دار اس مذہبی فریضے کو کاروبار بنا رہے ہیں اس کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں