41

اس وادی پر خوں سے اٹھے گا دھواں کب تک۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

مقبوضہ کشمیرپرمودی کا غیرقانونی وار، پاکستان کا جوابی اقدام۔

تحریر۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے کشمیر میں ظلم وستم اور زیادتی کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے کشمیر کے حوالے سے ایک شاطرانہ چال چل کر مسئلہ کشمیر کے حل میں نئی پیچیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مودی کی یہ شاطرانہ چال کشمیر یوں کو ان کے جائز حق سے محروم نہیں کرسکتی۔ 5اگست2019ء کو کشمیر دشمنی اختیار کرتے ہوئے بھارتی دستور کی دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصو صی آئینی حیثیت ختم کردی ہے۔ بھارتی صدر نے اس سلسلے میں ایک حکمنامہ جاری کردیا جب کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں ان دفعات کے خاتمے کا بل پیش کیا، پارلیمنٹ میں بھارتی اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی ضرور کی لیکن حکومتی اراکین نے بل منظور کرلیا۔ بھارتی حکومت کے اس اقدام پر حکومت مخالف سیاسی جماعتوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے اسے کشمیر کے ساتھ ظلم و زیادتی قرار دیا۔اس موقع پر فاروق عبدا للہ کے مگرمچھ کے آنسوسمجھ سے باہر تھے۔ پاکستان کو بھارت کے اس بھونڈے اور جابرانہ اقدام پر سخت تحفظات اور پاکستانی عوام میں غم و غصے کا پایا جانا لازمی تھا۔ بھارتی دستور کی دفعہ 370کے تحت مقبوضہ کشمیر کو نیم خود مختار حیثیت حاصل تھی اور بھارتی پارلیمنٹ کا کوئی قانون یہاں اس وقت تک لاگو نہیں ہوسکتا تھا جب تک ریاست کی کٹھ پتلی اسمبلی اس کی منظور ی نہ دیتی، اسی طرح آئین کی شق 35 اے کے تحت کوئی غیر کشمیری مقبوضہ کشمیر میں جائیدا د یں خرید سکتا نہ نوکری کرسکتا تھا۔ ان دفعات کی تنسیخ نے ایک تو ریاست کو باضابطہ بھارت میں ضم کر دیا گیا ہے، دوسرا مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی راہموار ہوجائے گی۔ اس اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر ریاست جمو و کشمیر کے بجائے بھارت کی یونین ٹیریٹری یعنی وفاق کا علاقہ تصور ہوگا، اس کے ساتھ لداخ کو بھی کشمیر سے الگ کر کے یہی حیثیت دے دی گئی ہے۔ معروف شاعر حبیب جالب نے کہا تھا کہا ؎
اس وادی پر خوں سے اٹھے گا دھواں کب تک
محکومی نوا ہوگی غنچوں کی زباں کب تک
محروم نوا ہوگی غنچوں کی زباں کب تک

بھارت نے یہ قدم ایک دم نہیں اٹھایا یقینا اس کی تیاری بہت پہلے سے ہورہی ہوگی، حیرت کی بات ہے کہ ہماری حکومت کو اس کی خبر نہیں ہوئی، وزارت خارجہ کیا کرتا رہا، وہ سمجھ نہیں پائے، جب بم گرگیا تب ہوش آیا۔ اب جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا، اس حادثہ کی بعد کیا حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے تھی، جو قدامات کیے وہ درست ہیں یا مزید کچھ کرنے کی گنجائش ہے۔ اب سوائے اس کے کہ آپ دنیا کو بتائیں، قریبی دوستوں، پڑوسی ممالک، اسلامی دنیا کو بھارت کے اس ظالمانہ، غیر قانونی اقدا سے آگاہ کریں، اقوام متحدہ کو جگائیں، جھنجوڑیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت کے اس اقدام سے آگاہ کریں۔ کشمیریوں کو حوصلہ دیں، ان کو سہارا دیں، ان کے حصولے بلند کریں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کے اندر اتفاق اور یکجہتی قائم کریں۔ سیاسی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو اس مسئلہ پر ایک پیج پر لے آئیں۔ اس حوالے سے پہلا قدم منتخب ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرنا تھا، وہ طلب کیا گیا، اس میں جو کچھ ہوا، اسے دیکھتے ہوئے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بہتر تھا یہ اجلاس طلب نہ کیا جاتا۔ افسو س صد افسوس ہمارے سیاست دانوں کو خواہ وہ حکومت میں ہو ں یا آئندہ آنے والی حکومت میں ہوں، یا حکومت کی کئی کئی باریاں لے چکے ہوں، انہیں کم از کم اس قسم کی اہم ایشو پر اس مکروہ عمل کا مظاہرہ ہر گز نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کسی ایک بھی سیاسی جماعت کے سربارہ کو جو پارلیمنٹ میں بولا ہے اس نے اپنے مخالف کو لپیٹ لپیٹ کر بعض نے کھلے عام سنائیں پھر کشمیر پر بھارت کے اس اقدام کی مذمت کردی، فائدہ اس عمل سے، کم از کم اس موقع پر تو تم اپنے اختلافات کا اظہار نہ کرتے، اسے کچھ وقت کے لیے اٹھا رکھتے، عمران خان نے پوچھا کہ میں کیا کروں؟ جواب میں مزاق اڑایا گیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کوئی حل پیش کرتے، تجاویز دیتے، عمران خان کو بھی شاید یہ امید نہیں تھی کہ بھارت امریکہ کے کامیاب دورہ کا بدلہ اس انداز سے اتنی جلد لے لے گا، حکومت کی غلطیاں ہیں، انہیں حزب اختلاف کو فوری اعتماد میں لینا چاہیے تھا، اختلاف اپنی جگہ، چور ڈاکو اور سلیکٹڈ اپنے جگہ، دشمن آپ کے کاندھوں پر سوار ہوگیا آ پ کو اب بھی ایک دوسرے کو برا بھلاکہنے کی فرصت نہیں۔ اپنی حکومت کو برا بھلا کہہ کر آپ یہ کہیں کہ کشمیر کے لیے مذمتی قراردادیں کافی نہیں، بھارتی ہاتھ کاٹ ڈالیں، کشمیر کے لیے اپنا خون دیں گے،آپ خاک خون دیں گے، آپ نے اپنے دور حکومت میں بھارت کے ہاتھ کاٹنا دور کی بات، آپ نے تو مودی سے ذاتی مراسم بڑھائے۔ باہم ایک ہونہیں سکتے، اپنے اختلافات اس موقع پر ختم نہیں کرسکتے تو پھر کونسا وقت آئے گا ایک ہونے کا، قوم کو ایک کیسے کریں گے۔ میدان جنگ میں مقابلہ سیاست دانوں نے نہیں کرنا، آپ عسکری قوت کا مورال بلند نہیں کریں گے تو
کیسے کام چلے گا۔ خدا کے لیے ہوش کے ناخن لیں، اس ملک پر، اس قوم پر رحم کریں۔

حکومت نے جو جو اقدامات کیے اب وہی کیے جاسکتے ہیں یا ابھی کچھ بھی کرنے کی گنجائش موجود ہے، موجودہ صورت حال میں جب کہ دونوں ہی جوہری طاقت ہیں کے حق میں نہیں، البتہ روایتی جنگ تو بھارت نے جاری رکھی ہوئی ہے، جس کا کرارا جواب پاکستان کی جانب سے مل ہی جاتا ہے اور ملنا بھی چاہیے۔ بیرونی دنیا کے کئی ممالک نے بھارت کے اس اقدام کی مزمت کی ہے، اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل نے بھی کشمیر کی حیثیت تبدیل نہ کرنے کی ہدایت کی کہا کہ حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرادادوں کے مطابق ہوگا، فریقین کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ بھی دیا، لیکن بھارت ایسا ہٹ دھرم ملک ہے کہ اس پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کیا کسی کی بات کا بھی اثر نہیں ہوتا۔ وہ امریکی صدر کی ثالثی پر بھی تیار نہیں۔ چین بھی بھارت کو مُتَنَبہِ کر چکا ہے، چین نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی اقدام ہماری خود مختاری کے لیے خطرہ ہیں، قانون سازی کے باوجود مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہی رہے گا، لداخ چین، پاکستان اور بھارت کے درمیان اسٹرٹچک ایریا ہے، او آئی سی کا ہنگامی اجلاس جدہ میں ہوا جس میں کوئی خاص بات سامنے نہیں آئی، امریکہ نے بھی یہی کہا ہے کہ دونوں فریقین باہم مل کر معاملے کو حل کریں، اس سے پہلے وہ ثالثی کی پیش کش کرچکا تھا۔مودی کے اس اقدام کی مخالفت بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتوں اور مسلمانوں نے بھی کی اور اس اقدام کو کشمیر دشمنی قرار دیا۔ ان تمام باتوں کے باوجود بھارت مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر اپنی پالیسی میں لچک پیدا کرنے، کشمیریوں پو ظلم و زیادتی، فوج کو واپس بلانے یا کم کرنے کے بجائے اس کے اقدامات میں شدت آرہی ہے اور وہ مسلسل مُتَناقِص اقدامات کررہا ہے۔ کیا اس قانونی عمل سے بھارت کشمیر کو آزاد ہونے سے، ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھ سکتا ہے۔ ہر گز نہیں، بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھوٹان، نیپال بھارت کا حصہ تھے آج ان کی کیا صورت ہے، مشرقی پاکستان کو بھارت نے ہی بنگلہ دیش بنوایا، اسی طرح دنیا میں بے شمار ممالک نے آزادی حاصل نہیں کی، مودی کو یہ سوچ لینا چاہیے کہ کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور فتح سے ہمکنار ہوگی آج نہیں تو کل، مقبوضہ کشمیر کو آزادی ملکر رہے گی۔ بقول ڈاکٹر صفددر محمود ”آتش چنار اب آتش فشاں بن چکا ہے اور یہ ایسا آتش فشاں ہے جوکبھی سرد ہوگا نا خاموش۔ بندوق کی گولی اور توپ کے گولے سے آزادی کی لہر کو دبایا جاسکتا ہے نہ لوگوں کے دلوں اور ذہنوں کو سحر کیا جاسکتا ہے، کرفیو، قتل و غارت، جیلیں اور شہادتیں آزادی کے آتش فشاں کو مزید بھڑکاتی اور تحریک حریت کی رفتار تیز کرتی ہیں، تاریخ اس قسم کے سینکڑوں تجربات اور مہمات گواہ ہیں اور ان کی ناکامی پر مہر تصدیق ثبت کرچکی ہے“۔

بھارت سے جب عسکری قوت کے استعمال، قتل و غارت گری، ظلم و زیادتی،نہتے کشمیریوں کو جیلوں میں ڈالنے اور شہادتوں سے بھی کشمیریوں کی آواز کو دبا یا نہ جا سکا تو اس نے قانونی حربہ استعمال کیا۔ انشاء اللہ بھارت کو اپنے اس قانونی حربے پر بھی منہ کی کھانا پڑے گی۔ پاکستان نے بھارت اس ہٹ دھرمی کے جواب میں جو اہم اور جرت مندانہ فیصلے جن کا بنیادی مقصد بھارت کو منہ توڑجواب دینا ہے، یاسے یہ باور کرانا ہے کہ وہ پاکستان کومسئلہ کشمیر سے الگ تھلگ نہ سمجھے، پاکستان کشمیری عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، بھارت کو کشمیری عوام کی رائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کو حق خود ارادیت دینا ہوگی۔ پاکستانی حکومت کے اہم فیصلو ں میں بھارتی سفیر کو واپس چلے جانے کا حکم دیا وہ واپس چلا بھی گیا، بھارت میں پاکستان کے سفیر کو جانا تھا اسے روک لیا گیا ہے۔ بھارت کے ساتھ باہمی تجارت معطل، دو طرفہ معاہدات پر نظر ثانی کرنے اور کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں اور سلامتی کونسل میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے یوم آزادی کو بہادر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے دن اور بھارت کے یومزادی15کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ اور سمجھوتہ ایکسپریس بند کردیناشامل ہیں۔ تاہم ابھی اور بھی ایسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں جن سے بھارت پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق ابھی فضائی حدود بھارت کے لیے بند نہیں کی گئیں، یہ بھی فوری طور پر بند کردینی چاہیے، مصلح افواج کو چوکس رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ بھارت نے یہ قدم اٹھا کر اپنے لیے مشکلات پیدا کر لی ہیں۔ کشمیریوں کے حق خود ارادی کو زیادہ عرصہ دبایا نہیں جاسکتا، جتنا اسے دبا یا جائے گا وہ اتنی ہی شدت سے آگے بڑھے گی۔ پاکستان کو خارجہ امور میں زیادہ تیزی سے پیش رفت کرتے ہوئے، اپنے دوست ممالک اور ہم خیال ممالک کو بھارت کے اس اقدام کے مذمت کرنا ہی کافی نہیں بلکہ دوست ممالک بھی بھارت کے ساتھ اپنی باہمی تجارت بند کردیں۔آج کی دنیا میں معیشت بہت بڑا ہتھیار ہے۔ اس وقت پاکستان کی حکومت صرف معیشت کے باعث سخت تنقیدکے نشانہ پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں