48

آج اگر مقبوضہ کشمیر آزاد نہ ہوا؟ پیر سید سہیل بخاری

پیر سید سہیل بخاری

با برکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل میں تمیز کرنے والا قرآن بھیجا تاکہ تمام کائنات کو وہ آگاہ کرے۔ وہ وہ ہے جو تمام آسمانوں کا اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اسکے اولاد نہیں اور نہ ہی اسکی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کا اندازہ مقرر کیا اور لوگوں نے اس کے علاوہ اور معبود بنا رکھے ہیں جو کوئی بھی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ ان کے قبضے میں موت اور زندگی ہے اور نہ مر کر اٹھ کھڑا ہونا اور کافر کہتے ہیں کہ یہ محض بہتان ہے جو اس نے خود تراشا ہے اور لوگوں نے اس میں اسکی مدد کی ہے۔ بے شک یہ لوگ ظلم اور
جھوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں۔

کشمیر جنت بے نظیر، کشمیر دنیا میں ایک جنت ہے اور کافر نے اس جنت کو دوزخ بنا رکھا ہے اور آج کئی دن گذر چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا نفاذ ہے۔ کشمیری بہن بھائیوں نے عیدالضحیٰ بھی مودی کے نافذ کردہ کرفیو میں گذاری ہے کوئی بڑا اجتماع نہیں ہو سکا۔ بچے نئے کپڑے نہیں پہن سکے۔ خوراک کی قلت ہو گئی ہے ادویات نا پید ہو چکی ہیں۔ تمام اجناس جسکی ضرورت انسان کے لئے ضروری ہوتی ہیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ بازاروں گلیوں میں “ہو” کا عالم ہے اور یہ ظلم کب تک جای رہے گا؟ پاکستان میں بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ہے۔ ہر صوبے میں احتجاجی ریلیاں، جلسے جلوس نکالے گئے جسکی قیادت حکومت کے سر کردہ رہنماؤں نے کی اور عوام نے اس میں بھر پور شرکت کر کے اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلیٰ مظاہرہ کیا۔ یہاں میں بڑے افسوس کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ کیا کبھی یوم سیاہ منانے سے، احتجاجی ریلیاں نکالنے سے، پتلے جلانے سے کوئی خطہ آزاد ہوا ہے۔ نہیں ہر گز نہیں، جب تک کوئی مثبت لائحہ عمل تیار نہ کیا جائے۔

پاکستان اور مقبوضہ کشمیر پوری دنیا کے لئے سونے کی ایک چڑیا ہے۔ ہر کوئی اس پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ برطانیہ نے برصغیر پر کئی سال تک حکمرانی کی جبکہ برطانیہ کا اپنا رقبہ صرف لگ بھگ 50 ہزار کے قریب تھا اور جب برٹش نے برصغیر پر حکمرانی کی تھی اس وقت بھی برصغیر کی آبادی کروڑوں تھی۔ اور اب امریکہ خواب دیکھ رہا ہے کہ وہ بھارت کے ذریعے پاکستان اور مقبوضہ کشمیر پر اپنی دھاک بٹھائے۔ کیونکہ امریکہ نے شروع سے ہی متضاد پالیسیاں اور رویہ اپنارکھا ہے اور اپنے آپ کو “امن” کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے حالانکہ امریکہ دراصل عالمی دہشت گرد ہے جوکہ انڈیا کو سپورٹ کرکے چند مسلم ممالک کو ساتھ ملا کر پوری دنیا پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اور اب انڈیا مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی انتہا کرکے اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معصوم نہتے شہریوں پر کلسٹر بم اور پیلٹ گن کا استعمال کرکے ان کو معذور بنا رہے ہیں۔ عورتوں کی عصمت دری کی جا رہی ہے۔ کشمیری قوم کی آزادی 72 سال سے صلب کی ہوئی ہے اور اب بھارت نے 5 اگست کو بھارتی پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 ختم کروادیا ہے۔جس کے بعد اب جموں و کشمیر کے افراد کے علاوہ بھی لوگ اب جموں کشمیر میں زمین کی خرید و فروخت کر سکیں گے اور وہاں پر رہائش اور کاروبار کر سکیں گے۔ ۵ اگست سے اب تک وادی سری نگر میں بھارتی افواج کے کرفیو کی وجہ سے شہری نماز جمعہ تو کیا نماز عید بھی ادا نہ کر سکے ہیں۔ اس وقت پولیس اور فوج کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ جہاں ایک سے زائد کشمیری نظر آئیں ان کو گولی مار دی جائے۔ مودی سرکار نے آرٹیکل 370کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی آبادی کو بدلنے کی سازش کر کے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بھی اڑا کر رکھ دی ہیں۔ شملہ معاہدہ کی خلاف وزری ہو یا اقوام متحدہ کی 1948ء کی قراردادیں سب کی مودی سرکار نے خلاف ورزی کرکے انسانی حقوق کی جس طرح پا مالی کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔بھارت میں ہزاروں بھارتی عوام کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے خلاف اور کشمیریوں کی آزادی کے لئے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان میں ہندو، سکھ اور عیسائی بھی شامل ہیں۔ بھارت ان جذبات کو کبھی شکست نہیں دے سکتا۔ اسی طرح کشمیر میں کرفیو اس لئے لگایا گیا ہے کہ کشمیریوں کی کاروباری جگہوں کوتہس نہس کر کے ان پر قبضہ کیا جاسکے تاکہ کشمیری اپنے کاروبار سے بھی محروم ہو جائیں۔ آخر یہ کب تک ہوتا رہے گا کشمیر کی شہادتوں کی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ بیٹا باپ کی شہادت پر کشمیر کی آزادی زندہ باد اور باپ بیٹے کی شہادت پر کشمیر کی آزادی زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔

اس وقت کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی، یو این او یا پھر اوآئی سی کا کردار نا کام اور غیر اہم دکھائی دے رہا ہے۔ ہم سب اس بات پر بہت خوش اور راضی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس چین کی درخوست پر بلایا گیا ہے تو عرض کرتا چلوں کہ اگر سلامتی کو نسل نے کشمیر کا مسلہ حل کردیا تو فلسطین، برما اور دیگر اسلامی ممالک میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا پڑے گا جوکہ نا ممکن ہے۔ امریکہ نے سلامتی کونسل صرف اور صرف اپنے مفاد کے لئے بنائی ہوئی ہے اور وہ کب چاہے گا کہ اسکی سلامتی کونسل میں سبکی ہو۔
اتحادی مسلم ممالک کی فوج اس وقت اپنا کردار کیوں نہیں ادا کر رہی ہے کیا ہر جگہ پاکستان کی فوج ہی جہاد کرے گی۔ ان اسلامی ممالک کی فوج کا کیا کردار ہے کیا وہ صرف اور صرف نمائشی افواج ہیں؟

کشمیر میں اب یہ حال ہے کہ شیر خوار بچوں کا دودھ ختم ہو چکا ہے راشن ختم ہونے سے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کرنے والے بھوک سے بلبلا رہے ہیں۔ ہمارا اسلامی دوست ملک سعودی عرب بھارت میں اسی ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کر چکا ہے اور امریکہ پاک بھارت کشمیر کی آڑ میں بغیر کسی انویسٹمنٹ کے افغانستان سے اپنی فوج اور اسلحہ لے جانے کی تیاری کر چکا ہے۔ کشمیر کا کھیل امریکہ کا کھیلا ہوا اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو گیا ہے اور سلامتی کونسل کا اجلاس محض ایک “لالی پاپ” ہے۔ اس وقت پاک فوج کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح اس مشکل اور کٹھن وقت میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔پوری قوم پاکستان کی افواج کے ساتھ ہے کیونکہ وہ ہماری سرحوں کی محافظ ہے اور تمام پاکستانی قوم کو اپنی آرمی پر ناز اور فخر ہے کیونکہ ہر مشکل وقت میں پاک آرمی نے ہی اپنا مثبت کردار ادا کر کے عظیم ملک پاکستان کی حفاظت کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے نئی نسل اپنی جدوجہد سے آگاہ ہو چکی ہے اور اب وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کر رہی ہے۔ کئی کشمیری حریت پسند وں کو گرفتار کرنے کے باوجود آزادی کی جنگ ٹھنڈی نہیں پڑی بلکہ اور بھڑک گئی ہے کرفیو کو توڑتے ہوئے ہزاروں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی فوج اور پولیس کا سینہ تان کر سامنا کیا۔ آج اگر مقبوضہ کشمیر کو آزادی حاصل نہ ہوئے تو پاکستان کا ہر شہری بوند بوند کو ترسے گا۔اور پھر عالمی جنگ شروع ہوگی جسے” غزوہ ہند” کا نام دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں