34

نیوکلیئر فلیش پوائنٹ‘ بھارت کی بدلتی پالیسی۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

تحریر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

مودی اور راج سنگھ کو شاید یہ نہیں معلوم کہ پاکستان نے جوہری ہتھیار پٹاخے چلانے کے لیے نہیں رکھے ہوئے، پاکستان کی پالیسی میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔ لیکن جنگ پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ کسی بھی ملک کے حق میں نہیں، جیو اور جینے دو کی پالیسی کے تحت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، وہ توقابض ہے، اگر کشمیریوں کو ان کاحق دے دیا جاتا ہے تو اس سے بھارت کی طاقت پر کوئی خاص اثر پڑنے والا نہیں، دوسری جانب سرحدی کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیِ پاکستان بھارت کی ا ن کھلی خلاف ورزیوں کا جواب اچھے انداز سے دے رہا ہے۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھارتی ایٹمی تجربہ کیے گئے علاقے ’پوکھران‘ کے مقام پر سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی موت کی پہلی برسی کی تقریب سے خطاب میں کشمیر کے حوالے سے جو زہر اگلا وہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہی نہیں بلکہ بھارت کی خطرناک تبدیل شدہ پالیسی کی جانب اشارہ بھی ہے۔ راج ناتھ نے کشمیر ایشو کو ’نیوکلیئر فلیش پوائنٹ‘ قرار دیا۔ پوکھران وہ جگہ ہے جس جگہ بھارت نے پہلی مرتبہ مئی1974ء میں اندرا گاندھی کے دور حکومت میں، دوسری مرتبہ مئی1998ء اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں جوہری دھماکے کیے تھے۔ پوکھران بھارت کی اسٹیٹ راجستھان، ڈسٹرکٹ جیسلمیر میں واقع ہے۔ بھارت کے جواب میں پاکستان نے 28مئی1998ء میں نواز شریف کے دور حکومت میں بلوچستان کے علاقے چاغی میں جوہری دھماکے کیے تھے۔ راج ناتھ کا یہ بیان انتہا پسندانہ سوچ اور جنگی جنون کی عکاسی کرتا ہے۔ مودی کی سوچ کا مظہر ہے، مودی کی سیاست میں انتہاپسندانہ سوچ کوٹ کوٹ کر بھری ہے، وہ سخت قسم کا متعصب، مسلمان دشمن خیالات رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کہہ رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم بند کرو، کرفیو کی صورت جو گزشتہ کئی دنوں سے ختم کرو، لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے، بھوک اور پیاس کی خراب صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ کشمیر اور مسلمانوں سے دشمنی اپنی جگہ انسانیت بھی کسی چیز کا نام ہے۔ لیکن نریندر مودی اور اس کی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی۔یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی بھی بھارتی وزیر دفع نے راج ناتھ جیسا بیان دیا اس سے پہلے بھی بھارتی حکومت کے سابق وزیر دفع منوہر باریکر بھی اسی قسم کا بیان دے چکے ہیں جب دنیا نے لعنت ملامت کی تو بھارتی حکومت نے اس کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا تھا۔لیکن راج ناتھ کے بیان
پر دنیا خاموش دکھائی دے رہی ہے۔

راج ناتھ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارت کے دستور کی دفعہ 370 اور 35 اے منسوخ کرنے، مقبوضہ کشمیر کی خصو صی آئینی حیثیت کو ختم کردینا، مقبوضہ کشمیر میں کئی لاکھ مزید فوج منتقل کردینا، کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو محصور کردینا، یہاں تک کہ بھوک اور پیاس ان کے لیے مسئلہ بن جائے، ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزی کرنا، مسئلہ کو بات چیت سے حل کرنے کی تمام تر اپیلوں کے جواب میں ’میں نہ مانوں‘ کی پالیسی پر گامزن رہنا، دنیا کہ بڑی طاقت امریکہ کے صدر اور دیگر بڑی شخصیات کی کشمیر مسئلہ پر ثالثی کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا۔ یہ سب باتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ مودی کشمیر کو ہڑپ کرنے کی سوچ رکھتا ہے، اسے نہیں معلوم کہ پاکستان کے لیے بھی کشمیر زندگی اورموت کی حیثیت رکھتا ہے۔بھارت کے اس غیر اخلاقی، غیر قانونی عمل پر دنیا بھر میں منفی ردِ عمل کا آنا لازمی تھا، پاکستان نے شد و مد کے ساتھ کشمیر پر بھارت کے ظلم و زیادتی کو دنیا کے سامنے عیاں کیا، سفارتی سطح پر دنیا کے ممالک کو جھجوڑا، انہیں نہتے کشمیریوں پر بھارتی تشدد کا اصل چہرہ دکھایا، جس کے نتیجے میں دنیا کے بے شمار ممالک نے بھارت کے اس عمل کی مزمت کی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا، سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی جدوجہد کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن چین نے سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کی باقاعدہ درخواست کی جس کے نتیجے میں 16 اگست کی شام سلامتی کونسل کا بند کمرہ میں اجلاس منعقد ہوا۔ فیصلہ کیا ہوا؟ بات کیا ہوئی؟ کس نے کیا کہا؟ کوئی اعلامیہ نہیں، کوئی آفیشل اعلان نہیں، کوئی پریس کانفرنس نہیں۔ البتہ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ژینگ جون میٹنگ کے اختتام پر مائک پر آئے، اسے پریس کانفرنس بھی نہیں کہا جاسکتا، میٹنگ کی روداد بھی نہیں بلکہ اپنے خیالات کا اظہار کیا جس میں کہا گیا کہ’سلامتی کونسل کے ارکان سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو کشمیر میں کسی یکطرفہ کاروائی سے باز رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حالات بہت کشیدہ ہیں اور خطرناک ہیں‘ اور یہ کہ سلامتی کونسل کے ارکان کا عموماً خیال ہے کہ پاکستان اور انڈیا کو کشمیر میں یکطرفہ کاروائی سے باز رہنا چاہیے فریقین تحمل کا مظا ہرہ کریں اور کوئی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کریں جس سے حالات مزید خراب ہوں“۔ بعض ٹی وی چینلز پر یہ خبر بھی نشر کی گئی کہ سلامتی کونسل 15اراکین میں سے 12تو اس بات کے حق میں تھے کہ بند کمرہ میں ہونے والے سلامتی کونسل کا اجلاس کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے وسیع تر اجلاس کا فیصلہ کرے جس میں اقوام متحدہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے لیکن ان میں فرانس اور جرمنی اس بات کے حق میں نہیں تھے۔ ان کی رائے شاید یہ رہی کہ بس اتنا کافی ہے کہ ہم نے بند کمرے میں بیٹھ کر اس موضوع پر بات کر لی۔ اس صورت حال پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سلامتی کونسل کا 16اگست کو ہونے والا غیر معمولی اجلاس کسی نتیجہ پر پہنچنے بغیر ہی ختم ہوگیا لیکن دنیا کے سب سے بڑے فورم میں 50سال بعد کشمیر پر بات کا ہونا بھی پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے


قارئین اِس ناچیز نے اپنے 16اگست کے کالم بعنوان”سلامتی کونسل کا اجلاس‘کیا ہونے والا ہے“ جو سلامتی کونسل کے اجلا س شروع ہونے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا تھا میں واضح اشارہ دیا تھا کہ اجلاس میں کیا ہوگا، کونسا ملک اس میں منفی کردار ادا کرسکتا ہے۔ میں نے لکھا تھا ”فرانس جہاں مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے بے شمار واقعات رونما ہوچکے ہیں اس نے صاف الفاظ میں بھارت کے اقدامات کی مذمت نہیں کی، اس کے ارادے بتا رہے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کو آج کے اجلاس میں ویٹو کردے گا۔ جس کے باعث مسئلہ اسی جگہ ختم ہوجائے گا۔ اجلاس میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دونوں فریق اس مسئلہ کو باہمی گفت و شنید کے ذریعہ حل کریں، جنگ مسئلہ کا حل نہیں“۔ ایسا ہی ہوا، فرانس کے ساتھ غیر مستقل رکن جرمنی نے بھی فرانس کا ساتھ دیا۔ لیکن یہ رپورٹ تصدیق شدہ نہیں ممکن ہے کچھ دنوں بعد انہی نمائندوں کے ذریعہ جو کچھ میٹنگ میں ہوا اس کا حال سامنے آجائے۔

یہ اجلاس ہی کا نتیجہ ہے کہ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ بھارتی ایٹمی تجربہ کیے گئے علاقے ’پوکھران‘ گئے اور انہوں نے وہاں کھڑے ہوکر دھمکی دی کہ”اب تک تو ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنا ہی بھارت کی پالیسی ہے مگر مستقبل کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا“۔مودی اور راج سنگھ کو شاید یہ نہیں معلوم کہ پاکستان نے جوہری ہتھیار پٹاخے چلانے کے لیے نہیں رکھے ہوئے، پاکستان کی پالیسی میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔ لیکن جنگ پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ کسی بھی ملک کے حق میں نہیں، جیو اور جینے دو کی پالیسی کے تحت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، وہ توقابض ہے، اگر کشمیریوں کو ان کاحق دے دیا جاتا ہے تو اس سے بھارت کی طاقت پر کوئی خاص اثر پڑنے والا نہیں، دوسری جانب سرحدی کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیِ پاکستان بھارت کی ا ن کھلی خلاف ورزیوں کا جواب اچھے انداز سے دے رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں جس کا عملی مظاہرہ پاکستانی افواج نے کیا بھی ہے کہ ”ہم پتھر کا جواب اینٹ سے دیں گے“۔کیا بھارت کو نہیں معلوم کہ پاکستان بھی تو کبھی ہندوستان کا حصہ تھا، بھوٹان، نیپال بھارت کا حصہ تھے آج وہ آزاد ہیں، مشرقی پاکستان کو بھارت نے ہی بنگلہ دیش بنوایا، کل کشمیر بھارت سے الگ ہوگا، پھر خالصتان بن سکتا ہے۔ اسی طرح دنیا میں بے شمار ممالک نے آزادی حاصل کی ہے، مودی کو یہ سوچ لینا چاہیے کہ کشمیریوں کی جدوجہد ایک دن ضرور فتح سے ہمکنار ہوگی آج نہیں تو کل، مقبوضہ کشمیر کو آزادی ملکر رہے گی۔ دنیا سکڑ نہیں رہی بلکہ دنیا پھیل رہی ہے۔ ملک مختصر نہیں ہورہے بلکہ نئے ملک معرض وجود میں آرہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر تو ہے ہی متنازع، اس مسئلہ کو کبھی تو حل ہونا ہی ہے۔ پاکستان سول حکومت اور عسکری قیادت نے بہت واضح الفاظ میں اپنی پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔

پاکستان کی تینوں طاقتیں یعنی سول حکومت ( سیاسی قوت ) فوجی قوت یعنی مسلح افواج اور سب سے بڑھ کرپاکستانی عوام اپنے ملک کے لیے ہرلمحہ تیارہیں۔ اس لیے کہ جنگ میں کامیابی کی شرط اس ملک کے عوام ہوا کرتے ہیں، اگر عوام حکومت اور افواج پاکستان کے شانا بشانہ کھڑے نہ ہوں، ان میں جوش و جذبہ نہ ہو تو جنگ کا جیتنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ 1965 ء کی جنگ جس جس کو یاد ہے، وہ عوام کے اس ولولے اور جذبے سے اچھی طرح واقف ہوں گے، جنگ فوج لڑتی ہے لیکن فوج اور سیاسی قوت کو مارل سپورٹ عوام دیتے ہیں پاکستان کی عوام اپنی حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں