47

کیا اب گلی محلوں میں عدالتیں لگیں گی ۔ ارشد قریشی

تحریر ارشد قریشی

گذشتہ دنو ں  کراچی کے علاقے بہادرآباد کی کوکن سوسائٹی میں پندہ سالہ کمسن  ریحان کو   اس وجہ سے بد ترین تشدد کرکے کے قتل کردیا گیا کہ اس پر قاتلوں نے الزام عائد کیا کہ وہ چوری کررہا تھا ۔ جب کہ ریحان  کی جو وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اس میں وہ ان درندوں کو تفصیل بتا رہا ہے کہ  وہ کہاں رہتا ہے اور کیا کام  کرتا ہے ریحان  تمام تفصیل بتاتے ہوئے کہتا نظر آتا ہے کہ میرے والد کو بلالو، میں  والد کے ساتھ قصائی کا کام کرتا ہوں اور کسی سے پیسے لینے آیا  ہوں ۔

مجھے  اس واقعے سے اپنے پرانے محلے کا   ایک واقعہ یاد آگیا  جس میں شام کے وقت کرکٹ کھیلتے ہوئے   کرکٹ کی ٹیپ گیند محلے کے ان صاحب کے گھر چلی گئی جو  اس وقت صحن میں بیٹھے چائے پی رہے تھے اور گیند لگنے سے ان کی چائے ان کے کپڑوں پر گر گئی  وہ آگ بگولا ہو کر گھر سے نکلے اور کہا کس کی گیند پھینکی ہے ایک  لڑکے نے کہا انکل  جان بوجھ کر نہیں پھینکی غلطی ہوگئی آئندہ نہیں ہوگا اس پر وہ سے گھسیٹتے ہوئے اس کے گھر کے دروازے تک لے گئے جہاں اس کی والدہ کھڑی تھیں والدہ نے کہا بھائی معاف کردیں غلطی ہوگئی بچہ ہے اسی دوران جانے انہیں کیا ہوا کہ انہوں کے لڑکے کے ہاتھ سے بیٹ چھینا اور لڑکے کے سر پر زور سے ماردیا اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے کے مجھ سے بھی غلطی ہوگی۔ لڑکے کے سر سے خون  بہنے لگا  اہلِ محلہ اسے اسپتال لے کر گئے جہاں اس کے سر پر  چھ ٹانکے لگے ۔ اس واقعہ  کے بعد اہل محلہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے  تھانہ پولیس تو نہیں ہوا لیکن محلہ کے ہر فرد  جس میں خواتین مرد بچے سب شامل تھے   ان کے گھرانے سے تعلقات ختم کرلیئے یہاں تک کے بات چیت بھی بند کرلی جس کے چند دنوں بعد ہی وہ گھر بیچ کر ہمارے محلے سے چلے گئے ۔

اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ ریحان چوری ہی کررہا تھا تو کس نے یہ اختیار دیا کہ اسے تشدد کرکے ہلاک کردیا جائے ۔ ایک پندرہ سالہ نہتے کمسن بچے کو جسے اگر ایک آدمی بھی پکڑ کے کھڑا ہوجائے تو وہ پولیس کے آنے تک کسی صورت بھاگ نہیں سکتا تھا اسے برہنہ کرکے سلاخوں سے باندھنا اور پھر بد ترین تشدد کرکے مار دینا  اور ساتھ اپنی بہادری کے کارنامے کی وڈیو بھی بنانا یہ کسی صورت نا قابلِ برداشت ہے۔ مجھے اس بات پر بھی دکھ ہے کہ جب یہ درندے یہ سب کررہے تھے تو باقی گھر والے کیا تماشہ دیکھ رہے تھے۔

اگر عدالتیں چوراہوں اور گلی محلے میں لگا کر فیصلے کرنے ہیں تو پھر کیا   ان درندوں کو بھی برہنہ کرکے اسی طرح تشدد کرکے ماردیا جائے !  جس طرح اس کمسن بچے کو مارا گیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ  ان درندوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو اس طرح قانون ہاتھ میں لینے کی ہمت نہ ہو۔

یہاں  ہمیں بھی ایسے افراد جنہوں نے ایک بچے کو تشدد کرکے قتل کردیا اور دوسرے اہل خانہ تماشہ دیکھتے رہے  ان سب کا سوشل بائیکاٹ کرنا چاہیئے  جو آپ کے بچوں کے لیئے بھی  خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں