29

آج راشد منہاس شہید کا 48واں یومِ شہادت منایا جارہا ہے۔

ویب ڈیسک

پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز”نشانِ حیدر” پانے والے راشد منہاس نے پاکستانی جنگی جہاز بھارت لے جانے کا ناپاک منصوبہ ناکام بنادیا تھا اس بے مثال بہادری پر انہیں فوجی اعزاز ’نشان حیدر‘ سے نوازا گیا۔

17 فروری 1951ءکو کراچی کے ایک راجپوت گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن شہر قائد میں گزارا بعد ازاں اہل خانہ کے ہمراہ راولپنڈی منتقل ہوگئے اور کچھ عرصے بعد دوبارہ کراچی میں سکونت اختیار کی۔ راشد منہاس نے بی ایس سی، پی اے ایف رسال پور سے کیا۔

راشد منہاس کے خاندان اور عزیز و اقارب پاک فوج سے وابستہ تھےبعد ازاں انہوں نے بھی پاک فضائیہ کا انتخاب کیا۔

راشد منہاس نے 13 مارچ 1971 کو پاک فضائیہ میں بطور کمیشنڈ جی ڈی پائلٹ شمولیت اختیار کی۔ راشد منہاس شہید ابتدا ہی سے ایوی ایشن کی تاریخ اور ٹیکنالوجی سے متاثر تھے، ان کو مختلف طیاروں اور جنگی جہازوں کے ماڈلز جمع کرنے کا بھی شوق تھا۔

راشد منہاس اگست 1971ء کو پائلٹ آفیسر بنے۔20 اگست 1971ء کو ماڑی پور کے مسرور ایئربیس سے جنگی ہوا بازی کی تربیت کے دوران، اپنی دوسری سولو فلائٹ پر جس وقت راشد منہاس کا ڈبل کاک پٹ جہاز رن وے پر ٹیکسی کررہا تھا اسی دوران ان کے انسٹرکٹر اور فلائٹ سیفٹی آفیسر مطیع الرحمن، تیکنیکی خرابی کا بہانہ بنا کر جہاز کے کاک پٹ میں داخل ہوگیا اور جہاز کا رخ بھارت کی جانب موڑ دیا۔

راشد منہاس نے وطن پر جان قربان کرتے ہوئےدشمن کی اس سازش کو ناکام بناتے ہوئے جہاز کا رخ زمین کی جانب موڑ دیا اور اس دشمن کے عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

اُس ایک لمحے کے عظیم فیصلے نے راشد منہاس کو شہادت کی بلندیوں پر لے گیا، عظمت کا ناقابلِ فراموش باب رقم کر گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں