57

مقبوضہ کشمیر میں کرفیوکا 20واں دن۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

دنیا کا ہر ملک یہ کہہ رہا ہے کہ ہماری نظریں کشمیر پر لگی ہیں، پاکستان اور بھارت کوباہم مل کر اس مسئلہ کو حل کرنا چاہیے۔ لیکن مودی کو کسی ملک کے سربراہ کی کوئی بات سنائی نہیں دے رہی، فرانس کے صدر نے یہی کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کو دونوں مل کر حل کریں۔ امریکی صدر مسلسل ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں۔ گو اس میں بھی امریکہ بہادر کا اپنا مفاد شامل ہے۔ وہ عمران خان کے توسط سے افغانستان سے اپنا پیچھا جھڑانا چاہتا ہے، نکلنا چاہتا ہے افغانستان سے، چلیں ٹھیک ہے عمران خان اگر یہ کام کرسکتے ہیں تو ضرور کریں لیکن اس شرط پر کہ ٹرمپ گجرات کے قصاب کو مجبورکرے کہ وہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردد کے مطابق حل کرے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرکار کی ہٹ دھرمی،ظلم و زیادتی اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کرفیوں کا آج 20 بیسواں دن ہوگیا۔ مقبوضہ کشمیر کے غیور، بہادر، نڈر عوام کی زندگی کو بھارتی فوج نے مشکل بنادیا ہے۔ انہیں پانی یہاں تک کے تین وقت کھانا مشکل ہوگیا ہے، ادویات میسر نہیں۔ دنیا میں ہر جگہ بھارت کی بے حسی پرآوازیں بلند کی جارہی ہیں، بھارت کے ظلم کے خلاف توجہ دلائی جارہی ہے لیکن نریندر مودی اپنی حکمرانی کے نشے میں مست ہے۔ اسے اپنے اقتدار کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا۔ اس کی غیرت اس وقت کہا مرگئی تھی جب فرانس جاتے ہوئے اس کا طیارہ پاکستان کی خلائی حدودسے گزرا، اول تو پاکستان کو اپنے فضائی حدود پر مکمل پابندی نہ سہی جذوی پابندی ضرور عائد کردینے چاہیے تھی، پاکستان کی حکومت کے ذمہ داران فضائی پابندی کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ پی آئی اے کی پروازوں پر بھی بھارت کی جانب سے پابندی عائد ہونے کی صورت میں پی آئی اے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے ہوگا۔ حیرت اور افسوس بھی، پی آئی اے پہلے کونسا حکومت کو پیسہ کماکر دے رہی ہے وہ تو پہلے ہی خسارہ میں چل رہی ہے اب سے نہیں برسوں سے۔ مجھے یاد ہے کہ نواز شریف کے دور میں مَیں نے ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا ”پی آئی اے چلے تو نقصان نہ چلے تو اس سے زیادہ نقصان“۔پی آئی اے کو نقصان ہوگا یہ برداشت نہیں، یہ برداشت کے ہمارادشمن، مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں کشمیریوں کا قاتل، جسے آپ نے ہی وزیر اعظم صاحب موجودہ دور کا ہٹلر‘ قراردیا وہ ہمارے سروں کے اوپر پرواز کرتا،ہماری غیرت کا مزاق اڑاتا دوسرے ملک چلا جائے۔ وہ کس لیے گیا فرانس، فرانس سے مدد لینے، امداد لینے یا وہ یہ کہنے گیا کہ عمران خان کا منہ بند کراو وہ مجھے موجودہ دور کا ہٹلر کہہ رہا ہے، وہ مجھے بدنام کررہا ہے، نہیں جنابِ کپتان ایسا ہرگز نہیں! وہ ہمارے ملک کو نیچے دکھانے کے لیے فرانس کے صدر کواعتماد میں لینے گیا تھا۔ چلیں جائے بھاڑ میں وقت کا ہٹلر لیکن وہ پاکستان کا دشمن کیسے گیا ہمارے سروں پر سے ہوتا ہوا، ہم نے اسے بھی برداشت کیا، اب وہ کہیں اور جائے گا، پھر پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرے گا، پھر ہمارے سروں پر سے گزرے گا۔ خدا را اب دوبارہ یہ نوبت آئے بھارتی طیاروں پر پابندی عائد کردی جائے کہ وہ پاکستان کی فضائی حدود سے کسی طور نہ گزریں۔ جہاں کشمیریوں کی جانوں کا نقصان جس کا کوئی نعمل بدل نہیں برداشت کر رہے ہیں، یہ تو مالی نقصان ہے اسے تو برداشت کیا جاسکتا ہے۔ نریندر مودی کس خمیر کا بنا ہوا ہے جسے از خود یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ جس ملک کی حدود میں داخل ہورہا ہے وہاں اس کے لیے کس قسم کے منفی جذبات پائے جاتے ہیں۔ اس گجرات کے قصائی نے ایسا قصداً کیا اس لیے کہ وہ یہ بتانا چاہتا تھا کہ دیکھو پاکستانیوں اور کشمیریوں تم میرے بارے میں جو کچھ بھی کہو میں تمہارے سروں سے گزر رہا ہوں۔ دنیا کا ہر ملک یہ کہہ رہا ہے کہ ہماری نظریں کشمیر پر لگی ہیں، پاکستان اور بھارت کوباہم مل کر اس مسئلہ کو حل کرنا چاہیے۔ لیکن مودی کو کسی ملک کے سربراہ کی کوئی بات سنائی نہیں دے رہی، فرانس کے صدر نے یہی کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کو دونوں مل کر حل کریں۔ امریکی صدر مسلسل ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں۔ گو اس میں بھی امریکہ بہادر کا اپنا مفاد شامل ہے۔ وہ عمراں خان کے توسط سے افغانستان سے اپنا پیچھا جھڑانا چاہتا ہے، نکلنا چاہتا ہے افغانستان سے، چلیں ٹھیک ہے عمران خان اگر یہ کام کرسکتے ہیں تو ضرور کریں لیکن اس شرط پر کہ ٹرمپ گجرات کے قصاب کو مجبورکرے کہ وہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردد کے مطابق حل کرے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے لاکھوں فوجی کشمیریوں پر ظلم ڈھانے کے لیے جمع کردی ہے وہ انہیں فوری واپس بلائے۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے، کشمیری لیڈران اور کشمیری عوام جن کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے انہیں فوری رہا کرے۔

مودی نے کشمیر میں ظلم وستم اور زیادتی کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے کشمیر کے حوالے سے ایک شاطرانہ چال چل کر مسئلہ کشمیر کے حل میں نئی پیچیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مودی کی یہ شاطرانہ چال کشمیر یوں کو ان کے جائز حق سے محروم نہیں کرسکتی۔ 5اگست2019ء کو کشمیر دشمنی اختیار کرتے ہوئے بھارتی دستور کی دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصو صی آئینی حیثیت ختم کردی ہے۔ بھارتی حکومت کے اس اقدام پر حکومت مخالف سیاسی جماعتوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے اسے کشمیر کے ساتھ ظلم و یادتی قرار دیا۔اس موقع پر فاروق عبدا للہ اور محبوبہ مفتی کے مگرمچھ کے آنسوسمجھ سے باہر تھے۔ فاروق عبد اللہ اقتدار کے مزے لے چکے، فاروق عبداللہ کے والد بزرگ وار قبلہ شیخ عبد اللہ مرحوم ہی تو تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد کشمیر کو پاکستان شامل ہونے کی مخالفت کی اورکشمیر کا اقتدار سنبھال لیا۔

حق خود ارادیت کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے۔ اپنے اس حق کے حصو ل کے لیے کشمیری طویل عرصے سے عملی جدوجہد کررہے ہیں۔ جس کے لیے سینکڑوں کشمیری اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ پاکستان ان کے اس جائز اور اصولی موقف پر ان کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی قیام پاکستان کے بعد سے شروع نہیں ہوئی بلکہ یہ جدوجہد 1931ء میں اس وقت شروع ہوچکی تھی جب پاکستان کا خواب دیکھنے والے مفکرِ پاکستان علامہ اقبال نے سب سے پہلے 14 اگست 1931ء کو لاہور میں یوم کشمیر منایا۔ کشمیر دراصل لارڈ ماؤنت بیٹن، جواہر لال نہرو اور شیخ عبداللہ کی سازش اور گٹھ جوڑ کے نتیجے میں بھارت کے قبضے میں گیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل اختلاف کی وجہ یہی مسئلہ کشمیر ہی ہے۔ اس اہم مسئلہ پر دونوں جانب سے کشیدگی کا عمل جاری رہتا ہے۔ پاکستان کی اب تک بھارت سے تین جنگیں ہوچکی ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بڑی قوتیں بھی اس مسئلہ کو حل کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتیں۔ان تمام کی خاموشی ایک سوالیا نشان ہے۔پاکستان کی کوششوں اور چین کی درخواست پر سلامتی کونسل کو اجلاس بند کمرہ میں ہوا، جس میں کیا ہوا کسی کوکچھ معلوم نہیں، شاید یہ اجلاس دنیا کی تاریخ کا پہلا اجلاس ہوگا جس کے اختتام پر شریک اجلاس خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے، چین کے رکن نے دوستی نبھائی اور اس نے مائک پر آکر کچھ تفصیل بیان کی اس کی حیثیت آفیشل نہیں تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی رسم پوری کرتے ہوئے بیان جاری کردیا اور بس، بیس دن سے مقبوضہ وادی میں لوگوں کو قیدی بنایا ہوا ہے اقوام متحدہ کو دکھائی نہیں دے رہا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہمدردی کے بیان جاری کرنا اپنا فرض سمجھا ہوا ہے۔

بھارتی جارحیت کے خلاف، کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف پاکستان نے جو اقدامات کیے، ابھی اور بھی گنجائش ہے کہ حکومت کشمیر پر دنیائے عالم کی توجہ مبذول کرائے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بر بریت کی انتہا ہوچکی ہے۔ اندازہ کریں کہ 20دن سے مسلسل کرفیو کی صورت، کھانے پینے کی اشیاء ناپید ہوچکی ہیں، پینے کے پانی کی قلت ہوچکی ہے، لوگوں کو ادویات میسر نہیں آرہیں، تنگ آمد بہ جنگ آمد کشمیریوں نے جمعہ کے دن تنگ آکر کرفیو کی خلاف ورزی کی، پورے کشمیر میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے نتیجہ یہ ہوا کہ ظالم بھارتی فوجیو نے ان پر ربڑ کی گولیا برسائی، واٹر کینن یعنی پانی کی توپ سے لوگوں پر پانی برسایہ گیا۔ یہاں تک کہ مردوں کو، عورتوں اور بچوں کو بری طرح ذخمی کیا گیا، انہیں جانوروں کی طرح گھسیٹتے ہوئے گاڑیوں بھی بھر کر لے گئے جہاں انہیں قید کردیا گیا۔ بھارتی حکومت اور بھارتی فوج نے یہی سب کچھ نہیں کیا بلکہ اب جمعہ کی نماز پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے۔ یہ سارا منظر دنیا نے دیکھا، شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس نے مودی کی اس بربریت کی مذمت نہ کی ہو۔ فرانس کے صدر امینلول میکرون، جرمنی کی چانسلر انجیلہ مرکل، ترکی صدر طیب اردگان، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، چین صدر جینپنگ اور دیگر ممالک کے سربراہان، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ بھارت سے کئی کئی بار کہہ چکے کہ مسئلہ کشمیر کا حل دونوں ممالک یعنی پاکستان اور بھارت مل کر حل کریں۔ لیکن مودی، گجرات کاقصاب کسی کی سننے کو تیار نہیں۔ خود بھارت کے 9مخالف سیاسی جماعتوں نے بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا، حریت کانفرنس بھی مسلسل احتجاج کرتی چلی آرہی ہے۔کشمیریوں کے بلند ہیں، ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے، کرفیو، گولی اور ظلم و بربیت کشمیر کی آزادی کو کچل نہیں سکے گی، جتنا بھارت ظلم کرے گا کشمیر کی آزادی کی تحریک کا جذبہ اور زیادہ مضبوط ہوگا۔ تحریک حریت میں تیزی آئے گی۔ کشمیری قوم کئی نسلوں سے اس قسم کی صورت حال کا مقابلہ کرتی آئی ہے وہ مکمل آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ بقول ساحر لدھیانوی۔
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
پھر کہا
ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خو ن پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں