55

مودی کااسلامی ممالک کا دورہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی سیاہ کاریاں چھپانے کی چال۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

شیخ ا لا سلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے ٹیوٹر پر عربی زبان میں ٹوئیٹ کیا جس کا اردو ترجمہ کچھ اس طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ علامہ نے لکھا ”ہائے ہائے افسوس! وہ شخص جو ہزاروں مسلمانوں کا قاتل ہے، وہ شخص جس نے ہزارہا مسلمانوں کی زمینوں پر غاصبانہ قبضہ کیا، جس نے کشمیر کو اہلیان کشمیر کے لیے قید خانہ بنادیا، جس کی وجہ سے کشمیر میں عنقریب مسلمانوں کا قتل عام ہونے کو ہے، ایسے شخص کو ایک عرب مسلم ملک کی جانب سے سب سے بڑے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہائے کتنا بڑا المیہ ہے! ہائے شرمندگی! ہائے ندامت۔

نریندر مودی ایک جانب وقت کا ہٹلر بنا ہوا ہے اور 50لاکھ مظلوم کشمیریوں کو قید کر کے ان پر ظلم کے پہاڑ ڈھارہا ہے تو دوسری جانب سیاسی چال چلتے ہوئے ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی طرح مقبوضہ کشمیرمیں اپنی سیاہ کاریاں چھپانے کے لیے اسلامی ممالک کا دورہ کرکے انہیں یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ مقبوضی کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف بھارتی فوج کاروائی کررہی ہے پاکستان بلاوجہ کشمیریوں کے حق میں واویلا مچا رہا ہے۔بات سوچنے کی ہے کہ مودی نے اسلامی ممالک جانے کے لیے اس وقت کا انتخاب کیوں کیا؟ ایسی صورت میں جب کہ مقبوضی کشمیر میں کرفیو کو 23دن ہوچکے ہیں۔ تین ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنے گھروں میں قید ہیں۔ ان کے گھروں میں چھاپے مارے جارہے ہیں، نوجوانوں کو گھروں سے پکڑ کے جیل میں ڈالا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیر کے غیور، بہادر، نڈر عوام کی زندگی کو بھارتی فوج نے مشکل بنادیا ہے۔ انہیں پانی یہاں تک کے تین وقت کھانا مشکل ہوگیا ہے، ادویات میسر نہیں۔ یہاں تک کہ اب بھوک و پیاس اور علاج کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہاکتیں شروع ہوچکی ہیں۔ دنیا میں ہر جگہ بھارت کی بے حسی پرآوازیں بلند ہورہی ہیں، بھارت کے ظلم کے خلاف توجہ دلائی جارہی ہے لیکن نریندر مودی اپنی حکمرانی کے نشے میں مست ہے بیرونی دنیا کے ممالک کے دورے کررہا ہے تاکہ دنیا کو یہ باور کراسکے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات قابو میں ہیں۔یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستان بلا وجہ مداخلت کررہا ہے۔ جب کہ دنیا کو یہ معلوم ہے اقوام متحدہ کی قراردادیں اور کشمیر کے حوالے سے دیگر معاہدے اور سمجھوتے اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ مقبوضی کشمیر متنازع مسئلہ ہے۔ یہ بھارت، پاکستان اور کشمیریوں کے مابین طے ہونے والا مسئلہ ہے۔

نریندر مودی نے 5اگست2019ء کو کشمیر پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش میں بھارتی دستور کی دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصو صی آئینی حیثیت ختم کردی ہے۔ بھارتی حکومت کے اس اقدام پر کشمیر میں آگ بھڑک اٹھی، کشمیر اور پاکستان نے احتجاج بلند کیا۔ بھارتی حکومت نے حالات قابو سے باہر دیکھے توپوری وادی میں کرفیو نافذ کردیا، کرفیو کو 23یوم ہونے کو آئے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو قیدی بنایا ہوا ہے۔ بیرونی دنیا سے بھی جب دباؤ بھارت پر آیا تو مودی نے سیاست کا سہارا لیا اور مسلم ممالک کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا خیر سگالی دورہ کیا۔ باوجود اس کے کہ مسلم ممالک کے پاکستان سے بہت زیادہ قریبی، دوستانہ تعلقات ہیں۔ وضاحت کی ضرورت نہیں لیکن اس کے باوجود ان مسلم ممالک نے ایسے حالات میں جب کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنارکھی ہیں ان مسلم ممالک نے موجودہ عہد کے ہٹلر کو میزبان بنایا، یہی نہیں بلکہ تینوں ریاستوں نے مودی کو بڑے بڑے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ سعودی عرب نے ”شاہ عبدالعزیز ایوارڈ“۔ متحدہ عرب امارات نے ”شیخ زید ایوارڈ“ اور بحرین نے کنگ حمادآڈر آف دی رینائسنس“ کا ایوارڈ مودی کو دیا۔ اسے توپوں کی سلامی دی گئی، سرکاری اعزاز واکرام سے نوازا گیا۔ یہ صورت حال پاکستانی اور کشمیری عوام کے لیے تکلیف کا باعث تھی، مانا کہ بھارت کے ان ریاستوں سے تجارتی تعلقات ہیں لیکن موجودہ حالات میں ان ممالک کی جانب سے مودی کی اس انداز سے پذیرانی کرنا مناسب نہیں تھا۔ بیرونی دنیا کے مسلمانوں نے بھی اسے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ ملائیشیا نے مودی کو دیے جانے والے ایوارڈ پر سخت تنقید کی۔ ان دوروں میں اگر مودی کی باڈی لینگویج کودیکھا اور تجزیہ کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مودی ایک فاتح کی حیثیت سے اپنے دشمنوں کو للکار رہا ہو کہ دیکھو تم ہمیں نیچے گرانا چاہتے ہو، تمہارے ہی دوست، تمہارے ہم مذہب، تمہارے ہی پڑوسی مجھے کس طرح اپنے سروں پر بیٹھا رہے ہیں۔ کس شان سے میری پذیرائی کر رہے ہیں۔

شیخ ا لا سلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے ٹیوٹر پر عربی زبان میں ٹوئیٹ کیا جس کا اردو ترجمہ کچھ اس طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ علامہ نے لکھا ”ہائے ہائے افسوس! وہ شخص جو ہزاروں مسلمانوں کا قاتل ہے، وہ شخص جس نے ہزارہا مسلمانوں کی زمینوں پر غاصبانہ قبضہ کیا، جس نے کشمیر کو اہلیان کشمیر کے لیے قید خانہ بنادیا، جس کی وجہ سے کشمیر میں عنقریب مسلمانوں کا قتل عام ہونے کو ہے، ایسے شخص کو ایک عرب مسلم ملک کی جانب سے سب سے بڑے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہائے کتنا بڑا المیہ ہے! ہائے شرمندگی! ہائے ندامت“۔سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز گردش میں ہیں جن میں مودی کو متحدہ عرب امارات میں نا معلوم کتنی توپوں کی سلامی دیتے، استقبال کرتے، شاہی خاندان کو مودی سے ملواتے، مودی کے گلے میں ایوارڈ ڈالتے دکھا یا گیا ہے۔ شیخ الا سلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی رائے کے بعد اس حوالے سے کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ دنیا اپنے اپنے مفادات پر زندہ ہے۔ اگر کوئی کسی کی مدد بھی کررہا ہے تو اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ مفاد چھپا ہوتا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی صاحب نے فرمایا کہ ”متحدہ عرب امارات پاکستان کا ہمدرد اور کشمیر کے موقف پر حامی ہے“، بہت خوب کس قدر حامی اور ہمدرد ہے اس کا عملی مظاہرہ اس نے مودی کی میزبانی کر کے کیا، دنیا نے دیکھا بھی۔ ایک عملی مظاہرہ پاکستان سینٹ کے چیرئ مین صادق سنجرانی نے عملی طور پر کر کے دکھایا۔صادق سنجرانی نے نریندر مودی کو ایوارڈ دینے کی وجہ سے متحدہ عرب عمارات جانے کا پروگرام کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجاً ملتوی کردیا۔آج وزیر اعظم پاکستان نے بھی مسلم ممالک کے بارے میں کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ ہونے کی بات کی۔

مقبوضہ کشمیر میں 23دن سے مسلسل کرفیو کی صورت، کھانے پینے کی اشیاء ناپید ہوچکی ہیں، پینے کے پانی کی قلت ہوچکی ہے، لوگوں کو ادویات میسر نہیں آرہیں، تنگ آمد بہ جنگ آمد کشمیریوں نے جمعہ کے دن تنگ آکر کرفیو کی خلاف ورزی کی، پورے کشمیر میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے نتیجہ یہ ہوا کہ ظالم بھارتی فوجیو نے ان پر ربڑ کی گولیا برسائی، واٹر کینن یعنی پانی کی توپ سے لوگوں پر پانی برسایہ گیا۔ بھارتی حکومت اور بھارتی فوج نے یہی سب کچھ نہیں کیا بلکہ اب جمعہ کی نماز پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے۔ یہ سارا منظر دنیا نے دیکھا، شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس نے مودی کی اس بربریت کی مذمت نہ کی ہو۔ فرانس کے صدر امینلول میکرون، جرمنی کی چانسلر انجیلہ مرکل، ترکی صدر طیب اردگان، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، چین صدر جینپنگ اور دیگر ممالک کے سربراہان، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ بھارت سے کئی کئی بار کہہ چکے کہ مسئلہ کشمیر کا حل دونوں ممالک یعنی پاکستان اور بھارت مل کر حل کریں۔ لیکن مودی، گجرات کاقصاب کسی کی سننے کو تیار نہیں۔ خود بھارت کے 9مخالف سیاسی جماعتوں نے بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔ اگر مقبوضہ کشمیر میں حالات قابو میں ہوتے تو مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں کانگریس رہنما راہول گاندھی اور کانگریس کے دیگر رہنماؤں کو مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی گورنر ستیاپال ملک کی درخواست پر سرینگر پہنچے توانہیں ائر پورٹ سے ہی واپس کردیا گیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلد ٹرمپ اپنی یہ بات متعدد بار دہرا چکے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں۔ لیکن مودی ٹرمپ کی اس تجویز کو خاطر میں نہیں لارہا۔ آج ہی جی 7 کی 45 ویں کانفرنس جو فرانس کی میزبانی میں منعقد ہوئی، مودی اور ٹرمپ کی ملاقات ہوئی جس میں ٹرمپ نے مودی سے سب کے سامنے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور مودی کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں لیکن مودی پھر شاطرانہ چال چل گئے اس نے یہ تو تسلیم کیا کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان ہے، وہ کسی تیسرے ملک کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔ کس مکاری اورچالاکی کے ساتھ مودی نے ڈونالڈ ٹرمپ کی پیش کس کو ٹھکرادیا۔

جی7تنظیم میں دنیا کے بڑے ممالک شامل ہیں جن میں امریکہ، کنیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور برطانیہ۔ اس سال فرانس کانفرنس کا میز بان تھا۔ مودی اسلامی ممالک کے بعد فرانس پہنچ گیا۔ اسے معلوم تھا کہ وہاں مختلف ممالک کے سربراہان اس سے مسئلہ کشمیر کو باہمی طور پر حل کرنے کی بات کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ ایک چالاک اور ہوشیار سیاست دان ہے۔وہ کشمیر کے مسئلہ کو کئی محاذوں پر لڑرہا ہے۔در حقیقت پاکستان کو خارجہ میدان میں اپنے نمائندے مختلف ممالک بھیجنے چاہیے تھے۔ جہاں ممکن ہوتا وزیر اعظم خود مختلف سربراہان مملکت سے ملاقات کرتے، کچھ ممالک میں وزیر خارجہ خود چلے جاتے، بعض ممالک میں اپنے دیگر وزراء کو، سفیروں کو بھیج دیتے۔ وزیر اعظم نے مختلف ممالک کے سربراہان کو فون تو ضرور کیے لیکن خود جاکر قائل کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ مودی تین ملکوں میں گیا جہاں کشمیر کی بات نہیں ہوئی لیکن اس کا تاثر یہ قائم ہوا کہ مودی نے ان ممالک کے سربراہان کو کشمیر مسئلہ پر اپنا نقطہ نظر ضرور بیان کردیا ہوگا۔ اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا اب بھی اس حکمت عملی پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ احتجاج اپنی جگہ ہوتے رہنے چاہیے۔ برطانیہ میں کشمیر یوں کے حق میں اتنا بڑا احتجاج ہوا کہ اتنا بڑا پاکستان میں ابھی تک نہیں ہوا۔ حکومت مسئلہ کشمیر کو اپنی انا کا مسئلہ بھی نا بنائے۔ پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں کو ساتھ لے کر پروگرام تشکیل دیں۔ انہیں دعوت تو دیں، پھر دیکھیں کہ وہ آتے ہیں یا نہیں۔ جیسے آج وزیر اعظم نے جمعہ کے دن 12.30بجے گھر سے باہر آنے کی تجویز دی۔ یہ اچھی بات ہے، احتجاج جس طریقے سے بھی کیا جائے مناسب ہے لیکن اگر اس تجویز کو سامنے لانے سے قبل حزب اختلاف کی جماعتوں سے بھی مشورہ کر لیا جاتا تو وہ کسی صورت انکار نہ کرتے لیکن اب انہوں نے یہی بات پہلے کہی کہ ہم سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ مسئلہ کشمیر ہم سب کا ہے، پاکستان کا ہے، کشمیریوں کا ہے۔ اسے سب نے مل کر حل کرنا ہے۔ اس کے لیے مشترکہ جدوجہد سے ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں