47

کیا چین ہمارے لیے کافی ہے؟ – کشمیر کے تناظر میں۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

تحریر ۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ جب سے مقبوضہ کشمیر میں یہ صورت حال پید ہوئی ہے پاکستان کو کشمیر کے مسئلہ پر جو کچھ کرنا چاہیے تھا وہ موجود ہ حکومت کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکی۔ کشمیر میں 23 دنوں سے کرفیو نافذ ہے اس دوران پاکستان کے وزیر اعظم نے کتنے ملکوں کا دورہ کیا؟ اس کے مقابلے میں بھارت کے وزیر اعظم کتنے ملکوں میں گئے؟ پاکستان کے وزیر خارجہ کتنے ممالک گئے؟ کتنے ملکوں میں تعینات پاکستان کے سفیروں نے جس ملک میں وہ سفیر ہیں ان کے سربراہان سے ملاقات کی اور وزیر اعظم پاکستان کا پیغام پہنچا یا،کتنے پاکستان کے وزراء،مشیر ان، معاون خصوصی، سیکریٹری خارجہ نے کن کن ممالک میں جاکر کشمیر کے مسئلہ کو اجا گر کیا۔

پاکستان کا دیرینہ ہمسایہ دوست ملک چین ماضی میں بھی اپنی دوستی کا عملی ثبوت دیتا رہا ہے۔ پاکستان پر جب کبھی برا وقت آیا چین نے پاکستان کے لیے للکار لگائی۔ چین کی للکار سے بہت سے پاکستان کے دشمن خاموشی اختیار کر لیتے تھے، دم دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس وقت جب کہ پاکستان کے پڑوسی دشمن ملک بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کشمیر پر جارحیت کی بلند ترین حد عبور کرتے ہوئے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑدئے ہیں، 23دن سے کرفیو ہے، پوری وادی کو جیل بنادیا گیا ہے، 50 لاکھ نہتے کشمیروں کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کردیا ہے۔ بھارت نے ایک جانب مقبوضہ کشمیر میں عوام کو عملاً قید کیا ہوا ہے دوسری جانب وہ خارجہ محاذ پر دنیا کے ممالک کے ساتھ رابطہ کر کے انہیں پاکستان اور کشمیروں کی آواز کو ’واویلا‘ قرار دے کر یہ باور کرارہا ہے کہ کشمیر میں حالات قابو میں ہیں۔ اس کے لیے نریندر مودی نے اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کی، ان سربراہان نے مودی کے ساتھ جس چاہت کا مظاہرہ کیا، اسے دیکھ کر پاکستانی مسلمان ہی نہیں بلکہ دنیا کے مسلمان حیرت زدہ ہو گئے، بعض بعض ممالک جیسے ملائیشیا نے اس عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گاکہ جب سے مقبوضہ کشمیر میں یہ صورت حال پید ہوئی ہے پاکستان کو کشمیر کے مسئلہ پر جو کچھ کرنا چاہیے تھا وہ موجود ہ حکومت کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکی۔ کشمیر میں 23 دنوں سے کرفیو نافذ ہے اس دوران پاکستان کے وزیر اعظم نے کتنے ملکوں کا دورہ کیا؟، اس کے مقابلے میں بھارت کے وزیر اعظم کتنے ملکوں میں گئے؟، پاکستان کے وزیر خارجہ کتنے ممالک گئے؟، کتنے ملکوں میں تعینات پاکستان کے سفیروں نے جس ملک میں وہ سفیر ہیں ان کے سربراہان سے ملاقات کی اور وزیر اعظم پاکستان کا پیغام پہنچا یا،کتنے پاکستان کے وزراء،مشیر ان، معاون خصوصی، سیکریٹری خارجہ نے کن کن ممالک میں جاکر کشمیر کے مسئلہ کو اجا گر کیا۔ مانا کہ یہ زمانہ انٹر نیٹ اور میڈیا اور سوشل میڈیا کا ہے۔ مودی نے کتنے ٹوئیٹ کیے، کس کس ملک کے سربراہان سے فون پر بات کی؟۔ اس کے مقابلے میں عمران خان نے کتنے ٹوئیٹ کیے، کن کن سربراہاں سے فون پر اس موضوع پر بات کی۔ ٹوئیٹ سے آپ اپنی بات لوگوں تک پہنچا تو دیتے ہو لیکن عہدہ کے اعتبار سے بلند مرتبہ پر فائز شخص کو پیغام دینا ہو، قائل کرنا ہو، تو ٹوئیٹ کام نہیں کرتا، یہاں تک کہ موبائل پر بات بھی اتنا اثر نہیں رکھتی۔ مودی نے صرف تین اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کر کے دنیا کو پیغام دے دیا، کم از کم اسلامی دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ کشمیر کا مسئلہ ان کے قابو میں ہے، اگر قابو سے باہر ہوتا اور خطرے والی کوئی بات ہوتی تو ملک کا وزیر اعظم اس طرح بیرونی ممالک کے دورے نہ کررہا ہوتا، یا پھر مودی نے دنیا کو نفسیاتی طور پر کشمیر کے مسئلہ کو اہمیت نہ دینے کی چال چلی، عمران خان صاحب نے ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، اس کا اثر ہوا تھا، اس کے بعد کیا ہوا؟ سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا ہوا؟ لاحاصل اجلاس، وہاں بھی چین کے مندوب نے اندر کی کہانی بتائی۔ پاکستان بظاہر تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ اسلامی امہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، کم از کم پاکستان کی حمایت میں نظر نہیں آرہی، خاموشی کا مطلب کچھ بھی لیا جاسکتا ہے۔ ایران، ترکی، ملائیشانے ضرور پاکستان کے حق میں بات کی ہے۔ دوسرا ملک چین جو پاکستان کا دیرینہ، مخلص دوست ہے جس نے اس مرتبہ بھی اپنی دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ ”چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے“ گویا یہ چین کی وہ للکار ہے ان پاکستان کے دشمنوں کے لیے، جو پاکستان کا برا چاہتے ہیں، وہ ممالک بھی جنہوں نے چپ کا روزہ رکھ کر یہ سوچ رہے ہیں کہ بھارت سے تجارتی تعلقات کو کیوں خراب کریں، پاکستان جانے اور کشمیری جانے۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، ہماری حکومت خواہ کیسی ہی کیوں نہ ہو، ان کا عمل کچھ بھی ہو، اللہ نے ا س مملکت خداداد کو انشاء اللہ قائم و دائم رکھنا ہے۔

جوہری طاقتوں میں پاکستان وہ واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔ پاکستان کے علاوہ کوئی بھی اسلامی ملک ایسا نہیں۔ایٹمی طاقت والے ممالک میں امریکہ، چین، برطانیہ، شمالی کوریا، فرانس، روس، بھارت اور پاکستان شامل ہیں۔ اسلامی ممالک بھارت سے دوستی بڑھائیں یا اسرائیل سے یا کسی اور ملک سے وہ پاکستان پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ اسلامی ممالک دنیا کے امیر ترین ممالک میں ضرور شامل ہیں۔ 2018ء کے ایک سروے کے مطابق جو روزنامہ ڈان نے کیا، انٹر نیٹ پر موجود ہے کہ دنیا کے 15امیر ترین ممالک میں سعودی عرب کا نمبر 15واں ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کا نمبر 9نواں اور بحرین تو کسی گنتی میں شامل ہی نہیں۔ یہ تینوں وہ ممالک ہیں جنہوں نے گزشتہ دنوں نریندرمودی کو اعزازات، احترامات سے نوازا ہے۔

آئیے دیکھتے کہ دنیا کے15 امیر ترین ممالک دولت کے اعتبار سے کون کون سے ہیں۔
قطر سر فہرست ہے یعنی پہلے نمبر پر ہے جس کی فی کس آمدنی129360ڈالر ہے، دوسرے(2) نمبر پر مکاؤ ہے جس کی فی کس آمدنی 125170ڈالر ہے،، تیسرے (3)نمبر پر لکسمبرگ فی کس آمدنی 112710ڈالرہے،چوتھے(4) نمبر پرسنگاپور جس کی فی کس آمدنی 93680ڈالرہے،پانچویں (5) نمبر پر برونائی جس کی فی کس آمدنی 77700ڈالرہے،چھٹے (6)نمبر پر آئرلینڈ ہے جس کی فی کس آمدنی 75790ڈالرہے،ساتویں (7) نمبر پرناروے ہے جس کی فی کس آمدنی 72190ڈالرہے،آٹھویں (8)نمبر پر کویت ہے جس کی فی کس آمدنی 71930ڈالرہے،نویں (9)نمبر پر متحدہ عرب امارات ہے جس کی فی کس آمدنی 69900ڈالر ہے ،دسویں (10) نمبر پر ہانگ کانگ ہے جس کی فی کس آمدنی 63350ڈالرہے،گیارہویں (11) نمبر پر سوئیزرلینڈ ہے جس کی فی کس آمدنی 62690ڈالرہے،بارھویں (12)نمبر پر سان مارینو ہے جس کی فی کس آمدنی64443ڈالرہے،تیرھویں (13)نمبر پر امریکہ ہے جس کی فی کس آمدنی 61690 ڈالرہے،چودھویں (14) نمبر پر نیدر لینڈ ہے جس کی فی کس آمدنی55870ڈالرہے، پندرویں (15) نمبر پر سعودی عرب ہے جس کی فی کس آمدنی 55850 ڈالرہے۔دولت اور جوہری قوت کے ان اعداد و شمارسے اسلامی اور دیگر بڑے ممالک کی حیثیت کااندازہ بخوبی کیاجاسکتا ہے۔ وہ دنیائے عالم میں کس قدر وزن رکھتے ہیں صاف عیاں ہے۔ اسلامی ممالک جہاں بادشاہت ہے، وہاں کے فرمانرواں شیشے کے گھروں میں، نوٹوں کے ڈھیر پر سونے اور چاندی کے چمچے لے کر پیدا ہوئے ہیں، انہیں کیا معلوم کہ غربت کیا ہوتی ہے، آزادی کس چڑیا کا نام ہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام کس مشکل سے دوچار ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کوچند اسلامی ممالک کی جانب سے جو پروٹو کول دیا گیا،اعزازات سے نوازا گیا موجودہ صورت حال میں پاکستانی عوام پر اس کے منفی اثرات کا مرتب ہونا لازمی امر تھا اس لیے کہ پاکستانی عوام تو اسلامی ممالک سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں، انہیں اپنے جسم کا حصہ تصور کرتے ہیں، یاد کریں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب پاکستان نیا نیا دو لخت ہوا تھا، لاہور میں اسلامی کانفرنس کا منعقد ہونا اور سربراہان کا پاکستان میں جمع ہوکر دنیا کو اسلامی اتحاد کا پیغام دینا، مغربی طاقیں بشمول بھارت اس وقت ہل کر رہ گیا تھا۔ اب بھی پاکستان کو اپنے اسلامی ممالک سے اسی ہمدردی، حوصلے اور حمایت کی توقع تھی جو کہ اسے نہیں ملی، اس وقت تو اسلامی اتحاد کی فوج کا کمانڈر انچیف بھی پاکستان کا سابق سپہ سالار ہے۔ لیکن افسوس چند ممالک نے پاکستان کی نازک صورت حال کا ادراک نہیں کیا بھارت سے اپنے تجارتی مراسم کو فوقیت دی۔یاد رکھو دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی، کبھی کبھی مشکل وقت میں دولت بھی ساتھ چھوڑجاتی ہے، کئی اسلامی ممالک کے سربراہان کا انجام ہمارے سامنے ہے، دولت نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ نہیں دیا، ان کے نام لینے کی ضرورت نہیں۔ نشان عبرت ہیں وہ سربراہان۔

بات چین کی کرنا مقصود تھی کہ کیا موجودہ حالات میں چین کی حمایت، چین کا ساتھ، چین کی للکار پاکستان کے لیے کافی ہے؟ یا اس کے علاوہ بھی پاکستان کو خارجی محاذ پر حکمت عملی کو اور زیادہ پھیلانے، دیگر ممالک کی کھلم کھلم حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہے جس طرح چین نے بانگ دھل کہا کہ ”چین ہمیشہ کی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، ہم قومی مفاد سے متعلق معاملات پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھے حمایت کی روایت برقرار رکھیں گے، چین اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے“۔ یہ بات چین کے سینٹرل ملڑی کمیشن کے وائس چیرئ مین جنرل زوکی لیانگ نے وزیر اعظم پاکستان سے اپنی ملاقات میں کہیں۔ پاکستان کو چین کی دوستی پر فخر ہے، چین نے پاکستان سے اپنی دوستی کا ایک بار پھر اعادہ کر کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ چین واقعی پاکستان کا بہترین دوست ہے۔ لیکن چین کی دوستی، حمایت، للکار اپنی جگہ حالات کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کی حکومت کشمیر کے مسئلہ کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچائے، فون کال، ٹوئیٹ اپنی جگہ، وقت کی ضرورت اور ٹیکنالوجی کا استعمال ہونا چاہیے لیکن جو بات آمنے سامنے بیٹھ کر تاثر دیتی ہے وہ فون کال پر نہیں آسکتی۔ اب دیکھیں مودی اور ٹرمپ کی ملاقات یا ٹرمپ اور عمران کی ملاقات سے جو تاثر سامنے آیا کیا وہ فون کال یا ٹوئیٹ سے آسکتا تھا؟، مودی نے ٹرمپ کا ایک ہاتھ اپنے ایک ہاتھ میں جب کہ ٹرمپ کا دوسرا ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ سے تھپ تھپاتے ہوئے ثالثی والی بات کو ہاتھو ں ہی ہاتھوں میں گھما دیا، ٹرمپ بھی دیکھتا کا دیکھتا رہ گیا۔یہ عمل فون کال پر یا ٹوئیٹ سے ممکن تھا، نہیں کسی طور بھی نہیں۔ یہ بات تو وہ پہلے بھی کہہ چکا تھا کہ ثالث کی ضرورت نہیں لیکن دنیا کے سامنے مودی اور ٹرمپ کے ہاتھوں سے پہنچایا جانے والا پیغام اثر رکھتا تھا۔ اس لیے حکومت سے پھر درخواست ہے کہ عمران خان صاحب طوفانی دورہ کریں، وزیرخارجہ طوفانی دورہ کریں، چیف آف آرمی اسٹاف الگ طوفانی دورہ کریں، وزیر اطلاعات، وزیر داخلہ اور چند وزیر الگ الگ مختلف ممالک کا دورہ کریں، عمران خان کا پیغام سربراہان مملکت کو پہنچائیں تو پاکستان کی حکمت عملی میں تیزی آئے گی، وہ ممالک جو ابھی تک خاموش ہیں ان کی زبان کھلوائیں، حمایت حاصل کریں، ایران، ترکی، ملائیشیا، چین کی طرح پاکستان کی حمایت میں اور کشمیریوں کے حق کے لیے وہ آواز بلند کریں۔ بہت سے اور باتیں بھی ہیں جیسے ہوائی راہ داری بھارت کے لیے فوری طور پر بند کردی جائے، نقصان ہوگا، کوئی بات نہیں، زمینی راستے بھارت کی تجارت بند کردی جائے، نقصان ہوگا ہونے دیں، جن ممالک کو نقصان ہوگا کم از کم ان کی زبان تو کشمیریوں کے لیے کھلے گی۔ ورنہ انہیں کیا ضرورت ہے، مودی ہمارے سروں پر سفر کررہا ہے، سینکڑوں بھارتی دن میں نہ معلوم کتنی مرتبہ پاکستان کی سرزمین کو استعمال کر رہے ہوں گے۔ جب ان کی تمام ضرورتیں پوری ہورہی ہیں تو انہیں کیا مصیبت ہے کہ وہ ٹرمپ کی ثالثی قبول کریں۔ آج ان کے گلے میں پھندہ ڈل جائے کل ہی وہ ثالثی بھی قبول کر لیں گے،بات چیت پر آمدہ بھی ہوجائیں گے۔ ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر کے لوگ جو عمل کر رہے ہیں، اپنا احتجاج جاری رکھیں۔احتجاج پاکستان میں بھی ہوتا رہے چاہیے جمعہ کے دن آدھے گھنٹے کے لیے ہی ہو، ہونا چاہیے۔ انشاء اللہ فتح کشمیریوں کی ہوگی، فتح پاکستان کی ہوگی۔پاکستان زندہ باد، چین پائندہ باد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں