25

شہ رگ کو کٹنے سے کو ن بچائے گا۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر۔۔ پیرسید سہیل بخاری

بڑی با برکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اسی نے موت اور حیات کو پیدا کیا تا کہ تمہیں آزمائے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتاہے اور وہ بڑا زبردست بخشنے والاہے۔ اسی نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ تو خدا کی صنعت میں کوئی نقص نہیں دیکھے گا۔ پھر آنکھ اٹھا کر دیکھ لے (مگر سوائے اس کے اور کچھ حاصل نہ ہو گا کہ) نگاہ ذلیل اور درماندہ ہو کر تیری طرف واپس آئے گی اور بیشک ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں سے سجا رکھا ہے اور ان کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا ہے اور ان کیلئے آتش سوزاں کا عذاب (بھی) تیار ہے اور لوگوں کے لئے بھی جو اپنے رب تعالیٰ کے منکر ہیں جہنم کا عذاب ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ تب ان کو اس میں ڈالا جائے گا تو وہ اس کا شور و شر سنیں گے اور وہ جوش ماررہی ہوگی۔(جیسے) مارے عضب کے ابھی پھٹنے لگی ہے۔ جب کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا تھا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس ڈرانے والا بلاشبہ آیا مگر ہم نے تکذیب کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ نہیں اتارا۔ تم بڑی ہی غلطی میں ہوا اور کہیں گے کہ اگر ہم (ان کی) سنتے یا سمجھ سے کام لیتے تو (آج) دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔ غرض وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔ سو دوزخیوں کے لئے لعنت ہے بیشک جو لوگ اپنے رب تعالیٰ سے غائبانہ ڈرتے ہیں انکے لئے مغفرت اور اجر اعظم ہوگا۔ اور تم اپنی بات کو چھپاؤ اس کو ظاہر کر و (اس کیلئے برابر ہے کیونکہ) وہ تمہارے سینوں کے اندر چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے جس نے پیدا کیا۔کیا اسے معلوم ہے؟ وہ تو از حد باریک بین اور بڑا باخبر ہے۔

آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے محاصرے کو30دن ہوگئے ہیں۔ کشمیر کے مظلوم و مقہور باسیوں کی لہو سے لاشیں لت پت ہیں۔ دودھ پیتے بچے سے لیکر لاٹھی کے سہارے چلنے والے بوڑھے تک، ماں، بہن، بیٹی کی حراست سے لیکر حریت رہنما ؤں کی گرفتاری تک بھارتی فوج اور مودی سرکار نے اپنی ہٹ دھر می اور سفاکیت کا جس طر ح مظاہرہ کیا ہے اسکی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔

دوسری طرف ہماری حکومت پاکستان نے “کشمیر آور “کے نام سے جو مظاہرہ کیا ہے اس کا کوئی مثبت جواب عالمی سطح پر نہیں ملا اور بھارتی فوج اور مودی سرکار کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ الٹا اس احتجاج اور ریلیوں کے بعد کشمیری عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ سفاکیت کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ بھارتی افواج دن رات مظالم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے۔ اور محصور کشمیریوں کا کو ئی پرسان حال نہیں ہے۔ بھوک سے مرنے والے افراد اور دودھ سے بلکتے بچے جوکہ لقمہ اجل بن گئے ہیں ان کو بغیر کفن کے لوگ اپنے گھروں میں دفنا رہے ہیں۔ ظلم و ستم کی نئی تاریخ کشمیر میں رقم ہورہی ہے اور مسلم امہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

پاکستانی قوم نے اپنے کشمیری بھائیوں کو احتجاج کرکے یہ باور کروایا ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور پاکستانی قوم کشمیر کی آزادی تک کشمیری بھائیوں، ماؤں، بہنوں، کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

یہاں میں یہ عرض کرتا چلوں کہ کشمیر احتجاجی ریلیوں، جلسے،جلوسوں اور سیمینار ز سے آزاد نہیں ہو گا کیونکہ ہند و کو پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی وہ ڈنڈے کی زبان سمجھتا ہے اور جب تک ڈنڈہ استعمال نہیں ہوگا کشمیر کی آزادی ناممکن ہے۔ محصور کشمیریوں کو اب خود سے نکلنا ہوگا اپنے حقوق کیلئے سر پر کفن باندھ کر پھر تو وہ اپنا حق حاصل کرلیں گے۔ اب یہ وقت ہے کہ کشمیری نوجوان اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر بھارتی فوج کے ساتھ محصور علاقوں میں چھوٹی چھوٹی جھڑپیں کریں اور بھارتی فوج کا ناطقہ بند کر دیں تاکہ 30دن سے لگا کرفیو ختم ہو جائے۔ بھارتی فوج ایک بھگوڑا فوج ہے جب اس کے سامنے مسلمان جہاد کے لئے کھڑا ہو گا تو اس کا پیشاب نکل جائے گا۔ کشمیری نوجوان ٹولیوں میں بھارتی فوج کو محاصرہ میں لے کر علاقے کو آزاد کروائیں اگر کشمیری ایسا کرگئے تو کشمیر کی آزادی ممکن ہو سکے گی۔ کسی نے بھی باہر سے آکر ان کی مد د نہیں کرنی ہے بلکہ کشمیر یوں کو خود اپنی مدد کرنا پڑے گی۔ آج اگر ایسا نہ ہوا تو پھر کشمیر کی آزادی ایک سہانا خواب بن جائے گی۔ اور کشمیر ایک اور فلسطین، برما، عراق، یمن اور دیگر ممالک کا نقشہ پیش کرے گا جہاں پر لوگ آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔جب ہسپانیہ کے آخری مسلمان بادشاہ ابو عبداللہ کو سقوط غرناطہ کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا تو ایک پہاڑی چوٹی پر رک وہ غرناطہ پر آخری نظر دالتے ہوئے رونے لگا۔ اس وقت اس کی ماں نے اسے یہ تاریخی الفاظ کہے تھے “عورتوں کی طرح مت رو جس کیلئے تم مردوں کی طرح لڑ نہیں سکے ” آج کشمیر انڈیا کا حصہ بنتے دیکھ کر دنیا بھر کے مسلمانوں کی دہائی پر مجھے ابو عبداللہ کی ماں کے الفاظ یاد آگئے۔ کہ امت مسلمہ صرف احتجاج کر رہی ہے جہاد نہیں کر رہی بلکہ دور کھڑے کشمیر ی مسلمانوں کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہی ہے یہ کیسے مسلمان ہیں کہ کافر کے ساتھ جنگ لڑنے کی بجائے باتوں، مذاکرات کا سہارالے رہے ہیں۔ آزادی کبھی باتوں سے نہیں ملتی بلکہ جنگ و جدل،تاریخی جد وجہد اور مزید قربانیاں دینے سے حاصل ہوگی۔

کشمیر جل رہا تھا اور پاکستانی حکومت کھڑے ہوکر سائرن بجارہی ہے عوام سڑکوں پر ترانے گا رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے یہ سب دیکھ کر مجھے ایک تاریخی محاورہ یاد آگیا “روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا” خدارا بانسری نہ بجاؤ کوئی عملی قدم اٹھاؤ آج اگر آپ نے کشمیری قوم کا ساتھ نہ دیا تو بنگلہ دیش جیسا کوئی سانحہ وجود میں آسکتا ہے کیو نکہ 30دن سے محصور بھوکے، بیمار، دودھ سے بلکتے بچے،بیمار بوڑھے،نوجوان جوکہ دوائی،خوراک اور پانی سے محروم ہیں اور ہندو کی قید میں ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں کسی وقت بھی آتش فشاں پھٹ سکتا ہے بھارتی فوج کے بد ترین مظالم نے کشمیری خاندانوں کی زندگی تباہ کرکے رکھ دی ہے۔ اور وہ دن دور نہیں ہے کہ نہتے کشمیری بھارتی فوج سے دست بدست خالی ہاتھ اپنے آپ کو آزاد کروانے کی کوشش کریں گے۔ اس وقت سخت سیکورٹی میں مقبوضہ وادی میں مظاہرے جاری ہیں۔

اس وقت مقبوضہ کشمیر میں یو این او یا پھر اوآئی سی کا کردار ناکام اور غیر اہم دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ٹرمپ اور مودی نہلے پر دھلا ہیں ایک طرف ٹرمپ ثالثی کی پیش کش کرتا ہے تودوسری طرف مودی ایکشن لے کر وادی کو محاصرے میں لے کر نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ آخر کب تک مظلوم کشمیر ی ظلم و ستم برداشت کرتے رہیں گے اور اپنی نسل در نسل کی قربانی دیں گے۔ آج کشمیر ی نسل کے لئے موت کی کوئی اہمیت نہیں ہے انہوں نے اپنے بھائی، باپ، عزیز رشتے دار دوستوں کی میتیں اپنے کندھوں پر اٹھائی ہوئی ہیں۔موت کا خوف اب ان کو نہیں ہے۔ اسی وجہ سے کرفیو توڑنے کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں۔کسی کی آنکھیں بند کرلینے سے حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی ہے اور نہ ہی کشمیر یوں کی خواہش کے خلاف کشمیریکا کوئی حل وقوع پذیر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کشمیریوں پر مسلط کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی حکومت کو اقوام متحدہ نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے اور ٹرک بھی وہ ہے جو انیٹوں پر کھڑا ہے اور اسکی چلنے کی امید بھی نہیں ہے۔

وہ بھی اس لئے کہ مقبوضہ کشمیر سے کشمیری مسلمانوں کی نقل مکانی ہو اور ہندؤں کی آبادکاری کو یقینی بنایا جاسکے اگر ایسا ہو گیا تو کشمیر کی خودمختاری ناممکن ہوجائے اور وہ بھارت کا حصہ تسلیم کرلیا جائے۔ خدارا امت مسلمہ ہوش کے ناخن لیں اور کشمیری مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کو مکمل آزادی دلا ئیں تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے اور کشمیری مسلمان آزادی سے اپنے ملک میں خوشحال زندگی بسر کریں۔ کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور شہ رگ کو بچانے کیلئے موجودہ حکمرانوں کو زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر امت مسلمہ کا یہی منفی کردار رہا تو ان کو خواتین کی طرح چوڑیاں پہن لینی چاہیے اور حکومت وقت کو سو چنا پڑے گا کہ شہ رگ کو کٹنے سے کون بچائے گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں