67

ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی ایک ہمہ جہت شخصیت۔ صبا ممتاز بانو

تحریر صبا ممتاز بانو

ان کے کالموں میں کسی قسم کا جھول نہیں پایا جاتا اور نہ ہی وہ قاری کے ذہن میں سوالات چھوڑ تے ہیں۔وہ ا سکی تشفی کا پورا ساما ن کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کی ادبیت بھی ان کے کالموں کا حصہ ہے ۔ ان کی تحریر کاادبی وصف خاکہ نگاری میں خوب کھلتا ہے ۔ان کی شخصیت میں نفاست ، شائستگی اور اخلاص پایا جاتا ہے ۔ فی زمانہ یہ خصائص انسانوں میں خال خال ہی پائے جاتے ہیں۔صمدانی صاحب نے ہر موضوع پر اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔

ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب کا نام علمی ادبی اور صحافتی سطح پر کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک عالم و فاضل اور ہمہ جہت شخصیت ہیں۔وہ زندگی کے معاملات پر گہری اور دورس نگاہ رکھتے ہیں۔ان کے نقطہ نظر کی مدلل حیثیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے کالموں کا موضوع عالمی و پاکستان کی سیاست ، معاشرت ، معاشرے کے مسائل و مشکلات، اور کرنٹ ایشوز ہیں ۔شخصیات پر لکھنا بھی ان کا پسندیدہ موضوع ہے ۔شخصیت نگاری پر لکھنا کوئی آسان کام نہیں۔اس کے لیے گہرے مشاہدے کی ضرورت ہو تی ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے ملک کی نمایاں مرحومین شخصیات پر خصوصی طور پر لکھا ہے ۔دہشت گردی کے واقعات پر بھی انہوں نے خاص طور پر لکھا ہے ۔دہشت گردی وطن عزیز کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس پر انہوںنے قلم اٹھا یا ہے اور ان سنگین اور دردناک واقعات کو ددردکی لڑی میں پرو کر رکھ دیا ہے

دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔کبھی انہیں پیسے کا لالچ دیا جاتا ہے اور کبھی جھوٹی جنت کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے کالموں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف مسائل کی بات نہیں کرتے بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب چونکہ استاد اور تعلیمی اداروں کے صدور کے کے منصب پر فائز رہے ہیں ۔اس لیے ان کے قلم میں وہ نصیحت آموز رنگ بھی جھلکتا ہے جو کہ ایک قاری کو راہ راست کی طر ف لے کر جاتا ہے ۔وہ صحافی کے غیر جانبدار کردار کے قائل ہیں ۔ وہ صحافت کو ایک مقدس پیشہ قرار دیتے ہوئے بے ایمانی ، جانبداری ، نان پروفیشنل لوگوں کے اس شعبے میں آنے کو اس کے زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ 

ان کے کالموں میں کسی قسم کا جھول نہیں پایا جاتا اور نہ ہی وہ قاری کے ذہن میں سوالات چھوڑ تے ہیں۔وہ ا سکی تشفی کا پورا ساما ن کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کی ادبیت بھی ان کے کالموں کا حصہ ہے ۔ ان کی تحریر کاادبی وصف خاکہ نگاری میں خوب کھلتا ہے ۔ان کی شخصیت میں نفاست ، شائستگی اور اخلاص پایا جاتا ہے ۔ فی زمانہ یہ خصائص انسانوں میں خال خال ہی پائے جاتے ہیں۔صمدانی صاحب نے ہر موضوع پر اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں ۔ ان کے ہاں الفاظ کا چناﺅ بہت عمدہ ہے ۔ ان کے ہاں جملے بناوٹی نہیں بلکہ ایک قدرتی رچاﺅ لیے ہوئے ہیں۔وہ وطن عزیز میں اقتدار کی سیاست کرنے والوں کے پول خوب کھو لتے ہیں اور کسی قسم کا ڈر یا خوف محسوس نہیں کرتے جس سے یہ بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ ایک بہادر کالم نگار ہیں جوکہ اپنی بات کہنے کا صرف ڈھب ہی نہیں رکھتا بلکہ اس پر قائل کرنا بھی جانتا ہے ۔

وہ عمران خان کو سیاست میں ایک بہار کو جھونکا قرار دیتے ہیں ۔ وہ اس کے نجی معاملات کو لے کر کیچڑ اچھالنے کے سخت خلاف ہیں ۔وہ عمران کو مفاد پرست طبقے میں گھرا ہوا ضرور دیکھتے ہیں لیکن ان کی امید کی شمع پھر بھی روشن ہے ۔وہ سعودی ایران تعلقات پر بات کرتے ہوئے پاکستان کو اس میں ثالث کا کردار ادا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ پاکستان کے ساتھ سعودیہ کے تعلقات سات سمندروں سے بھی گہرے ہیں ۔ وہ سعودی سلامتی کو ہر حال میں پاکستان کے لیے مقدم قرار دیتے ہیں ۔ لیکن وہ ایران کو بھی پاکستان کا ایک اہم ہمسایہ ملک سمجھتے ہیں جس کی سلامتی پاکستان کو بہت عزیز ہے ۔ ایسے میں پاکستان کا کردار انتہائی متواز ن اور غیر جانبدار ہونا چاہیے ۔

وہ اپنے ایک کالم میں سپہ سالار فوج راحیل شریف کی تعریف کرتے ہیں اور سعودی عرب کے لیے ان کی جانب سے خدمات کو احسن قدم قرار دیتے ہیں جس کی توقع ایک مسلم سے کی جاسکتی ہے ۔وہ پی آئی اے کے زوال کی وجہ بد نظمی اور ناقص حکمت عملی اور سروسز کو قرار دیتے ہیں لیکن وہ عمل جراحی کے بعد اس کو ازسر نو زندہ کرنے کے حق میں ہیں۔وہ بنت حوا کے تحفظ کے بل کے حق میںہیں لیکن زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے اسے عملی طور پر نافذ کرنے اور موثر بنانے پر زور دیتے ہیں۔

شخصیات میں وہ سب سے پہلے جس عظیم ہستی پر قلم اٹھاتے ہیں ۔ وہ حکیم محمد سعید ہیں ۔دنیائے اسلام کی ایک نامور، کثیر الجہات اور قابل احترام شخصیت جن کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔خدمت انسانیت اور تعمیر و ترقی وطن ان کی زندگی کا واحد مقصد تھا اور وہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے تک یہ عظیم خدمات انجام دیتے رہے۔حکیم محمد سعید کی زندگی کا خاکہ لکھتے ہوئے وہ ان کی زندگی کا ورق ورق کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ اگر کسی کو حکیم محمد سعید کی زندگی اور نظریات کے بارے میں جاننا مقصود ہو تو ا س کتاب کا مطالعہ کرنا ضروری ہے ۔حکیم محمد سعید کو شہید وطن، شہید پاکستان ، فخر ملت کے القابات سے نوازا گیا۔انہوں نے اپنا تن من دھن اس ملک پر نچھاور کردیا ۔ ایسی ہستی پر جس طرح کا لکھنا چاہیے تھا ۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کا حق ادا کیا۔

فرزند اقبال جاوید اقبال کو وہ علم و دانش کی علامت قرار دیتے ہیں۔وہ جاوید اقبال پر لکھتے ہوئے ان کی صلاحیتوںکا بھر پور اظہار کرتے ہیں۔عظیم شاعر ، نثر نگار، قومی نغمات کے خالق جمیل الدین عالی کی وفات کو وہ ادب میں پیدا ہونے خلا سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ ان کے بارے میں بھی ان کی پیدائش اور حالات زندگی پر روشنی ڈالتے ہیں ورنہ ہمارے اکثر سوانحی خاکوں میں اس امر کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔

علامتی ، استعاراتی اسلوب کے منفرد نثر نگار انتظار حسین کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ ” وہ ایک نہایت خوش گوار اور شریف الطبع شخصیت تھے ۔ ان کی تحریروں میں زندگی اور جاودانی کا بھرپور احساس ان کی شاندارشخصیت سے ہی عبارت ہے۔

فاطمہ ثریا بجیا کو وہ ایک انجمن ہی نہیں ، ایک ادارہ قرار دیتے ہیں ۔ وہ اپنے عالی نسب خاندان کی تہذیبی ، ادبی ذوق اور ہنر مندی کی وارث ہیں ۔عالمی دن ویلنٹائن ڈے کو وہ ایک بڑی قباحت قرار دیتے ہیں ۔وہ اس دن کی تاریخ کو بیان کرتے ہیں ۔ وہ اس روایت کو مسلم معاشرے کے لیے زہر قاتل قرار دیتے ہیں ۔ وہ نوجوان نسل کو اس کی مکرو ہ تاریخ بارے آگاہی دیتے ہیں۔

ضیعف العمر لوگوں کے عالمی دن کو منانے کے متعلق ان کا پیغام یہ ہے کہ ان کو زندگی کے ہر دن میں یاد رکھنا چاہیے کیونکہ یہ عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں جب ان کو نوجوانوں کی اشد ضرورت ہو تی ہے ۔ادب کے نوبل انعام ملنے والوں کے متعلق بھی انہوں نے لکھا ہے ۔ اس میں شامل خواتین کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے ۔ یہ ایک بڑے ظرف کا ادیب ہی کر سکتا ہے ۔

سولہ دسمبر کے دن کو وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن قرار دیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک یہ پھولوں کے جنازے کا دن تھا ۔ اس دن کی سوگواریت کو وہ اپنے کالم میں تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔وہ الیکڑانک میڈیا کی شتر بے مہار آزادی کے خلاف ہیں ۔ وہ ا سکے لیے کچھ قواعد و ضوابط کی پابندی کو ضروری خیال کرتے ہیں۔وہ کتاب میلہ کو کتاب کلچر کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔یہ کتاب پڑھنے کے شوق کو ابھارنے کی طرف ایک قدم ہے ۔وہ پارلیمنٹ لاجز میں منشیات کے استعمال پر بات کرتے ہوئے ا سکی مذمت کرتے ہیں اور قوم کے لیڈروں کے اس فعل کو نہایت قبیح قراردیتے ہیںجس کی نفی ہی کی جانی چاہیے ۔

اس کتاب کا ایک اہم کالم اردو زبان کے نفاذ کا بھی ہے ۔وہ اس سلسلے میں آنا کانی کو جائز نہیں سمجھتے ۔ وہ بنا کسی تاخیر کے اردو زبان کے رائج کرنے میں ہی قوم کی ترقی پنہاں دیکھتے ہیں۔یہ کتاب ایک تاریخ بھی ہے کیونکہ اسے پڑھنے کے بعد مجھے تاریخی اعتبار سے بھی تمام پہلو پڑھنے کو ملے۔ڈاکٹر صاحب نے کسی بھی موضوع پر لکھتے ہوئے صرف اپنی رائے ہی نہیں دی بلکہ اس کی تاریخی تفصیلات کو بھی بیان کیا۔ اسی طرح انہوں نے شخصیات کی پیدائش سے لے کر ان کی وفات تک کی زندگی کو ایک مختصر سے کالم میں سمیٹ کر رکھ دیا ہے اور یہ فن کسی کسی کو آتا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریر کی پختگی متاثر کن ہے ۔ ان کی مدلل تحریر قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور ا س کے ذہن کے تشنہ گوشوں کو سیراب کرتی ہے۔اس کتاب کا مطالعہ ہر ذی شعور کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ حقائق کی روشنی میں ملکی اور عالمی معاملات کو سمجھ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں