29

حضرت امام حسین علیہ السلام انسانیت اور صبر کا نام ہے۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر۔ پیر سید سہیل بخاری

قتل حسین ؑ اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

رب کریم کا ارشاد ہے بلاشبہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں اور بشارت دیتے ہیں کہ نہ تو تمہیں کسی آنے والے خطرے کا خوف ہونا چاہیے اور نہ ہی کسی کو گزشتہ بات کا رنج و ملال اور اس جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؑ

یزید ظلم اور بربریت کا نام ہے امام حسین علیہ اسلام انسانیت اور صبر کا نام ہے محرم الحرام شروع ہونے سے پہلے ہی ہمارے دلوں میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے خاندان کے ساتھ جو کربلا میں سانحہ ہوا اس کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔

یہ داستان شہادت گلشن نبوت کے کسی ایک پھول پر مشتمل نہیں تاریخ کے کسی دور میں بھی امت مسلمہ کربلا کی داستان کو نہیں بھول سکتی۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان کو اللہ تعالی کے نام پر قربان کر دی مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اپنے نانا کے دین کو بچانے کے لیے بے دریغ قربانیاں دیں اور اپنے پروردگار عالم کے حضور سرخرو ہوئے امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کو اللہ تعالی نے بہت زیادہ حسن دیا تھا جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی آپ کا بچپن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم، سیدۃ النسا علیہ السلام،حضرت علی علیہ السلام کی عظیم و پاکیزہ گود میں گزرا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسین ؑسے ہوں جو حسین ؑکو محبوب رکھتا ہے وہ اللہ کو محبوب رکھتا ہے حسین ؑ فرزندوں میں سے ایک فرزند ہے۔(ترمذی،مشکوۃ)

حضرت امام حسین علیہ اسلام کا مقصد د شہادت د راصل اسلام کی آئینی عظمت کا نہ مٹنے والا نقش قائم کرنا تھا۔ایک ایسا معاشرہ جس میں طاقت اور اقتدار کو حق نہ سمجھا جائے بلکہ حق کو حق سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت محسوس کی جائے امام حسین علیہ السلام کا یہ اعلان تاریخ اسلام میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اگر قرآن و سنت پر حکومت قائم نہ ہو تو ظالموں اور جابروں کا حکومت کرنا نہ صرف گناہ ہے بلکہ جوظلم دیکھے اور خاموش رہے اس کا شمار بھی ظالموں میں کیا جائے گا۔

جس نے اپنے نانا کا وعدہ وفا کردیا
جس نے حق کربلا میں ادا کردیا
جس نے امت کی خاطر فدا کر دیا
گھر کا گھر سب سپردِ خدا کردیا
اس حسین ؑ ابن حیدر ؑ پہ لاکھوں سلام

پروردگار عالم نے حضرت ابراہیم ؑ کو کی باتوں میں آزمایا تو انہوں نے وہ پوری کردی (اس پر) اللہ نے فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا (کیا) میری اولاد میں سے بھی؟ ارشاد ہوا (ہاں مگر) میرا وعدہ ظالموں کو پہنچتا۔اللہ نے اس آیت مبارکہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کرنے اور ان سے کامیابی سے گزرنے اور پھر اس انعام کا تذکرہ فرمایا ہے جو لوگ آزمائش سے بھاگ جاتے ہیں وہ پست رہتے ہیں اورجو لوگ آزمائش کو سینے سے لگاتے ہیں وہ عظیم ہوجاتے ہیں آزمائش ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ آزمائش میں اسی کو ڈالا جاتا ہے جس سے رب کریم پیار کرتے ہیں اور وہ اپنے محبوب بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے پروردگار عالم نے حضرت ابراہیم ؑسے پیار کیا اور انہیں آزمائش میں ڈالا وہ ہر آزمائش میں سرخرو ہوئے۔ سلسلہ آزمائش جو حضرت ابراہیم ؑ سے شروع ہوا تھا اور امام حسین علیہ السلام پر ختم ہوا۔

غریب و سادہ و رنگین ہے داستان ِ حرم
نہایت اس کی حسین ؑ ابتداء ہے اسمائیل ؑ

کربلا کا قافلہ سالار امام حسین ابن علی علیہ السلام اور دیگر شہدائے کربلا نے راہ حق میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جرات کا اظہار کیا اور باطل کے خلاف احتجاج و جہاد کا سلیقہ اور ولولا عطا ء کیا۔

حضرت امام حسین علیہ اسلام نے اپنے کردار و عمل سے ثابت کردیا کہ حق کی آواز کو بلند کرنا انسانی اقدار کا تحفظ اور دین کی سربلندی پاسداری اور اپنے نانا کے دین کو تقویت اور تحفظ دینا ہے اور قیامت تک دین محمدی کی سربلندی کے لیے ظالم کے سامنے کھڑا ہونا اور اپنے پیاروں کی قربانی سے دریغ نہ کرنا ہی امام پاک ؑ کی عظمت کی نشانی ہے۔

حق اور باطل کی یہ دو قوتیں زندگی میں رونما ہوتی رہتی ہیں مگر حق ہمیشہ قوت حسینی ہی سے زندہ ہے اور باطل کو آخر کار شکست ہوتی ہے حضرت امام حسین علیہ السلام کے رفقا ء کی قربانی تا قیامت تک یاد رکھی جائے گی کیونکہ آپ نے کعبۃ اللہ کی عظمت و حرمت اور نانا کے دین کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور ایک زندہ مثال قائم کردی کہ حق کے سامنے باطل کو نیچا دیکھنا پڑتا ہے۔ امام پاک ؑ نے میدان کربلا میں جو عظیم قربانیاں پیش کی ہیں اس نے ثابت کر دیا ہے کہ باطل ہمیشہ مٹنے والا ہے خواہ اس کے پیچھے کتنی ہی بڑی قوت کارفرما کیوں نہ ہو۔


سانحہ کربلا میں روز عاشور کی قیامت خیزی کے بعد فرات کے دہکتے ہوئے ساحل پر آزمائشوں کے جو حوصلہ شکن اور قیامت خیز نقشے دکھائی دیے صبح عاشور سے لے کر عصر تک جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک کرب ا نگیز اور ناقابل فراموش باب ہے۔


سید الشہدا ء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہمیں کئی پیغام دیتی ہے کہ باطل قوت کے سامنے کبھی سر نہ جھکانا اور سچ پر ڈٹے رہنا۔


امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقاء کی قربانی ہر قوم کے لئے مشعل راہ ہدایت ہے اور اسلام کی عظیم ترین قربانی اور بے نظیر شجاعت کی مثال نہیں ملتی۔حضرت امام حسین علیہ السلام دین کی سر بلندی، انسانی اقدار کا تحفظ اور حق کی آواز پر لبیک کہنا اسوہ پیمبری، شیوہ شبیری ہے۔ امام حسین علیہ السلام اور انکے رفقاء کی شہادت کے بعد کسی بھی حکمران کو اہل بیت سے بیعت کرنے کا مطالبہ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔


واقعہ کربلا گلشن نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیسیوں پھولوں کے مسلے جانے کی داستان ہے لہٰذا تاریخ کے کسی بھی دور میں امت مسلمہ واقعہ کربلا کی اہمیت کو فراموش نہیں کرسکتی ا۔س کے باوجود بعض نادان لوگ نادانی کے باعث یا اہل بیت پاک کی محبت کی محرومی اور اپنی بدبختی، بدقسمتی کے باعث بغض اہل بیت رکھتے ہیں اور معاذاللہ اس واقعہ کو دو شہزادوں کی جنگ قرار دیتے ہیں واقعہ کربلا دو شہزادوں اور اقتدار کی جنگ قرار دینا بہت بڑا ظلم اور منافقت کی انتہا ہے اور اسلام کی تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے مگر ان ناعاقبت اندیش لوگوں کی ساری کوششوں کے باوجود بالآخر یہ کہنا پڑتا ہے


قتل حسین ؑ اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں