36

اکیسویں صدی کے” سر سید احمد خان “عابد وزیر خان ۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر۔ پیر سید سہیل بخاری

مسیحائے تعلیم عابد وزیر خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی حکومت نے کبھی تعلیم کے شعبہ پر خاص توجہ نہیں دی اور اسی وجہ سے تعلیم کا شعبہ کسمپرسی کا شکار ہے پرائیوٹ سطح پر حکومت نے اداروں کو چلانا مشکل کردیاہے حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیم کے شعبہ کو کمرشل نہ کریں تعلیم خدمت خلق کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے ملک و قوم کی نئی نسل کو کی راہ دکھائی جاتی ہیں۔

علم کی دنیا میں کتاب کی اہمیت کو صدیوں سے افضل جانا ہے کیونکہ آج تک جتنا بھی علم ہم تک پہنچا ہے وہ کتاب کے ذریعے انسان تک پہنچایا گیا ہے اگر کتاب کا وجود نہ ہوتا تو پھر یہ حقیقت ہے کہ انسان وہ ترقی نہ کر سکتا تھا جو آج تک اس نے کی ہے کیونکہ کتاب ایک علم، تعلیم و تربیت کا بہترین ذریعہ ہے آج تک جتنی بھی قوموں نے ترقی کی ہے اس میں کتابوں کا اور اچھے اساتذہ د کا بہت بڑا دخل ہے۔اور کتاب نے صدیوں کی ارتقائی منزلیں طے کی ہیں.

کسی چیز کی جان پہچان اور معلومات رکھنے کو علم کہتے ہیں اور علم کتاب کے ذریعے استاد سے حاصل ہوتا ہے جس طرح انسان کی آنکھ کے لئے سورج کی روشنی ضروری ہے اسی طرح انسان کو علم حاصل کرنے کے لئے ایک قابل اور نیک استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ انسانوں میں اپنے علم کو پھیلائے اور ہر انسان اور ہر ملک کی ترقی کے لئے علم اور عمل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ لہذا جس طرح اور جس معیار کی یہ دونوں چیزیں ہونگی اسی معیار کی ترقی ہوگی کیونکہ اکثر انسان کتابیں تو پڑھتے رہتے ہیں مگر ان کا اثر قبول نہیں کرتے۔

اور ان کتابوں کے اثر کے لیے ایک ایسے باکرداروباعمل فرشتہ صفت انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو کتابوں کے ذریعے علم کی روشنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنے کردار سے بھی طلباء و طالبات کو ترقی کرنے کا راستہ دکھائے

آج ہم بات کرتے ہیں اکیسویں صدی کے سرسیداحمدخان کی یعنی کہ جناب عابد وزیر خان چیف ایگزیکٹیو کپس ایجوکیشن سسٹم کی۔ جن کی دوراندیش نظروں نے پاکستان کے ہونہار طلبا ء و طالبات کو علم کی روشنی سے آگاہ کرنے کے لیے ایسا ادارہ قائم کیا جو کہ آج ایجوکیشن کے شعبہ میں ایک برانڈ بن چکا ہے۔

انٹری ٹیسٹ ہویا میٹرک کے امتحانات، سی ایس ایس کی تیاری ہو یا ایف ایس سی کا میدان ہر شعبہ میں اس ادارے کی کارکردگی قابل تحسین ہے اور اس تمام کامیابی کا کریڈٹ جناب عابد وزیر خان کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو انہوں نے اپنے ادارے کے ہر شخص کے اندر کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے۔

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

عابد وزیر خان نے نوجوانوں کو علم کی ایک نئی راہ دکھائی ہے اس موقع پر اگر ان کے گورنمنٹ کالج لاہور کے استاد جناب سید خالد شاہ گیلانی کا ذکر نہ کروں تو کپس کی بنیادی اکائی پر اثر انداز ہوگا کیونکہ عابد وزیر خان نے اپنے استاد کی روشنی کی ہوئی شمع کو اور تقویت دینے کے لیے کپس جیسا عظیم و شاندار ادارہ قائم کیا ہے۔

کپس ایک فیملی کا نام ہے جس میں سب کو یکساں اہمیت دی جاتی ہے عابد وزیر خان چیف ایگزیکٹو کپس ایجوکیشن سسٹم کا تعارف اسطرح ہے کہ آپ اوکاڑہ کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے عابد وزیرخان ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے والد وزیر خان نے زرعی یونیورسٹی سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی چونکہ والد گرامی مختلف اداروں میں کام کرتے تھے جس کی وجہ سے عابد وزیر خان نے مختلف شہروں کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی چہارم سے مڈل تک پنجاب یونیورسٹی لیبارٹری سکول لاہور سے،میٹرک پائلٹ ہائی سکول سے اورانٹر گورنمنٹ کالج سے کرنے کے بعد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر کے شعبہ تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔

انیس سو تیراسی میں عابد وزیر خان نے انٹر کے بعد دوسال سکول میں پڑھایا اس زمانے میں انٹر کے دو سال بعد یونیورسٹی آف انجینئرنگ میں داخل ہوتے تھے اس لئے طلبہ بی ایس سی میں داخلہ لے لیتے تھے عابد وزیر خان نے بھی ایسا ہی کیا۔ عابد وزیر خان نے اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے اسکول میں پڑھانا شروع کردیا دوران ٹیچنگ ان کو یہ احساس ہوا کہ انہیں پڑھانے کے شوق کے ساتھ ساتھ آگے پڑھنے کا بھی شوق ہے اور پاکستان کا نظام تعلیم معیاری نہیں ہے تعلیم کے نام پر بہت سے ادارے فراڈ کرتے ہیں اور جس طرح بچوں کو تعلیم دینی چاہیے وہ کام اس طرح نہیں ہو پا رہا اس لیے نئی نسل کو نئی جدت کے ساتھ ساتھ پرانی روایات کو بھی نئی جدت اور روشنی سے آشنا کرنے کے لئے عابد وزیر خان نے تعلیم کے شعبہ میں قدم رکھا۔ پرائیویٹ سطح پر تعلیمی میدان میں ایسا مقابلہ جاری تھا کہ کسی نئے ادارے کا قدم جمانا مشکل تھا مگر ان کی ہمت عزم اور پاکستان کی نئی نسل کو تعلیم سے روشناس کروانے کا جوش انکو اس میدان میں کامیابی سے ہمکنار کرتا گیا اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سب میرے پروردگار عالم اور ان کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم محسن انسانیت کی اسلام کے لئے جو ناقابل فراموش خدمات ہیں ان کو مشغل راہ بنا کر میں اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوں۔

مسیحائے تعلیم عابد وزیر خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی حکومت نے کبھی تعلیم کے شعبہ پر خاص توجہ نہیں دی اور اسی وجہ سے تعلیم کا شعبہ کسمپرسی کا شکار ہے پرائیوٹ سطح پر حکومت نے اداروں کو چلانا مشکل کردیاہے حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیم کے شعبہ کو کمرشل نہ کریں تعلیم خدمت خلق کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے ملک و قوم کی نئی نسل کو کی راہ دکھائی جاتی ہیں۔

عابد وزیر خان کے والد جناب وزیر خان کے کاروبار میں نقصان کی وجہ سے عابد وزیر خان نے انیس سو نوے میں نالج ان کےنام سے اکیڈمی شروع کی۔ جو کہ والد صاحب کے کاروبار میں بہتری آنے کے بعد بند کردی گئی۔ عابد وزیر خان ایک جذبہ لے کر تعلیم کے میدان میں کچھ کرنے کے لئے آئے۔ انیس سو ستانوے میں ایم بی بی ایس اور انجینئرنگ کے ٹیسٹ کی تیاری کی ابتداء کی اس سے قبل فاسٹ اور دوسرے تعلیمی اداروں کے لئے بھی انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرواتے رہے۔

عابد وزیرخان نے پہلی مرتبہ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانے کی ابتدا کی اور اپنے ادارے کا نام نالج ان پریپٹری اسکول جس کا مخفف کپس رکھا جو کہ اب پاکستان اور بیرون ملک بھی ایک ٹریڈمارک بن چکا ہے۔ پاکستان کے ایک مجاہد تعلیم کی ترقی کے پیچھے پانچ آئیز فارمولا کارفرما ہے. پہلا نیت، دو سرا معلومات، تیسرا ملوث، چوتھا مراعات، پانچواں ہر چیز پر نظر رکھنا۔

عابد وزیر خان کے ویژن کے تین قسم کے منصوبے اس وقت پاکستان میں بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔

ان میں کپس اکیڈمیز، سکولزجو کہ پاکستان کے اکثر بڑے شہروں میں موجود ہیں۔ اور کالجز جوکہ اس وقت جو بڑے شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں کپس اکیڈمیز جو کہ اس ادارے کا مرکزی منصوبہ ہے جو اس وقت پچیس شہروں میں قائم ہے۔ بلوچستان کے علاوہ ہر صوبے میں اسکی شاخیں موجود ہیں لاہور میں تقریباََ بیس سے زائد مقامات پراسکی برانچز موجود ہیں۔

عابد وزیر خان جن کو بلا شبہ اکیسویں صدی کا سر سید احمد خان کہا سکتا ہے۔ ان میں وہ سب صلاحیتیں موجود ہیں جو کہ ایک ماہر تعلیم،مسیحائے تعلیم اور دوراندیش شخصیت میں ہوتی ہیں عابد وزیر خان تعلیم کے میدان میں ایسا گہرا سمندر ہیں جس کی گہرائی کو جانچنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔عابد وزیر خان کے ساتھ انکے برادرز اور شاگرد سلمان مقصود جو کہ اس وقت کپس کے مینجینگ ڈائریکٹر کا بھی ذکر نہ کیا جائے تو یہ کالم نا مکمل ہوگا کیو نکہ کے جو مشغل عابد وزیر خان نے اپنے خون جگر سے روشن کی تھی اس میں ان سب کا بھی حصہ ہے۔ ہماری دعا ہے کہ کپس فیملی تاقیامت شاد و آباد رہے اور تعلیم کے میدان میں ناقابل فراموش جھنڈے گاڑتی رہے۔ آمین! عابد وزیر خان کو 2010ء میں تعلیمی خدمات پر ایشین ایکسی لینس پرفارمنس ایوارڈ دیا گیا اور 2018ء میں تعلیمی او رسماجی خدمات پر ایشین میڈیا ایوارڈ سے نوازا گیا کیونکہ عابد وزیر خان سماجی و فلاحی خدمات کیلئے ایک تنظیم “فائدہ فاؤنڈیشن ” قائم کی ہوئی ہے جو کہ پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں مائیکرو فنا نس کے علاوہ مختلف گورنمنٹ سکولوں میں فری بیگزاور کتابیں، یونیفارمز، مستحق بچوں میں تقسیم کر تے ہیں اور اسکی تشہیر نہیں کی جاتی ہے۔حکومت پاکستان کو اس عظیم اور فرشتہ صفت انسان کو سول ایوارڈ سے نوازنا چاہیے تاکہ حکومتی ایوارڈ کی شان میں اضافہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں