38

یہ کیا ہو رہا ہے ! پیر سید سہیل بخاری

تحریر۔ پیر سید سہیل بخاری

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ تھانے کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے اور ملزم خواہ ایک ہو یا زیادہ انہیں فوری طور پر مقدمات چلاکر سخت سے سخت سزا دی جائے۔ بچوں کے سفاک قاتلوں کو جلد گرفتار کرکے مقدمات کو طویل دینے کی بجائے اس کا فوری فیصلہ کیا جائے اور ملزمان کو سرعام پھانسی لگا دی جائے۔

پروردگار عالم نے تمام کائنات میں اسلام کا نظام قائم کر رکھا ہے یعنی امن، سلامتی و سکون،بھائی چارہ، محبت خلوص اور اتفاق۔یہی وہ نظام ہے جس کے تحت سورج، چاند، ستارے اور سیارے اپنے مدار میں اور اپنی اپنی اقدار اور خصوصیت کے تحت گردش کرتے ہیں دراصل یہ سب اللہ کے ان احکامات و قوانین کے پابند ہیں جو قانون قدرت اور قانون فطرت کے نام سے زمین وآسمان ہماری زندگی میں نافذ العمل ہے یہی وہ قدرتی قوانین ہے جو تمام نباتات جمادات اور حیوانات کی زندگی میں بھی نافذ ہے اور قوانین کے تحت زندگی رواں دواں ہیں کائنات کی جس بھی چیز کے اندر سلامتی امن اور سکون ہوتا ہے اس کو قانون فطرت کہتے ہیں اورقانون فطرت کے تحت انسان معاشرے قوم اور ملک میں اپنی زندگی بسر کرتا ہے اور اگر ہمیں قانون فطرت کو توڑیں گے تو زندگی میں فساد برپا ہو جائے گا۔

اس ملک میں کہیں معصوم بچی جنسی درندگی کا شکار ہو رہی ہے اور کہیں پر بچوں کو اغوا کرنے کے بعد جنسی درند گی جیسا گھناؤنا فعل کیا جاتا ہے اور پھر ان کو بے دردی سے قتل کرکے ان کی لاشیں سڑکوں پر پھینک دی جاتی ہیں اور اس سے بڑا ظلم یہ کیا جا رہا ہے کہ بچوں کو اغواء کرکے کئی ماہ زیادتی کے بعد قتل کیا جارہا ہے۔ اس طرح کے ملتے جلتے واقعات پنجاب میں آٹھ ماہ کے دوران چودہ سو پچاس بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے خلاف 145 مقدمات درج کیے گئے جن میں نامزد 151 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حال ہی میں ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں اڑھائی ماہ قبل تین بچوں فیضان،علی اور سلمان جن کی عمریں بلترتیب 9اور8 سال ہیں ملزمان نے زیادتی کے بعد اور جبکہ چوتھا بچے کی لاش کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ تین بچوں کی لاشیں مل سکی ہیں۔ان میں دو بچوں کی لاشیں اتنی مسنح شدہ ہیں ان کی صرف ہڈیاں اور کھوپڑیاں ہی مل سکی ہیں۔ زینب قتل کیس کے بعد قصور کی تاریخ کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے جس نے معاشرے کو ہلاکر رکھ دیا ہے ان بچوں کے والدین نے ڈھائی ماہ قبل پولیس سے رابطہ بھی کیا تھا مگر پولیس کی روایتی غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے والدین کو آج اسانحہ سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو ضرور کوئی نہ کوئی مثبت نتیجہ نکل سکتا تھا سانحہ چونیاں بھی پولیس کی روایتی نااہلی بوگس ٹیمیں بنا کرتفشیش کرنے سے بچے اس سفاکیت کا نشانہ بنے۔ قتل کے بعد اب تحقیقاتی ٹیمیں بنائی جا رہی ہیں کیا اس طرح کرنے سے بچے کبھی اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں گے؟ کیا والدین کو چین و سکون آ سکے گا؟ ہرگز نہیں! کیونکہ بچے اب اس جہاں میں چلے گئے ہیں جہاں سے کوئی لوٹ کر واپس نہیں آتا۔ قیامت سے پہلے قیامت دیکھ لی ہے ان بچوں کے والدین عزیز و اقارب نے جس طرح معصوم زینب کے والدین نے قیامت صغریٰ دیکھی تھی۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ تھانے کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے اور ملزم خواہ ایک ہو یا زیادہ انہیں فوری طور پر مقدمات چلاکر سخت سے سخت سزا دی جائے۔ بچوں کے سفاک قاتلوں کو جلد گرفتار کرکے مقدمات کو طویل دینے کی بجائے اس کا فوری فیصلہ کیا جائے اور ملزمان کو سرعام پھانسی لگا دی جائے۔

ضیاء الحق کے دور میں معصوم پپو کے قاتلوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا گیا تھا اور اس پھانسی کا اثر 15 سال تک رہا تھا اور پندرہ سال تک کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا اگر زینب کے قاتل کو بھی سرعام پھانسی پر لٹکایا جاتا تو اس کی بازگشت ایسے مجرموں کو سنائی دیتی رہتی جو ایسا گھناؤنا جرم کرتے ہیں۔ پاکستان کہنے کو ایک اسلامی ملک ہے جہاں پر میڈیا کی وجہ سے جنسی درندگی اور بیہمانہ طریقے سے بچوں کو قتل کرنے کے واقعات منظر عام پر آ جاتے ہیں مگر کئی ایسے کیس منظر عام پر نہیں آتے جہاں پر میڈیا کی رسائی نہیں ہوتی۔پاکستان ایک مسلم ملک ہے کیوں اس کو بدنام کیے جا رہے ہیں۔ بااختیار حکمران اور علماء حضرات آگے آئیں وہ علماؤمشائخ جو پیشہ ور نہ ہوں ایسا ظلم کرنے والوں کو سزائیں دلوایں اور ایسے جرائم کرنے والے جنسی درندوں کو واصل جہنم کیا جائے۔ انصاف کرنے میں تاخیر نہ ہو اور پولیس کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے جو کہ فوری انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ حکومت اور انتظامیہ فوری ایکشن لے تاکہ اپنے ملک پاکستان کو ایک اچھی تہذیب اور صاف ستھرا معاشرہ دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کی جائے کیونکہ پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں بالخصوص یہودونصاریٰ پاکستان کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ مسلم ممالک ہم پر امید لگائے بیٹھے ہیں اور کرتوت دیکھو۔ لوط علیہ السلام کی قوم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے والے لوگ اگر پاکستان کے حالات کو دیکھیں تو شکرانے کے نفل ادا کریں گے کہ ہم پاکستان میں پیدا نہیں ہوئے پاکستانی قوم کے حالات ایسے ہوگئے ہیں ”استغفراللہ“۔ جس ملک میں انصاف بکتا ہو انصاف میں تاخیر ہو انصاف ختم ہو جائے وہاں معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔ وہاں ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ انسان کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے اور ایک دن آئے گا کہ جتنے بھی بڑے لوگ ہوں گے ان کا جینا عوام دوبھر کر دے گی اور ان لوگوں کا کیا ہوگا؟معاشرہ ان کے گلے پڑ جائے گ

حکمران ٹھیک ہونگے تو معاشرہ اچھی سمت کی طرف جائے گا جب حکمران ہی صرف اور صرف مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے کوششیں کریں کر رہے ہوں تو قصور جیسے واقعات اور جموں و کشمیر جیسے سانحہ پیش آتے ہیں۔ اور جو انسان اور ملک پروردگار عالم کی رہنمائی حاصل نہیں کرتے وہ ان ترقی یافتہ انسانوں اور ممالک کے غلام اور محتاج بن کر رہ جاتے ہیں کیونکہ قوانین فطرت کے بغیر کوئی انسان یا ملک ترقی نہیں کرسکتا یہاں تک کہ انسان کی زندگی اور موت بھی قوانین قدرت سے منسلک ہے۔ اب حکومت وقت اور انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ ایسے گھناؤنے اور ناقابل معافی جرائم پر قابو پائے اور معصوم بچوں کو جنسی درندگی سے بچانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں