50

پاکستان اور دنیا میں منشیات کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان ۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر۔ پیر سید سہیل بخاری

دنیا میں منشیات کا دھندہ اس قدر منظم اور وسیع پیمانے پر ہوتا ہے کہ اس دھندے میں ملوث افراد دوسرے کی قسم کے جرائم میں ملوث ہوتے ہیں اور اس میں تجربہ کار عادی مجرموں کی ایک بڑی تعداد سرگرم ہیں اور ان کے سربراہ ایک مافیا کا روپ اختیار کر چکے ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے ” اپنی سوچوں کو پانی کے قطروں سے زیادہ شفاف رکھو کیونکہ جس طرح قطروں سے دریا بنتا ہے اسی طرح سوچوں سے ایمان بنتا ہے”۔
دنیا میں بہت سے مصائب اور پریشانیوں کا تعلق براہ راست ہمارے برے اعمال سے ہے ہم دوسروں کے لئے برائی نہ سوچیں برا نہ چاہیں اور برا نہ کریں اور اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھیں تو ہم بہت سی بیماریوں مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں اور ایسا کرکے ہم خود اپنے اوپر ہی احسان کریں گے اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے کہ”ہم تو تمہیں مصیبتوں میں نہیں ڈالتے یہ تو تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں “۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا کہ” تو لے آؤ تباہی و بربادی جس سے تم ہمیں ڈارتے ہو” تو حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا” تباہی اور بربادی لانا میرا کام نہیں یہ تو تمہارے اعمال لائیں گے” آپ اپنے اطراف میں نظر آئیں تو آپ کو سب سے زیادہ وہ رشتہ دار پریشانیوں بیماریوں میں مبتلا نظر آئیں گے جو آپس میں ایک دوسرے سے دلوں میں کھوٹ رکھتے ہیں لڑتے جھگڑتے ہیں یا قطع تعلق کر کے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔

الغرض رشتے داریوں کو سمجھنااور نبھانا کوئی مشکل کام نہیں ہے اس کے لیے صبر و تحمل برداشت مساوات رواداری اور اعلیٰ ظرفی کی ضرورت ہے اور اگر کوئی رشتہ دار، دوست، عزیز، ہمسایہ کسی بھنورمیں پھنس چکا ہو تو اس کی مدد کرنا بھی ایک جہاد ہے۔ آج کے دور میں منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال دنیا بھر میں بڑے خطرات کا الارم ہے اقوام عالم کے ساتھ ساتھ پاکستان دیگر ترقی پذیر اور پسماندہ مالک میں بھی منشیات کا فروغ ایک ایسی حقیقت کا روپ دھار چکا ہے جس سے چھٹکارا پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہوتا جارہا ہے پہلے منشیات میں چرس، افیون،ہیروئن کا نشہ استعمال ہوتا تھا پھر اس کی جگہ سرنج کے ذریعے منشیات استعمال کرنے نے لے لی اور اکثریت صمدبونڈ جیسی نشہ آور چیزیں سونگ کر دنیا کے اس خطہ میں پہنچ جاتے تھے جس کا اندازہ صرف اور صرف نشہ کرنے والا ہی لگا سکتا تھا اور جب تک وہ دوبارہ صمد بانڈ سونگ نہ لیں وہ دنیا میں واپس نہیں آتا تھا بلکہ ایک زندہ لاش کی طرح نہ کھانے کی ہوش نہ پینے کا علم اور نہ نہانے اور گندگی سے بھرپور جسم اور کئی کئی دنوں کے پہنے کپڑے ۔ان کے پاس ایک منٹ کیا ایک سیکنڈ بھی کھڑا ہونا دشوار ہوتا ہے۔


دنیا میں منشیات کا دھندہ اس قدر منظم اور وسیع پیمانے پر ہوتا ہے کہ اس دھندے میں ملوث افراد دوسرے کی قسم
کے جرائم میں ملوث ہوتے ہیں اور اس میں تجربہ کار عادی مجرموں کی ایک بڑی تعداد سرگرم ہیں اور ان کے سربراہ ایک مافیا کا روپ اختیار کر چکے ہیں۔

ان مافیا کا نیٹ ورک کئی ممالک میں پھیلا ہوا ہے ہے جنہوں نے منشیات کے فروغ کو پوری دنیا کے ماتھے پر بدنما داغ بنا دیا ہے ان میں بعض ممالک میں کئی امرا ء،سیاسی شخصیات اور کاروباری شخصیات ملوث ہیں جبکہ کئی ممالک میں غریب خاندانوں کے افراد اور پولیس بھی اس گھناؤنے دھندے میں شریک ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق منشیات کا کاروبار کرنے والے کئی ممالک کے بااثر افراد اس گھناؤنے اور انسانیت دشمن دھندے میں ملوث ہیں کیونکہ اس دھندے میں دولت کی ریل پیل چند دنوں میں ہو جاتی ہے ایک کڑی دوسرے کڑی سے ملتی ہے اور ایسی زنجیر بن جاتی ہے جس کو توڑنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ دولت اور منشیات کا نشہ جب ایک ساتھ ملتا ہے تو کون کافراس دھندے کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔

ہمارے ملک پاکستان میں حکومت نے ایک الگ وزارت قائم کی ہوئی ہے ایک علیحدہ اینٹی نارکوٹکس فورس کا وجود ہے سینکڑوں کے قریب انسداد منشیات کی تنظیم وجود میں آئی ہوئی ہے اور کئی سالوں سے کڑوڑوں کے فنڈز وصول کرنے کے باوجود ایک بھی شخص یا ایک نوجوان کو نشے کی اس موذی عادت کو نہ چھڑوا سکے۔ کئی ہسپتال قائم ہے جو کہ لاکھوں روپے فیس لینے کے باوجود کسی بھی نشہ زدہ مریض کو صحت یاب نہ کرسکے الٹا لواحقین سے لاکھوں روپے فیس وصول کرتے ہیں اور وہاں بھی ان کو منشیات فراہم کی جاتی ہیں انسداد منشیات کی تنظیمیں صرف موسیقی کے پروگرامزمنعقد کرکے اور عالمی انسداد منشیات کے دن واک سیمینار اور دیگر تقریبات منعقد کر کے حکومت سے وصول کردہ سالانہ فنڈز کو اخراجات کی مد میں ظاہر کرکے پھر دوبارہ جون جولائی میں دوسرے امدادی چیک کے لیے اپنی کارکردگی جمع کرواتے ہیں حتیٰ کہ یہ تمام پروگرامز سپانسرڈ ہوتے ہیں اور مہان خصوصی، گیسٹ آف آنر سے پانچ دس ہزار روپے فی فرد وصول کرکے انسداد منشیات کو بھی اپنا کاروبار بنایا ہوا ہے۔ کبھی کسی نجی تنظیم نے کسی نشہ کرنے والے افراد کو اصل زندگی کی طرف لوٹایا ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ صرف اور صرف اپنا پیٹ بھرا ہے۔



اسی طرح ایک انسداد منشیات کی تنظیم ہے جس نے سری لنکا سے لاکھوں روپے فنڈز وصول کرنے کے علاوہ مقامی حکومت اور دوسرے اداروں سے انسداد منشیات کے نام پر فنڈز وصول کئے اور اس وقت کے ڈی سی او نے اس تنظیم کو سرکاری دفتر الاٹ کر دیا جہاں پر وہ صاحب خود ان کا بیٹا رشتہ دار براجمان ہوتے ہیں لاکھوں روپے کا فنڈزتنخواہ اور اخراجات کی مد میں خرچ کیا جاتا ہے اور کسی نہ کسی سکول یا کالج میں ایک لیکچر کا اہتمام کرکے انسداد منشیات کے کنسلٹنٹ بنے ہوئے ہیں۔ کئی سالوں سے ان تظیموں کی کارکردگی صفر ہے لیکن حکومت کے ارباب اختیار نے کبھی اس بات پر نوٹس نہیں لیا کبھی کسی آڈٹ کے ادارے یا نیب نے اس پر کوئی کاروائی نہیں کی۔

اب سالانہ برن پروگرام کی طرف آتے ہیں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جو منشیات جلائی جاتی ہیں وہ تمام اصل ہوتی ہیں
ہرگز نہیں اس پر ایک ایسی تحقیقاتی ٹیم ہونی چاہیے جو کہ قرآن پاک کا حلف لے کر ان تمام اشیا کو چیک کریں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔

عالمی دن انسداد منشیات واک، سیمینار اور دیگر دوسرے پروگرامزسے معاشرے میں اب تک کتنی آگاہی چکی ہے اس بات کا اندازہ منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد پر لگائیں۔

یونائیٹڈ نیشنز کی رپورٹ کے مطابق وطن عزیز کی 76 ملین آبادی نشے کی لت میں میں مبتلا ہوکر اشرف المخلوقات
ہونے کے شرف سے منحرف ہو چکی ہے جس میں 78 فیصد مرد ہے جبکہ 22 فیصد خواتین شامل ہیں۔ اس میں 6.7 ملین وہ نوجوان ہیں جن کی عمریں بالترتیب 25 سے 35 سال کے درمیان ہیں اور اس سے زیادہ دل دہلانے والی بات یہ ہے کہ ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور سالانہ 40ہزار افراد کا اضافہ ہوتا ہے۔

یہاں یہ ایک شرمناک حقیقت ہے کہ ان میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو صرف ہیروئن استعمال کرتے ہیں۔ آئس، چرس، گٹکا اور دیگر اقسام کے استعمال کرنے والوں کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔

آئس کا نشہ اشرفیہ میں حدسے زیادہ بڑھ رہا ہے۔ نوجوان گروپوں کی صورت میں اپنے گھروں فلیٹس،ہوٹلز اور دیگر محفوظ مقامات پر یہ نشہ کرتے ہیں اور یہ نشہ سپلائی کرنے والے افراد کو قانون نافذ کرنے والے بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے اور جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے ان افراد کا کا قلع قلمع نہیں کرتے تب تک معاشرے میں سدھار نہیں آئے گا۔




ایک واقعہ پیش کرتا ہوں کہ گذشتہ چند ہفتوں قبل ایک کیفے میں شراب کی موجودگی پر ایکسائزافسر نے چھاپہ مارا اور شراب کی سینکڑوں بوتلیں برآمد ہوئی اور پھر اس بیچارے انسپکٹر کے ساتھ کیا ہوا وہ آپ نے اخبارات میں پڑھ لیا ہوگا۔ا وہ بیچارہ اپنی روزی روٹی سے بھی جا رہا ہے اور ابھی صرف اس کو معطل کیا گیا ہے یہ تمام گھناؤنے دھندے اشرافیہ امراء، سیاسی شخصیات اور سرکاری افسران کی سرپرستی کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتے۔
منشیات استعمال کرنے والے تمام لوگوں کو صحت اور انسانی حقوق پر بھرپور توجہ دینی چاہئے اور ان افراد کاخاص طور پر خیال رکھنا چاہیے جو سرنج کے ذریعے منشیات استعمال کرتے ہیں۔جو سرنج کے ذریعے میں استعمال کرتے ہیں ان میں ایچ آئی وی یعنی ایڈز میں مبتلا ہونے کے سو فیصد امکانات ہوتے ہیں۔

منشیات کے بچاؤ کے لیے ہمیں اللہ کے احکامات و احادیث پر عمل درآمد کرنا ہوگا ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد کرکے اسلامی اخلاقی و معاشرتی اقدار کو اختیار کرنا ہوگا صاف ستھرے معاشرے کے لئے منشیات کے استعمال سے پرہیز کرنا ہوگا اور جو نوجوان منشیات کو فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں ان کو یہ عادت ختم کرنی پڑے گی۔

معاشرے کی اصلاح کے لیے ہمیں بے راہ راوی، خاندانی گھر،یلو ذاتی اور نجی اختلافات کو ختم کرنا ہوگا نوجوانوں کو درست تربیت اساتذہ کے رویوں کی بہتری طلباء میں تعمیری اور صحت مندانہ کھیلوں کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کرنے کی کوشش کرنا ہوگی ہر سکول ہر کالج اور یونیورسٹی میں کھیل کا ایک پیریڈ لازمی ہونا چاہیے سگریٹ پینے پر استاد اور طلبہ پر مکمل بندی ہونی چاہیے اس کے لیے قانون سازی کی باقاعدہ ضرورت ہے اور ہر شہری کو اس حقیقت سے آشنا ہونا چاہیے کہ ترک منشیات میں کامیاب ہوکر ہم صحتمند،تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ اور دفاعی قوم بن سکتے ہیں۔

دنیا و مافیا سے بے نیاز یہ لوگ معاشرے میں دوبارہ نہیں زندگی حاصل کرنے کے لئے اور منشیات سے مکمل چھٹکارا پانے اور منشیات کے فروغ میں پشت پنائی کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی اور اس کے لئے حکومتی اداروں، وزارت انسداد منشیات، این جی اوز، رینجرز، کسٹمز،وزارت داخلہ، وزارت ایکسائز،پولیس اور حقیقی معنوں میں منشیات کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کو موثر کردار ادا کرنا ہوگا اور پیشہ ورتنظیموں،پیشہ ور افراد اور جن لوگوں کا ان تنظیموں سے روزگار وابستہ ہے انکی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی اس کے لیے حکومت کے ان اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جو ان پیشہ ورتنظیموں کو لاکھ روپے سالانہ گرانٹ کی صورت میں ادا کرتے ہیں اور ساتھ والدین کو اپنا بھرپور،موثر اور اصلاحی کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مستقبل کے معماروں کو اس اندھیر نگری سے بچایا جا سکے دوسری قسط میں ان تنظیموں کے فنڈز اور کارکردگی کے بارے میں ایک سنسنی خیز رپورٹ پیش کی جائے گی جو حکومتی اداروں اور بیرون ملک سے لاکھوں روپے گرانٹ وصول کرتے ہیں اور ان سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں