53

انڈیا کے حالات اور قیام پاکستان کی اہمیت۔ ظفر اقبال ظفر

تحریر۔ ظفر اقبال ظفر

دنیا میں سب سے زیادہ غریب انڈیا میں پائے جاتے ہیں یہاں کی حکومت اپنے شہریوں کو سہلوتیں اور عزت دینے کی بجائے اپنے جھوٹے وقار پر توجہ دیتی ہے دنیا میں سب سے زیادہ ان پڑھ انڈیا میں پائے جاتے ہیں دنیا میں سب سے زیادہ بے روزگار انڈیا میں پائے جاتے ہیں دو کروڑ سے زائد ہندوستانی چوہے کھا نے پر مجبور ہیں دنیا میں سب سے زیادہ جسم فروشی انڈیا میں ہوتی ہے انڈیا کی ستر فیصد آبادی کے پاس ٹائلٹ نہیں جس پر ان کے اپنے ملک میں فلم بھی بنی ہے جس میں بیت الخلا کی اہمیت کو اجاگرکیا گیا تھادنیا میں سب سے زیادہ جسمانی اعضا انڈیا میں فروخت ہوتے ہیں جہاں کئی گاؤں کے باہر بورڈ لگا ہوتا ہے کہ یہاں ہر فرد گردے بیچنے کو تیار ہے خریدار رابطہ فرمائیں دنیا میں سب سے زیادہ فٹ پاتھ پر سونے والے اسی ملک کے لوگ ہیں جو پورے پورے خاندان کے ساتھ بنا مکان کے جیتے ہیں وسائل کی تنگی کا یہ عالم ہے کہ سب سے زیادہ خودکشیاں بھی انڈیا میں ہی ہوتی ہیں۔

پانچ سو ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ اپنے وجود پر رکھنے والے انڈیا کے پاس 377ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے زخائر ہیں جو اس کے اپنے نہیں بلکہ 8فیصد کی شرح سود پر جمع بنکوں سے لی گئی رقوم ہیں۔بھارتی معیشت ہو امیں کھڑی ہے۔ بھارت کے 22 صوبے آزادی مانگ رہے ہیں کم از کم 100پرائیویٹ افواج بھارتی حکومت کے خلاف بر سر پیکار ہیں انڈیا کے کم از کم 40فیصد حصے میں انڈین حکومت کی رٹ تقریباختم ہو چکی ہے۔انڈیا کے مختلف صوبوں میں پاکستانی پرچم لہرانا معمول ہے دنیا میں پڑوسی ممالک کے ساتھ سب سے زیادہ سیز فائر کرنے والا ملک بھارت ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے یہ کس قدر تنگ سوچ اور احساس کمتری رکھنے والا ملک ہے کارگل جنگ کی وجہ سے انڈیا کے این اے 32 طیارے گر اؤنڈہو چکے ہیں جن کواپ گریٹیشن کے لیے یو کرین سے معاہدہ کیا گیا ہے کارگل جنگ میں ان کی 200انتہائی مہنگی سٹیٹ آف دی آرٹ بوفرز توپیں تباہ ہو چکی تھیں اور دو آرمڈ ڈیوژن ناکارہ ہو چکے ہیں دنیا میں سب سے زیادہ ایڈز انڈیا میں پھیلتا ہے یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ایڈز کے مریضو ں
کی الگ باقاعدہ ٹرین چلتی ہے۔

انڈیا کے 80فیصد سے زائد پُل 100سال سے پرانے ہیں اس سے اندازہ لگائیں کہ یہ اپنے ملک میں ترقیاتی کاموں میں کس قدر مفلوج ہیں۔بچوں کو ماؤں کے پیٹ میں مارنے کی شرع فیصد سب سے زیادہ انڈیا میں ہے وہ لوگ جو انڈیا جیسی جہنم میں جینے کی سزا بھگت رہے ہیں وہ اپنے بچوں کو اس دھرتی سے بچانے کے لیے دنیا یعنی انڈیا میں آنے سے پہلے ہی مار دیتے ہیں یہ قتل بھارت میں سہلوتوں کے فقدان کی بنا پر ہوتے ہیں۔بے اولاد جوڑوں کو کرایے کی کوکھ با آسانی مل جاتی ہے بچے پیدا کر لینے والی غریب عورتیں کسی بھی رقم دینے خرچا اٹھا لینے والے مرد کا حمل اپنے پیٹ میں رکھ کر بچہ دینے کا معاوضہ لیتی ہیں جس پر ان کی شوہر بیٹے بھائی باپ کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں ہوتا یہاں پیسوں کاحصول سب سے معتبر دلیل ہے جس سے ایسا کرنے پر فیملی سمجھوتہ کرتی ہیں کم آمدن زیادہ اخراجات رکھنے والے اس ملک نے آبادی کو روکنے کے لیئے مردوں کو مردوں کے ساتھ شادی کرنے کا قانون بھی پاس کیا ہوا ہے۔

کہیں کسی کے پاس کوئی جائیداد ہوتی ہے تو اسے اپنے پاس ہی محدود رکھنے کے لیے عورتوں کی کتوں کے ساتھ شادیاں بھی کروا دی جاتی ہیں انسان کو باقی ساری مخلوقوں پر ترجیع ہے مگر انڈیا میں جانور انسانوں کے لیے خدا کا درجہ رکھتے ہیں ان کا پیشاب گوبراپنے لیے مقدس سمجھ کر استعمال کرنا معمول ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ جاہل اور گرئے ہوئے انسان اسی ملک میں بستے ہیں جانوروں کی بنا پر بندہ مارنا عام سی بات ہے اخلاقی تباہی کا یہ عالم ہے کہ کسی عورت مرد کے درمیان پیار کا معاملہ چلتا رہے تو جسمانی خواہشات کی تکمیل کسی تقاضے کی پابند نہیں ہوتیں اور اگر ان کی شادی نہ ہو سکے تو عورت اپنے عاشق کا بچہ پال لیتی ہے جس پر اس کا شوہر بھی سمجھوتہ کر لیتا ہے اس طرح کی غلاظتوں کو انسانیت کے معیار کا ندازہ ہی نہیں ہوتا یہ خودغرضی کو اپنا سب سے بڑا مذہب مانتے ہیں اسی ماحول اور جہالت سے نجات پانے کے لیے پاکستان کا ہونا ضروری تھا پاکستان نے اپنے اندر بسنے والوں کو ہندو درندگی سے بچا کرجینے کا معیار دیا ہے انڈیا کے اندر رہنے والے مسلمان پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان کے قیام کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جناح کے موقف کو بہت نزدیک سے دیکھتے اور مانتے ہیں پورے انڈیا میں قابل فخر مقدس کسی چیز کا وجود ہے تو وہ اولیا اکرام کے مزارات اور مسلمانوں کے وجود اور عبادتوں کے مقام ہیں اس کے بعد عیسائی اور سکھوں میں شعور زندگی وانسانیت ہے کیونکہ یہ اسلام کے زیرسایہ رہنے کی ہی برکت سے سوچوں کا نکھار حاصل کرتے رہتے ہیں۔اور جس جس مذہب نے بھی شعور پایا اس نے ہندوں سے آزادی کو ضروری سمجھا کیونکہ ہندو ناقابل اصلاح جاہلوں کا ایک ہجوم ہے۔یہ مزاکرات نہیں بلکہ مکالات سے سمجھنے والے ہیں قومی فوجی جنگی جہاد مسائل کے حل کا اہم تقاضہ ہے جو جاہلوں کو بندہ بنانے کے لیے ان پر احسان ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں