39

ورلڈ کپ ہارنےکے باوجودجیت کی بونگیاں؟ ۔ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

تحریر۔ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

  عمران نیازی کی حکومت ایک سال گزار چکی ہے جس نے پاکستان کی معیشت کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ غریب کو روٹی کو ترسا دیا ہے۔ مزدورجس کی تنخواہ ساڑھے سترہ ہزار روپے ہے ہیں۔ تو کوئی بھی حکمرانوں کا حمائتی ذررا دو بچوں کی تعلیم کے ساتھ اس گھر کا بجٹ تو بنا کر دکھا دے۔ مزدور کا بچہ کسی ادارے میں داخلہ نہیں لے سکتا ہے؟ نعرے بڑے اور شخصیات بونگی ! دوسری جانب موجودہ حکمرانوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حشر بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ عمران نیازی امریکہ اور عربوں کی خوشامدوں سے تمہیں سوائے رسوائی کے کچھ نہیں ملنے والا ہے۔ کشمیر کاذ کو جس قدر موجودہ ٹولے نے نقصان پنہچایا ہے اتنا چار جنگوں نے بھی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔

      دنیا کی سیاست میں ناکام ہونے والا سیاست کاورلڈ کپ ہار رہا ہے ! ٹرمپ سے پچھلی ملاقات میں کشمیر کا سودہ کرنے کے بعد وزیراعظم نیازی اور ان کی ٹیم نے کیا کچھ دعوے نہیں کئے تھے۔ جبکہ عمران نیازی کو اس بات کا بخوبی علم بھی ہے کہ ٹرمپ اسلامو فوبیا کا مریض ہے۔ وہ پاکستانی مسلمانوں کو دھوکے کے علاوہ کچھ بھی تونہیں دے سکتا ہے۔
    
مودی کس سوچ و فلسفہ کا بندہ ہے ہر پاکستانی اور خاص طور پر ہندوستان کے مسلمانوں کو خوب معلوم ہے۔ پاکستان کا وزیر اعظم مودی کی خوشامد میں اسکے الیکشن سے پہلے سے لگا ہوا ہے۔ بلکہ موصوف اسکی الیکشن مہم چلانے والوں میں شامل رہے ہیں ۔ مگر ان خوشامدوں کے با وجود  مودی جیسا حلواڑہ عمران نیازی جیسے نا اہل فرد سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

  یہ بات ساری دنیا پرعیاں ہے مودی ایک خطر ناک دہشت گرد ہے اس نے کشمیر کے نہتے نوے لاکھ لوگوں کو اپنی بزدل نو لاکھ فوجوں کے ذریعے کرفیو کی قید میں ڈٓلاہوا ہے۔کشمیریوں کے بچے مر رہے ہیں، عصمتیں تار تار کی جا رہی ہیں نوجوانوں کو بے جرم و خطا قتل کیا جا رہا ہے۔بیمار دوائوں کو بچے دودھ کو ترس رہے ہیں۔ کشمیر چیخ چیخ کر پاکستان کو پکار رہے ہیں مگر ہمارے حکمران نا توملکی کی معیشت سنبھال پا رہے ہیں اور نہ ہی مودی کو کوئی کرارا جواب دے پا رہے ہیں۔ پاکستان اور دنیا کی سیاست میں حکومت کو رسوائی کا سامناہے۔ مگر جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہو وہ ساری دنیا کو دھوکےکے سوا کچھ نہیں دے سکتا ہے۔
 
ٹرمپ سے ملاقت کے بعد عمران نیازی حکومت کو اس بات کا علم تھا کہ مودی 5ستمبر کو کیا کرنے جا رہا ہے۔   حد تو یہ ہے کہ 11ستمبر کوہماری وزارت خارجہ کچھ بھی نہ کر سکی ۔ ساری دنیا کو اس بات پر بھی تعجب ہے کہ 58اسلامی ممالک کی حمایت کے وزیر خاجہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اس کے باوجود ہمارا وزیرِ خارجہ بڑی بڑی باتیں کرتا رہاہے۔ جو19ستمبر کو ہندوستان کے خلاف اقوام متحدہ میں 58 میں 16 اسلامی ممالک سے بھی پاکستان کی حمایت نہ کراسکے! شاید عمران نیازی حکومت کشمیر پر ریزو لیوشن پیش کرناہی نہیں چاہتی تھی۔   سعودی عرب اور یو اے ای کے وزرائے خارجہ پاکستان ضرور آئے مگر وہ کشمیر پر ہندوستانی جارحیت کے خلاف ایک لفظ بھی نہ بولے اس سے اہم بات یہ ہے کہ تین چارعرب ممالک نے بمعہ سعودی عرب کے مودی مسلمانوں کے قاتل کو ایوارڈز سے نوزا ہم کس حولے سے خاص طور پر سعودی عر اوریواے ای کی جانب دوڑ دوڑ کر جا رہے ہیں اور اپنے قریبی ملک ایران کو اپنا اور بھی برا دشمن بنا رہے ہیں ۔ پاکستان وزیراعظم اوروزیر خارجہ کمروں میں بیٹھ بیٹھ کر بڑے ہوائی قلعے فتح کر رہے ہیں اورابھی تک دوبئی اور سعودی عرب کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک میں جاتے ہوئے کیوں شرما رہے ہیں۔ عمران نیازی صاحب قوم کٹ مرے گی مگر کشمیر کا سودا کسی کو بھی نہیں کرنے دے گی  دوسری جانب ٹرمپ اور مودی عومی اجتماع میں ہمارے خلاف اعلانِ جنگ کر رہے تھے۔  نیازی صاحب کشمیرکا سو دا کر کے بونگیاں مار رہے ہیں کہ ورلڈ کپ جیت لیا ہے! یاد رکھیں پاکستان کے عوام کشمیر کا سودا کسی قیمت پر نہیں ہونے دیںگے ۔ پاکستان کی اسمبلی میںصدر پاکستان کشمیر پر بات کرنے کی بجائے اپوزیشن کو نشانے پر لئے ہوئے تھے اور پھر روتے پھرتے ہیں کہ ہماراساتھ اپوزیشن نہیں دے رہی ہے۔ 

ٹرمپ اور مودی جب پاکستان کی تذلیل کر رہے تھے تو ہمارے وزیراعظم اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ وزیر اعظم کو کسی ایک ملک میں میں جاکر پاکستان کا کشمیر پر مقدمہ لڑنے کی ہمت نہیں تھی اور وزیر خارجہ کو بھی کسی بھی ملک نے منہ نہیں لگایا ہندوستان ہماری سرحدوں کی روزانہ خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور ہم بونگیاں مارے چلے جارہے ہیں۔

نوشتہ دیوار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں