38

پاک بھارت جنگ اور ہماری حکمت عملی۔ ظفر اقبال ظفر

تحریر۔ ظفر اقبال ظفر

جو لوگ سوچتے یا چاہتے ہیں کہ مسلہ کشمیر کی وجہ سے انڈیا پر جنگ مسلط کر دینی چاہیے اینٹ کا جواب پتھر میں دینا چاہئے طاقت کا استعمال چاہتے ہیں جس کا پس منظرکشمیری مسلمانوں پر مظالم ہیں اس کا دوسرا رُخ اگر دیکھا جائے تو جہاں پاکستان ایٹمی پاور ہے وہاں انڈیا بھی ایٹمی پاور ہے اور اپنے ملک کے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان سے بہت بڑا ہے افواج کی تعداد بھی زیادہ ہے اگر پاکستان حملہ کرتا ہے تو انڈیا میں ہندوں کے علاوہ مسلمانوں اور سکھوں اور دوسری اقلیتوں کی بھی جانیں جائیں گی اور جوابی کاروائی میں پاکستان پر بھی ایٹمی حملے ہوں گے۔ جب کے اثرات میں پاکستان کی عوام اور مقامات تباہی سے دوچار ہوں گے دونوں طرف انسانیت کا
قتل اور تباہی یقینی ہے ۔



انڈین میڈیا وہاں کی حکومت اور فوجی ایجنسی کے دئیے گئے پروگرام کے مطابق دن رات پاکستان کے لیے نفرت اور شدت پسندی کو فروغ دے رہا ہے جس کا مقصد عام ہندوں کو جنگی اوقات میں پاکستانی عوام پر ظلم کرنے کے لیے تیار رکھنا ہے پاکستان کی افواج اور محب وطن کرداروں پرتزلیل اور تنقید پاکستان کے اندر ونی لوگوں میں مخالفت اور نفرت بھرنا ہے تاکہ ہمارا اتحاد کمزور ہوجنگ کی صورت میں پورے پاکستان کو کشمیر کی طرح مظالم کی نظر کرنا انڈیا کی چال ہی نہیں پختہ ادارہ بھی ہے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو آج جو پاکستانی کہتے یا چاہتے ہیں کہ انڈیا پر جنگ مسلط کر دی جائے وہ ان حقائق پر ضرور غور کریں پاکستانی فوج اور حکومت کی حکمت عملی کو سمجھیں کہ مسلے کاحل بغیر مزید نقصان کے نکالا جا رہا ہے جو دفاع پاکستان کے پیش نظر ایک قابل تعریف اقدام ہے یہ وہ منظر ہیں جہیں ہر شخص نہیں سوچتا نہ سمجھتا ہے کشمیر کو بچانے کے ساتھ پاکستان کے باقی وجود پر آنچ نہ آنے دینایہ بھی انتہائی ضروری ہے۔یہ جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا مرحلہ ہے۔

اس وقت پاک فوج اور حکومت پاکستان اپنے وقار کا خیال رکھتے ہوئے امن پسندی اور مزاکرات کے زریعے عالمی برادری کو اپنے موقف پر لا کر سچائی کی حقیقت سے آگاہ کرکے انسانیت بچاؤ کے حق میں فیصلے پر عمل کروانا چاہتے ہیں کشمیر کو آزادی اور خود مختاری دلانے کو حتمی شکل دے رہے ہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے بغیر فوج اور جنگ کے پاکستان کو قانونی اور انسانی حقوق کے پیش نظر حاصل کروایا تھااور اس کے قیام کی اہمیت دنیاکو ماننا پڑی ہندوستان کا سینہ چیر کر پاکستان کا وجود دنیا کے سامنے ابھر کر آیا اسی طرح کشمیر بھی قانونی اور انسانی حقوق کے مطالبے سے کشمیریوں کو ملے گا۔ جب جب پاکستان پر مشکل وقت آئے گا۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی تعلیمات راہنمائی بخشیں گئی اور جب کبھی مصیبت سے نپٹنے کی ضرورت پڑئے گی تو اسلامی تعلیمات ہماری پہلی ترجیع ہوں گی پاکستانی اسلامی جمہوریہ کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کریں گے کشمیر فلسطین برما سمیت جہاں بھی مسمانوں پر ظلم ہو رہے ہیں وہ اسلامی ممالک کو یورپ کی غلامی سے نکل کر مذہبی اتحاد خود مختاری خودداری کا پیغام دیتے ہیں کافروں کے بارے میں قرآن و حدیث میں وضاحت کر دی گئی کہ یہ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے جو ان کی دوستوں پر یقین رکھتا ہے وہ دنیاوی فائدے کے لیے آخرت کو تباہ کر رہا ہے اور آخرت کی تباہی کا حصہ دنیا میں زلت کے روپ میں بھی ملتا ہے جس میں آج ایک اکثریت مبتلا ہے اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے اسلامی ممالک پورپ کی معشیت مضبوط کرنے کی بجائے عالمی اسلامی کرنسی کی اتجاد سے آپس میں کاروبار کریں ضرورت زندگی کے اعتبار سے دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو مسلمان تیار نہ کر سکیں ہر غیر اسلامی ممالک کے برانڈ کو رد کریں ملاوٹ سے پاک اور خالص چیزوں کو فروخت کرنا اسلام کا رکن ہے سستی اور معیاری چیزوں کے تبادلے سے غیروں کے برانڈ کو غیروں تک محدود کر دیں مسلمانوں کہ کمائی مسلمانوں کے مخالفوں کو نہیں جائے گئی جس دن اس اتحاد پر عمل شروع تو دیکھیں مسلمانوں کا عروج اور دنیا بھر میں ظالم اپنی موت آپ مرنا شروع ہو جائیں گے اس حقیقت کی تصدیق ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ نے یوں کی ہے کہ۔

تیرے ہی حالات سے ہے تیرا پریشان ہونا
ورنہ مشکل نہیں مشکل آسان ہونا
دو عالم پہ ہو تیری ہی حکومت اے مسلم
تو سمجھ جائے اگر اپنا مسلمان ہونا

کشمیر کے مسلے پر پاک بھارت جنگ کے متعلق اگریہ آخری آپشن جنگ ہی بچے گا تواس سے پہلے پاکستان کو اعلان کر دینا چاہئے کہ انڈیا میں رہنے والے بائیس کروڑ مسلمان پاکستان کے نام سے انڈیا میں وسیع زمین اور آزادی کے لیے جنگ کی تیاری کریں انہیں جنگ کی جیت کے بعد خودمختاری کی نوید سنائی جائے گئی سیکھوں کو پیغام دیا جائے کہ خالصتان کے حصول کے لیے جنگ میں مسلمانوں کا ساتھ دیں اور اپنے حق کے سفر کو ختم کرنے کے لیے تیار رہیں عیسائی لوگوں کے ساتھ ساتھ جتنی بھی اقلیتیں ہندوں سے آزادی چاہتی ہیں وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کے لیے زمین کے تحفے کی حقدار ہوں گی پاکستان اپنی نئی وسعت کے ساتھ ان کا پورا خیال رکھے گا۔انشااللہ یہ وہ تحریکیں ہیں جو انڈیا کو اندر سے اپنی لپیٹ میں لیں گی پاک و ہند کی زمین پر فساد کا ایک ہی نام ہے اور وہ ہے ہندو۔اسی کو شکست دینا پورے خطے کو امن کا گہوارا بنائے گا۔ہندو ں میں جن لوگوں کو تعلیم نے انسانیت سیکھائی ہے اور وہ جیو اور جینے دو پر زندگی گزارنا چاہتے ہیں ان کو تحفظ دینا اور ان کی پہچان رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہم کسی بے گناہ کو مارنے پر یقین نہیں رکھتے۔ہم صرف انسانیت کے حسن پر زندگی گزارنے والوں کا ساتھ چاہتے ہیں ہم دشمنی نہیں دوستی پر یقین رکھتے ہیں ہم نفرتوں کا کاروبار کرنے والوں کو ان کی دوکانوں کے اندر دفنانے پر مجبور ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں