42

صاف پانی ایک خواب ۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر۔ پیر سید سہیل بخاری

ہماری آبادی کا 50 سے 70 فیصد حصہ جو کہ دیہات میں رہتا ہے پانی جوہڑوں، ندیوں اور نالوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب میں ایک ہی جگہ پر انسان بھی پانی پیتا ہے اور جانور بھی یہ کیسا اسلامی فلاحی ملک ہے جہاں پر 72 سال سے عوام کو صاف پانی مہیا نہیں کر سکے۔

پروردگار عالم نے انسان کو دنیا میں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جس میں ایک نعمت پانی بھی ہے بوڑھا ہو یا جوان بچہ ہو یا بڑا بیمارہو یا تندرست ہرانسان کو زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ابتدا سے ہی پانی کا تعلق ہماری زندگی میں نہایت گہرا ہے صرف یہی نہیں بلکہ زندگی کی ابتدا پانی سے ہی ہوتی ہے بلکہ ہمارے جسم کا زیادہ تر حصہ پانی ہے۔پانی کا ہمارے جسم سے تعلق ایسے ہی ہے جیسے پھول میں خوشبو نہ ہو تو اس پھول کی خوبصورتی و دلکشی بیکار ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر ہم پانی کی صحیح مقدار اپنے جسم کو نہیں دیں گے تو وہ شاخ سے ٹوٹے ہوئے پھول کی طرح مرجھا جائے گا کوشش کرنی چاہیے کہ آب و نمک کی قلت اپنے جسم میں نہیں ہونے دینا چاہیے۔ پانی کو خصوصی طور پر مناسب مقدار میں پینا چاہیے۔ پانی ہمارے جسم کو تندرست اور توانا رکھنے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے اگرچہ یہ ہماری غذا کا حصہ نہیں مگر غذائی لوازمات کا اہم حصہ ہے ایک بڑے شخص کے وزن میں 50 سے 70 فیصد تک پانی ہوتا ہے اور اگر جسم میں پانی ختم ہوجائے تو انسان زیادہ سے زیادہ چند گھنٹے زندہ رہ سکتا ہے پانی کا اخراج ہمارے جسم سے پسینے، پیشاب کے ذریعے ہوتا ہے۔اخراج کے بعد پانی کی کمی کو پورا کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ طب کے اصولوں کے مطابق ہر انسان کو کم ازکم آٹھ یا دس گلاس پانی روزانہ استعمال کرنا ضروری ہے مگر ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پانی کی مقررہ مقدار پینے کی طرف توجہ نہیں دیتے روزانہ آٹھ دس گلاس پانی پینے سے جسم میں موجود فاضل مادے پیشاب اور پسینے کے ذریعے باہر نکل جاتے ہیں جس سے ہمارا دل گردے پھیپھڑے اورسب سے بڑھ کر ہماری جلد صحت مند رہتی ہے۔ انسانی جسم پر پڑنے والے نشانات اور خارشیں آلودہ پانی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ہمارے ملک پاکستان کو وجود میں آئے بہتر سال ہوگئے ہیں اور وطن عزیز کی13کروڑ سے زیادہ آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے شہروں میں واسا کی جانب سے عوام کو پانی کی فراہمی کی جاتی ہے اور اس ادارے کا یہ حال ہے کہ ٹیوب ویل سے لوگوں کے گھروں تک سپلائی ہونے والے پائپز زنگ آلود ہوتے ہیں اور عوام کو صاف اور شفاف پانی میسر نہیں آتا کئی جگہ پر کھلی ٹینکیاں ہیں جس میں حشرات الارض کی بھرمار ہوتی ہے اور عوام اس آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ جس سے ہر دوسرا شخص ہیباٹائٹس جیسی موذی بیماری میں مبتلا ہے کسی کو گردے کی پتھری کی شکایت ہے اور کوئی سانس کی بیماری سے لڑ رہا ہے۔



ہماری آبادی کا 50 سے 70 فیصد حصہ جو کہ دیہات میں رہتا ہے پانی جوہڑوں، ندیوں اور نالوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب میں ایک ہی جگہ پر انسان بھی پانی پیتا ہے اور جانور بھی یہ کیسا اسلامی فلاحی ملک ہے جہاں پر 72 سال سے عوام کو صاف پانی مہیا نہیں کر سکے۔

ہماری زیادہ تر آبادی زراعت سے منسلک ہے دریا ندی یا کھال وغیرہ کا پانی استعمال کرتی ہے اس پانی سے انسان اور جانور دونوں مستفید ہوتے ہیں یہ پانی جو کہ ناقابل استعمال ہوتا ہے انسانوں میں خطرناک قسم کی بیماریاں پیدا کردیتا ہے جو ہڑ کے پانی میں زہریلے حشرات کی وجہ سے انسانی جسم میں یہ زہریلا پانی طرح طرح کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں پاکستان کی سیاسی پارٹیاں پانی کوبطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔پاکستان شدید پانی کے بحران سے گزر رہا ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے کوئی بڑا ڈیم موجود نہیں ہے اگر کوئی حکمران بڑا ڈیم بنانے کی تگ و دو کرتا ہے تو اس کے راستے میں صوبائی اور علاقائی سیاسی پارٹیاں آجاتی ہیں اور وہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا۔ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ کئی سالوں سے سیاسی چالوں کی وجہ سے بحران کا شکار ہے۔ پاکستان کا 60 فیصدتازہ صاف پانی ضائع ہوجاتا ہے اور بلآخر یہ سمندر میں چلا جاتا ہے صرف 40 فیصد پانی ہی استعمال ہوتا ہے ہمارے ملک میں پانی ہی سے پیاس بجھانے کا واحد اور سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ہوا کے بعد پانی انسانی زندگی کے لئے سب سے ضروری ہے خوراک کے بغیر ہم دو ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں مگر پانی کے بغیر چند دن سے زیادہ زندہ رہنا ناممکن ہے صاف پانی کی کافی مقدار جسم میں نہ جانے کی وجہ سے جسمانی امراض لاحق ہو جاتے ہیں جن میں کینسر ہیپاٹائٹس اور دیگر جان لیوا بیماریاں ہیں۔جو کہ صرف اور صرف صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔



صاف پانی وزن کی کمی کا موثر علاج ہے۔ صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے جسم میں زائد چربی پیدا ہوتی ہے جس سے خون میں مضراجزاء پیدا ہونے لگتے ہیں دیہاتی عورتیں جنہیں دور دور سے پانی لانا پڑتا ہے الگ جسمانی مسائل تکالیف کا شکار رہتی ہیں مثلاََ کمر درد ریڈ کی ہڈی کا زخمی ہو جانا کمزور بچوں کی پیدائش وغیرہ۔ پانی سے پیدا شدہ بیماریوں سے بچے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ایسے علاقے جہاں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہوتا بچوں کی اموات کی شرح میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں جہاں دوسرے مسائل اس وقت عروج پر ہے جن میں مہنگائی بیروزگاری کے ساتھ ساتھ صاف پانی کی فراہمی بھی ایک بڑا المیہ ہے اور کسی بھی حکمران نے اپنا پیٹ بھرنے کے علاوہ عوام کو سبز باغ دکھا کر ہمدردیاں حاصل کی۔



حکومت نے مختلف علاقوں میں فلٹر پلانٹ لگائے ہیں جو کہ صاف پانی مہیا کرنے کے دعویدار ہیں لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ یہ پا نی آلودہ پانی سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ جہاں فلٹر پلانٹ لگے ہوئے ہیں ان کی کبھی صفائی نہیں ہوتی۔ باوثوق ذرائع سے پتا چلا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے پلانٹ کے پانی کو ناقابل استعمال قرار دیا ہے لیکن عوام صرف اپنی تسلی کے لئے ان فلٹریشن پلانٹ سے پانی بھرنے پر مجبور ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت واسا کے ذریعے عوام کو انکے گھروں تک صاف پانی کی رسائی دے اور ٹیوب ویلوں سے جو پائپ لوگوں کے گھروں تک آرہے ہیں ان کی تبدیلی کر کے نئے پائپ بچھائے جائیں تاکہ عوام کو آلودہ پانی پینے سے جن بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کی زندگی محفوظ ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں