35

استاد کا عالمی دن اور شاگرد کی تعلیم و تربیت ۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر ۔ پیر سید سہیل بخاری

انسان اور انسانیت کی تعمیر و علمی ارتقاء میں اساتذہ کا بنیادی کردار ہوتا ہے اساتذہ قوم کے معمار ہوتے ہیں اور نوجوانوں کی تربیت اور سیرت کو سنوارنے اور انہیں دنیا کی مشکلات اور چیلنجوں سے نمبرد آزما ہونے کے لیے ان کی کردار سازی کرنے میں اہم ترین فریضہ انجام دیتے ہیں والدین کے بعد اساتذہ اپنے علم کے ذریعے عقل کو علم سے روشن کرنے کا ہنر سکھاتے ہیں اور اپنی دن رات کی محنت سے نوجوانوں کو شعور کی بلندیوں پر پہنچاتے ہیں اور اپنی انتھک محنت سے اپنے شاگردوں کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان،سیاست دان، بیوروکریٹ،دانشور صحافی اور زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارھائے منصبی پر فائز ہونے کے قابل بتاتے ہیں اساتذہ اپنے شاگردوں کو پروردگارعالم رب رحیم و کریم سے آشنا کرواتے ہیں اور دنیا میں انسانیت، محبت، امن و اخوت کا اولین پیغام دیتے ہیں جہالت کے اندھیروں کو علم کی روشنی سے ختم کرنے والے ساتذہ ہیں جو ان کی شمع روشن کرتے ہیں اور شمع سے شمع جلتی ہے اور علم کی روشنی کو عام کرتی چلی جاتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی حیثیت اور اہمیت حاصل ہوتی ہے کوئی بہترین سے بہترین نصاب یا نظام تعلیم بھی اچھی اور پیشہ وارانہ مہارت کے حامی استاد کے بغیر کسی بھی قسم کے اعلی اور بہترین نتائج نہیں دے سکتی۔ پاکستان کے تعلیمی نظام کی خرابی کی وجہ محض اساتذہ نہیں بلکہ ریاست نے استاد بھرتی کرتے وقت ان کو بنیادی نظریہ تعلیم سے واقفیت نہیں کروائی ہوتی اس کی وجہ سے استاد تو خود ریاستی بدانتظامی اور بے حسی کا شکار ہوتا ہے اور اساتذہ کو دیگر کئی حوالوں سے بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت اور والدین نظام تعلیم کی تمام تر خرابی اساتذہ پر ڈال دیتے ہیں یہ بات کافی حد تک درست ہے کیونکہ حکومت نے پرائمری کی سطح پر پی ٹی سی، سی ٹی ڈیلومہ ہولڈر استاد بھرتی کیے ہوتے ہیں۔ بی ایڈ اساتذہ بھی عمومََا ہائر یجوکیشن کے لیے بھرتی ہوتے ہیں مگر جب ان افراد کو سرکاری نوکری میسر آجاتی ہے تو وہ استاد کا فریضہ بھول جاتے ہیں جس سے علم کی شمع روشن ہونے کی بجائے مدھم پڑ جاتی ہے استاد تعلیم دینے کے لئے اخلاقیات کا تمام درس بھول جاتا ہے۔حلانکہ والدین کے بعد استاد ہی ہوتا ہے جو بچوں کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔ کسی بھی انسان یا طالب علم یا بچے کے اچھے مستقبل کا دارومدار والدین کے بعد اساتذہ کرام پر ہوتا ہے کہ وہ بچے کو اچھی تعلیم و تربیت دیتے ہیں استاد کو طالبعلم کی اخلاقی تربیت کرتیوقت اس بات کو مدنظر رکھنی کی اولین ضرورت ہے کہ بچہ جو بھی کچھ سیکھتا ہے اس میں والدین سے زیادہ اساتذہ کے طرز عمل کا خاصہ عمل دخل ہوتا ہے لہذا اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کے سامنے اچھے طرز عمل کا مظاہرہ کریں طالبعلموں کے سامنے دوسرے اساتذہ کے ساتھ اچھی،جامع اور سبق آموز گفتگو کرنی چاہیے تاکہ شاگرد پر بھی اس کا مثبت اثر پڑے عموما اساتذہ اپنے دوسرے ساتذہ کے ساتھ ہنسی مذاق، گالم گلوچ اور دیگر فضول قسم کی گفتگو کرتے ہیں جس کا اثر شاگرد پر بہت زیادہ ہوتا ہے اسی طرح والدین بھی اپنے بچوں کے سامنے نازیبا گفتگو نہ کریں تو بچہ مثبت اثر لیتا ہے اساتذہ والدین جب بھی اپنے بہن بھائیوں قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کا ذکر کریں تو اچھے انداز میں کریں ہمیشہ تعریفی کلمات ہی منہ سے نکالی اساتذہ طالب علموں یا بچوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں اچھے کاموں پر ان کی حوصلہ افزائی کریں انکے ساتھ پیار و محبت سے پیش آئیں گے تووہ پوری دیانت داری سے اپنا کام بھی کریں گے اور آپ کی قدر عزت بھی کریں گے بچے فطری طور پر محبت کا جواب محبت اور پیار کا جواب پیار سے دیتے ہیں لہذا اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں سے سخت سلوک ہرگز نہ کریں بلکہ بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں سے محبت کے قصے سنایا کریں اس سے بچوں کے دل میں ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت پیدا ہوگی اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کو وطن سے محبت اور حب الوطنی کا درس بھی دیں۔

بچوں کی اخلاقی تعلیم وتربیت اور شخصیت کی تعمیر میں اساتذہ پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے انگریزی اور اردو میڈیم اسکولوں میں صبح کے وقت اسمبلی لازمی منعقد کی جانی چاہیے جس میں قرآن پاک کی تلاوت، قومی ترانہ اسکول کے سربراہ کی نصیحت آموز چند لمحوں کی تقریر ہونی چاہیے۔ اگر سکول میں بینڈ کی سہولت میسر ہے تو پی ٹی ماسٹر بینڈ بجا کر طلبہ کو قطاروں کی شکل میں اپنی اپنی کلاسیز میں جانے کی تلقین کریں۔مہذب معاشرے میں اساتذہ دہ طالب علم گو کبھی مارتے پیٹتے نہیں ہے ان کا اخلاقی معیار بچوں کو تربیت دینے کا طریقہ ایسا ہونا چاہئے کہ وہ استاد کی ہر بات کو نہایت غور سے سنیں اور اس پر عمل کرے مارنا پیٹنا جاہل معاشرے کے جاہل اساتذہ کا وطیرہ ہے آپ نے اکثر سوشل میڈیا پر دیکھا ہوگا کہ اساتذہ بچوں کو ڈنڈوں سے اس بری طرح پیٹتے ہیں کہ بچہ اسکول جانے کے نام سے کام کانپ جاتا ہے اور جب وہ گھر سے سکول جاتا ہے تو وہ سکول کے گیٹ سے ہی واپس کسی دوسرے مقام کی طرف چل پڑتا ہے اور غلط سوسائٹی اختیار کر لیتا ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری اساتذہ کے غلط رویوں پر ہوتی ہے اور وہی بچے کے مستقبل سے کھیلتا ہے اور جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے تو والدین کو اس کا احساس ہوتا ہے اور ڈوبتی کشتی کو پانی میں اور اس بے حس معاشرے کی دلدل سے بچانے کے لیے والدین سرتوڑ کوششیں کرتے ہیں مگر بگڑا ہوا نصیب بڑی مشکل سے سنورتا ہے اس لیے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آئیں ہمارا معاشرہ جو اخلاقی اعتبار سے ترقی کرے گا ویسے
حالات میں بہتری آئے گی اور اس بہتری میں اساتذہ کا کردار والدین سے کہیں زیادہ ہوتا ہے ایک اچھا استاد ایک اچھا انسان بنا سکتا ہے اور اگر بچہ کسی مضمون میں کمزور ہے تو اسے اس کی کمزوری کا احساس مت دلائیں۔ اس کو خصوصی توجہ اور وقت دیں تاکہ وہ اپنی کمزوری کو ختم کرسکے اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو اجاگر کریں تاکہ بچوں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ زندگی کے ہر شعبے میں بہترین کارکردگی دکھانے کے قابل بن سکیں یہی استاد کا عالمی دن استاد کی اہمیت بتاتا ہے یہ کس طرح ایک بچہ اچھے استاد کی تعلیم و تربیت سے ملک کا سربراہ،کسی ادارے کا سربراہ اپنے اپنے شعبے میں نمایاں کارھائے انجام دے سکتا ہے اور یہ صرف اور صرف استاد کی اعلی ظرفی اور اعلی تربیت کا اثر ہوتا ہے پروردگار عالم ہر استاد کو ایک اچھا استاد اور اچھا انسان بننے کی توفیق عطا کریں تاکہ ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار ہونے کی بجائے ایک اعلی اور پائیدار معاشرہ بن سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں