52

روشن کراچی۔ کچرا کراچی۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

تحریر۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

اس شہر کی دریا دلی تو دیکھیں کہ یہ ہر ایک کو اس کی زبان کچھ بھی ہو، اس کا شہر کوئی سا بھی ہو، وہ امیر ہو یا غریب یہ شہر ہر ایک کو پناہ دے رہا ہے، امیر تھا تو کراچی میں فیکٹری لگانے، تجارت کرنے، کراچی آیا، اگر غریب ہوا تو روزی کمانے آیا، بھکاری ہے تو بھیک مانگنے کراچی آیا۔ اس شہر نے ہر ایک کو اس کی خواہش اور صلاحیت کے مطابق نوازا۔

کراچی کو کچرا کرنے والا ہمارا دشمن بھارت نہیں، کوئی اور بیرونی طاقت بھی نہیں، بلکہ اس ”روشنیوں کے شہر“، غریب پرور شہر، بلا تفریق ہر کس و ناکس کو روزی فراہم کرنے والا، صاف ستھرے شہر کو کچرا بنانے میں ہمارا اپنا کردار ہے، ہم نے خود اسے کچرا بنایا۔ ہم نے شہر کراچی کو اس کے اصلی روپ میں دیکھا ہے، کراچی کی جغرافیائی حیثیت، صنعتی ترقی، بندر گاہوں کو اپنے اندر سمیٹے یہ شہر اتنی وسعت لیے ہوئے ہے کہ گزشتہ 72 سالوں سے پورے پاکستان سے روز آنہ کی بنیاد پر بے شمار لوگ ذریعہ معاش کے لیے اس شہر میں ہجرت کررہے ہیں، وہ ہجرت اپنی جگہ جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور ہندوستان سے اردو بولنے والوں کی اکثریت نے کراچی کی کشادہ دلی اور وسعت کو دیکھتے ہوئے اس شہر میں اپنے قیام کا فیصلہ کیا۔ اس شہر کی دریا دلی تو دیکھیں کہ یہ ہر ایک کو اس کی زبان کچھ بھی ہو، اس کا شہر کوئی سا بھی ہو، وہ امیر ہو یا غریب یہ شہر ہر ایک کو پناہ دے رہا ہے، امیر تھا تو کراچی میں فیکٹری لگانے، تجارت کرنے، کراچی آیا، اگر غریب ہوا تو روزی کمانے آیا، بھکاری ہے تو بھیک مانگنے کراچی آیا۔ اس شہر نے ہر ایک کو اس کی خواہش اور صلاحیت کے مطابق نوازا۔ اس کی آبادی قیام پاکستان کے وقت ساڑے چار لاکھ تھی، 1951 ء کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی ایک ملین ہوگئی تھی۔ اس کے بعد اس میں جس تیزی سے اضافہ ہوا، وہ ہوش ربا ہے،اب 16ملین سے تجاوز کرچکی ہے۔



ماضی کا کراچی ایسا تو نہ تھا، کچر ااس کی شناخت ہر گز نہیں تھی، اسے تو کچرا بنادیا گیا ہے۔ یہ تو بہت صاف ستھرا ایسا شہر تھا کہ جس کی سٹرکیں روز پانی سے دھلا کرتی تھیں، قدیم کراچی (اولڈ کراچی) جس میں لی مارکیٹ، کھارا در، میٹھادر، لیاری، مسان روڈ، بہار کالونی، آگرہ تاج کالونی، رتن تلاؤ، رنچھوڑ لائن، کیماڑی، ایم اے جناح روڈ (بندر روڈ)، جمشید کواٹر، کلاکوٹ، کھڈا مارکیٹ، جونا مارکیٹ، جوڑیا بازار، سرافہ بازار، موسیٰ لین، بغدادی اور دیگر علاقے گنجان ہونے کے باوجود صاف ستھرے تھے، ان علاقوں میں آمد و رفت کے لیے ٹرام منفرد سواری تھی، ٹانگہ، بگی نما گھوڑا گاڑی، سائیکل رکشااور بسیں چلا کرتی تھیں، پھر بھی شہر صاف ستھرا تھا، سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے کدھاگاڑی، اونٹ گاڑی، ہاتھ گاڑی چلا کرتی تھی۔ شہر میں جانوروں کا استعمال سڑکوں پر اونٹ گاڑی، گدھا گاڑی، گھوڑا گاڑی (تانگہ اور بگی) چلنے کے باوجود سڑک پر گندگی کہیں نظر نہیں آیا کرتی تھی۔ آخر اس وقت بھی تو کراچی کا نظام انسانوں ہی کے ہاتھ میں تھا، وہ فرشتے تو نہیں تھے، وہ کراچی کے ہی باسی تھے، صفائی ستھرائی کی نگرانی کرنے والے، منصوبہ ساز کراچی سے مخلص تھے، اس شہر کو اپنا شہر تصور کرتے تھے، ذمہ داری کا احساس تھا۔ افسوس رفتہ رفتہ یہ احساس جاتا رہا۔ کراچی اس وقت بھی کمائی پوت تھا، اس وقت بھی سب سے زیادہ رقم پاکستان کے خزانے میں جمع کراتاتھا آج بھی پاکستان کے خزانے
میں کراچی کی رقم سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ پھر اس کا یہ حال کہ لوگ کراچی کو کچرا کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں۔



کراچی کی خوبصورتی، وسعت اور اہمیت کے پیش نظر ہی تو پاکستان قائم کرنے والوں نے اس شہرکو ملک کے تمام شہروں کا دادا ابا بنایا تھا یعنی اسے دارالخلافہ منتخب کیا تھا، لیکن 1958 ء کے بعد ہمارے حکمرانوں کو یہ شہر دارالخلافہ کے طور پر پسند نہیں آیا، پہلے اقتدار پر قبضہ کیا پھرلے گئے اسے اٹھا کراسلام آباد، لیکن کراچی تو خود رو درخت کی مانند ہے اس کی وسعت میں سست روی نہیں آئی وہ اسی تیزی کے ساتھ پھلتا پھولتا رہا۔ بد قسمتی کہ حکمرانوں نے اس شہر کے بارے میں یہ رائے قائم کر لی کہ یہ شہر ہمارا نہیں۔ بات بھی درست ہے کہ کراچی نے کبھی حکمران جماعت کو جس نے بھی اسلام آباد میں تخت سجایا اس کا ساتھ نہیں دیا۔ ایوب خان سے میاں نواز شریف تک انتخابات میں کراچی مختلف سمت چلتا رہا ہے، اہل کراچی نے اہل کراچی ہی کو ووٹ دیا، لیکن انہوں نے بھی اس کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔ نام کمایا، مال کمایا لیکن اس کی ترقی کے لیے، اہل کراچی کے لیے کچھ نہ کیا۔ جس کا انجام سب کے سامنے ہے۔ کہتے ہیں نا کہ برا کروگے براہوگا، اچھا کروگے اچھا ہوگا،جیسا کرو گے ویسا ہی ہوگا، وقت لگ سکتا ہے، لیکن سزا تو مل کر رہے گی اور ملی، سب نے دیکھا۔




عمران خان پہلا سربراہ ہے جس نے اسلام آباد میں اقتدار کا تخت سجایا اور اسے کراچی سے پچاس فیصد سے زیادہ قومی اسمبلی کی سیٹیں حاصل ہوئیں، اس کی بھی وجوہات ہمارے سامنے ہے۔ سابقہ حکمرانوں نے اٹھارویں ترمیم منظور کر کے اختیارات مرکز سے صوبوں کو منتقل کردیے۔ صوبے کا سربراہ وزیر اعلیٰ ان تمام اختیارات کا مختار کل ہوگیا، ہونا تو یہ چاہیے تو کہ وہ اختیارات وزیر اعلیٰ سے اس کے صوبے کے شہروں میں قائم سٹی حکومت یا میونسپل کارپوریشن، یوسی چیرئ مین، کونسلرز کو منتقل کیے جاتے، میئر کو منقل کیے جاتے ایسا نہیں ہوا۔نتیجہ یہ نکلا کہ ایک تو سیاسی قوت سکڑ گئی،وہ اکڑ پھوں جاتی رہی، صوبے میں حکومت ایک پارٹی کی مرکز میں حکومت دوسری پارٹی کی، آپ نے صوبے کے بجائے مرکز میں قائم سیاسی جماعت کے اتحادی بن گئے۔ کراچی شہر لاوارث ہوگیا، مرکز میں قائم حکومت کو کیا پڑی کے کہ کراچی کے لیے کام کرے اسے جو حاصل ہونا تھا وہ ہوگیا۔ صوبے کی حکومت شہری علاقوں کی مدد سے قائم نہیں ہوئی اسے بھی کیا پڑی تھی کہ وہ کراچی کے کچرے پر توجہ دیتی۔ میئر سوائے اختیارات کے ناہونے کے کوئی راگ ان کے پاس نہیں۔ اختیارات نہیں۔ اگر مان بھی لیاجائے کہااختیارات نہیں تو ہزاروں سوئیپر (جھاڑو لگانے والے) ہر ماہ تنخواہ لیتے ہیں، گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں، ڈرائیور اپنی تنخواہیں وصول کر رہے ہیں، تنخوائیں باقاعدگی سے کے ایم سی کے کچرا اٹھانے اور اٹھوانے والوں کو مستقل مل رہی ہیں، پھر کچرا کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ مئیر صاحب اختیارات کے ساتھ ساتھ فنڈ کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔ جو اختیارات ہیں، جو وسائل ہیں ان میں رہتے ہوئے ہی اگر ایمانداری سے کام کیا جاتا تو گندگی کی یہ حالت نہ ہوتی جو ہوچکی ہے۔ مرکزی حکومت کو یا انیس زیدی کو کراچی والا ہونے یا کراچی سے اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا احساس ہوا۔ وہ نکلے میدان میں کراچی کا کچرا اٹھانے کے لیے۔ اب صوبائی حکومت کو یہ بات بھی ہضم نہیں ہوئی، کہ مرکزی حکومت کراچی کے لوگوں کی خدمت کرے، کراچی کا کچرا اٹھائے چنانچہ مرکز اور انیس زیدی، اس کی ٹیم اور اس منصوبے کو وہ بیچ مجھدار میں چھوڑ کر چلے گئے۔ اب سندھ کی صوبائی حکومت جو ایک سال سے کراچی کی جانب آنکھیں بند کیے ہوئے تھی، جوش میں آئی کہ صوبے میں ہماری حکومت، انیس زیدی کچرا اٹھا کر کیسے کریڈٹ لے چنانچہ، پہلے بلدیات کا وزیر جو کراچی کا تھا اسے تبدیل کیا پھر کچرا اٹھاو، صاف ستھرا کراچی مہم کا آغاز کیا، سندھ کے وزیر اعلیٰ کے گرفتار ہونے کی افواہیں عروج پر ہیں انہیں بھی جوش آیا، یاتوجہ ہٹانے کے لیے، اپنے نام سے کام نہ کرنے کا دھبہ دھونے کی غرض سے بلدیہ کے وزیر اور وزیر اعلیٰ کچرا اٹھانے کی مہم کے لیے میدان میں آئے، وزیر اعلیٰ نے شہر کا گشت بھی کیا، اپنی مصروفیات ظاہر کیں تاکہ نیب کو کہہ سکیں کہ وہ بہت مصروف ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ہروہ ڈمپر جو کچرا اٹھائے اس کی ویڈیو بنائی جائے۔ مقصد ثبوت رکھنے کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے۔ دیکھنا ہے کہ صوبائی حکومت یہ کام مکمل کرپاتی ہے یا وزیراعلیٰ صاحب پر کوئی آفت ناگہانی آجائے اور یہ منصوبہ بیچ مجھدار میں چھوڑ کر صوبائی حکومت بھی کراچی کے کچرے کو بائے بائے کردے۔ ویسے بارش نے کچرا اٹھانے والوں کو مزید امتحان میں ڈل دیا ہے، کچرے کے ساتھ ساتھ جو سٹرکیں کچھ بہتر تھیں وہ بھی کچرا ہی بن گئیں ہیں۔ کراچی صوبے اور مرکز کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ اس کو وسیع منصوبہ بندی، باہم شریک مرکزی حکومت، صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ یعنی میئر کراچی کوئی منصوبہ تشکیل دیں۔ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سیاست سے بالا تر ہوکر کراچی کو بہتر کرنے کی حکمت عملی پر کام کرے۔ مرکز اور صوبے کی حکمرانی میں جو جو سیاسی جماعتیں شامل ہیں ان کی نمائندگی اس کمیٹی میں ہو، ممکن ہو توکراچی کی دیگر جماعتوں کے نمائندوں کو بھی شامل کر لیا جائے تاکہ کراچی کے کچرا اٹھانے اور دیگر کام احسن طریقے سے انجام پاسکیں۔ویسے تو کراچی کا کچرا اٹھانے کے لیے ایک ادارہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم ہے لیکن اس کی کارکردگی اگر ہوتی تو کراچی کی بدحالی کی یہ نوبت نہ آتی۔اسے فعال بنانے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں