65

ٹیکسلا مغل بادشاہوں کے فن تعمیر حکومتی بے حسی کا شکار۔ سردار منیر اختر

رپورٹ سردار منیر اختر



ٹیکسلا تاریخی شہر ہر دور میں اپنی افادیت اور اہمیت کا امین رہا ہے یہاں سے سکندر اعظم جیسےبڑے
بڑئے حکمران گزرے اور یہاں پہ اپنے وجود کی کوئی نہ کوئی نشانی چھوڑ گئے اسی طرح مغل بادشاہوں نے بھی اپنے فن تعمیر کا شاندار اور نادر شاہکار یہاں پہ بنایا جو آج کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی موجود ہیں لیکن حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے یہ دن بدن خراب ہو رہے ہیں،مغل فن تعمیر کا شاہکار چبوترے گورنمنٹ ہائی سکول ٹیکسلا کی پچھلی سائیڈ پہ موجود ہیں جو کہ سکول کی بلڈینگ میں دن بدن تعمیر کی وجہ سے بلکل چھپے ہوئے ہیں اور 70فیصدلوگوں کو تو اس فن تعمیر کا پتہ ہی نہیں ہے،آٹھ سے دس کی تعداد میں موجود یہ چبوترئے ہائی سکول کی ایک سائیڈ سے شروع ہوتے ہیں اور دوسری سائیڈ پہ ایک چبوترہ سکول سے باہر چلا جاتا ہے خوبصورتی کہ اعتبار سے یہ فن تعمیر اپنی مثال آپ ہیں جس بات کو اندازہ یوں با آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ موجود دور کی بنی عمارتیں زلزلے کہ ایک جھٹکے کہ ساتھ ہی زمین بوس ہو جاتی ہیں لیکن مٹی سے بنی یہ عمارتیں کئی بھیانک زلزلے دیکھ چکی ہیں تاریخ کی کتابوں میں اگر ماضی کہ دریچوں میں جھانکا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ فن سنگ تراشی کا یہ مرکز کئی بار زلزلوں کی وجہ سے تہہ و بالا ہو ا لیکن ان عمارتوں کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا،لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہائی سکول ٹیکسلا میں موجود ان فن تعمیر کہ نادر اور گوہر نایاب آثار کی ذمہ داری نہ ہی تو محکمہ آثار قدیمہ ٹیکسلااٹھا رہا ہے اور نہ ہی ہائی سکول کا عملہ،اس ضمن میں جب کچھ عرصہ قبل سکول کہ پرنسپل سے بات کی گئی تو ان کا کہنہ تھا کہ ہم کو ان چیزوں سے سخت مشکل کا سامنا ہے نہ ہی تو ہم سکول کے حوالے سے یہاں پہ کوئی کنسٹریکشن کر سکتے ہین اور نہ ہی اس جگہ کو کسی اور استعمال میں لا سکتے ہیں کیونکہ دن بدن ہمارئے سکول میں طلباء کی تعداد زیادہ ہوتی جا رہی ہے اور اس لیے ہمیں سکول کہ کمرئے بھی چاہیں لیکن ہم یہاں پہ کمرئے بھی نہیں بنا سکتے اس ضمن میں ہم حکام بالا سے بھی بات کر چکے ہیں لیکن ابھی تک اس کا کوئی حل نہیں نکل سکا ہے،دوسری طرف محکمہ آثار قدیمہ بھی چشم پوشی کر رہا ہے اور وہ بھی اس تاریخی ورثے کو اپنی تحویل میں نہیں لے رہا ہے،لاکھوں کی تعداد میں ان تاریخی نوادرات کی مد میں حکومت سے تنخواہ لینے والے یہ لوگ اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اس تاریخی ورثے کو دن بدن تباہ ہوتا دیکھ رہے ہیں اور اس کا کوئی مناسب حل نہیں کر رہے ہیں،سکول کہ باہر بنے چبوترئے کو نیچے سے توڑ کر کباڑیوں نے اپنی آماجگاہ بنا لیا ہے وہ شہر سے کباڑ اکٹھا کرتے ہیں اور یہاں لا کہ رکھتے ہیں بے حسی کا نمونہ یہ ہے کہ بمعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کہ کوئی بھی اس طرف توجہ نہیں دئے رہا اور یہ نوادرت دن بدن زبوں حالی کی وجہ سے ماضی کا حصہ بنے کے لیے رواں دواں ہیں۔

سردار منیر اختر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں