41

پاکستان ریاستِ مدینہ کی ترز کی ریاست کا خواہاں، سعودی عرب ریاستِ امریکہ کی ترزِ حکمرانی کی جانب گامزن۔ ارشد قریشی

تحریر ۔ ارشد قریشی

سعودی عرب میں اذان کی آواز گونجتے ہی دکانوں کے دروازے بند ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن اب حکومت کے نئے فیصلے کے بعد صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

پاکستان حکومت ریاستِ مدینہ کی ترزِ حکمرانی کی خواہاں ہے جس کا عمران خان صاحب وزیر اعظم بننے سے  بہت پہلے سے ذکر کرتے آرہے ہیں ، جب کی اس کے برعکس سعودی عرب روشن خیالی کے نام پر ریاستِ امریکہ کی ترزِ  حکمرانی کی جانب گامزن ہے۔ جس کا اندازہ   سعودی عرب میں ہونے والی چند اہم تبدیلیوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔

سعودی عرب نے ملک کو روشن خیالی کی راہ پر لانے کی مہم میں سخت گیر مذہبی پولیس کے اختیارات میں کچھ عرصہ پہلے  بڑے پیمانے پر کمی کی تھی لیکن اب ایک متوقع ‘عوامی تہذیب’ کے قانون لائے جانے سے ایک بار پھر ملک کے معتدل حلقوں میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔


ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے انتہائی قدامت پسند تاثر کو ختم کرنے کے لیے ملک میں سنیما گھروں، موسیقی کے مخلوط کنسرٹس اور کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کو شروع کیا اور اس بات کا تہیہ کیا کہ ملک کو اب اعتدال پسند اسلام کی جانب لے جایا جائے گا۔

ماہَ جولائی میں سعودی عرب کے ایک شاہی فرمان کے مطابق اب مملکت کی خواتین کو بیرونِ ملک سفر کے لیے کسی محرم یا مرد نگران کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جب کہ خواتین کے کمرشل سینیما جانے پر عائد پابندی کو ختم کرتے ہوئے سینیما گھر کھولنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار 5 سعودی خاتوں کو جہاز اڑانے کا لائسنس بھی جاری کردیا گیا ہے۔



سعودی عرب میں اذان کی آواز گونجتے ہی دکانوں کے دروازے بند ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن اب حکومت کے نئے فیصلے کے بعد صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ چند روز پہلے ایک دوست جو کہ ریاض میں مقیم ہیں  دورانِ گفتگو علم ہوا کہ اس وقت دارالحکومت ریاض میں اذان ہو رہی ہے لیکن  کنگڈم سینٹر مال میں کھانے پینے کی متعدد دکانیں کھلی ہیں ۔ جب کہ  کچھ عرصہ پہلے تک پورے سعودی عرب میں یہ ناقابل تصور  بات تھی۔ ماضی میں سعودی عرب کی مذہبی پولیس نماز کے اوقات میں شاپنگ سینٹرز سمیت تمام دکانیں بند کروا دیا کرتی تھی۔انہوں نے دورانِ گفتگو یہ بھی بتایا کہ اب سعودی عرب کی دوسری جگہوں پر بھی اذان و نماز کے دوران کاروبار جاری رہتا ہے۔ظاہر ہے کاروبار جاری رہتا ہے تو اس وقت کاروبار پر موجود لوگ نماز ادا نہیں کرتے۔ اب سے پہلے ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سعودی عرب میں ہم کبھی یہ وقت دیکھیں گے۔


سعودی عرب نے اپنے تاریخی مقامات کیلیے پہلی بار 49 ممالک کے لیے سیاحتی ویزہ کے اجرا کا اعلان کیا ہے جس میں سیاحوں کے لیے لباس میں نرمی کرتے ہوئے خواتین کے لیے عبایا کی لازمی شرط کو ختم کردیا گیا ہے۔لیکن یہاں دلچسپ بات یہ کہ ان ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے۔جب کہ اس کے برعکس پاکستان نے 170 ممالک کو ای ویزہ  جاری اور 50 ممالک کو موقع پر ویزہ  دینے کا عمل شروع کیا تو اس  فہرست میں سعودی عرب کو سرِ فہرست رکھا گیا تھا۔

سعودی عرب نے گزشتہ ماہ ستمبر کے آخر میں پہلی بار عام سیاحت کا اعلان کرتے ہوئے غیر ملکی خواتین کو عبایا پہننے سے بھی آزاد قرار دیا تھا۔اور اب سعودی عرب نے غیر ملکیوں کی سیاحت کے لیے توجہ حاصل کرنے کی غرض سے انہیں مزید آسانیاں دینے کا اعلان کردیا۔سعودی عرب کی حکومت نے سیاحت کے لیے آنے والے غیر ملکی نامحرم مرد و خواتین کو ہوٹل میں ایک ہی کمرہ لینے کی اجازت دے دی۔نئے قانون کے تحت اب کوئی بھی غیر ملکی مرد یا خاتون کرائے پر ہوٹل لینے کے بعد اپنے ساتھ کسی بھی غیر ملکی مخالف جنس کے شخص کو رکھ سکتا ہے۔



سعودی اطلاعات کے مطابق ابھی تک تو یہی کہا جارہا ہےکہ سیاحتی ویزے میں بہت سارے ورثے اور آثار قدیمہ والے مقامات ہیں جب کہ مدینہ منورہ اور مقدس مقامات پر سیاحتی ویزے پر آنے والوں کے لیے پابندی ہوگی کیونکہ یہ فی الحال مسلمان زائرین تک ہی محدود ہیں۔لیکن خدشہ ہے کہ کہیں تیزی سے روشن خیالی کی جانب گامزن  حکمران اس شرط کو بھی ختم نہ کردیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں