55

بانی ایم کیو ایم الطاف حسین گرفتار، مشروط ضمانت منظور

ویب ڈیسک

نفرت انگیز تقریر کے کیس میں بر طانوی عدالت نے بانی ایم کیو ایم  الطاف حسین کی مشروط ضمانت منظور کرلی، عدالت نے بانی ایم کیو ایم کی نقل و حرکت کو مشروط کردیا۔

عدالت نے بانی ایم کیو ایم پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر تے ہوئے حکم دیا کہ  بانی ایم کیو ایم سوشل میڈیا کی تمام ویب سائٹس سمیت اخبارات ، ٹی وی چینلز سمیت میڈیا سے دور رہیں گے ۔

بانی ایم کیو ایم پاکستان میں کسی عوامی اجتماع سے خطاب کے ساتھ ساتھ ملکی سیاسی صورت حال پر تبصرہ بھی نہیں کرسکیں گے۔

سماعت کے دوران بانی ایم کیو ایم عدالت کی شرائط سن کر رو پڑے، جس پر جج نے انہیں کہا کہ آپ بیٹھ جائیں آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔

بانی ایم کیو ایم نے جج کو روتے ہوئے کہا کہ کیا وہ اپنے کارکنان سے بھی بات نہیں کر سکتے ، جج نے حکم دیا کہ وہ سوشل میڈیا سے مکمل دور رہیں اور اپنی تقریر کے ذریعے کارکنان سے رابطہ نہیں رکھیں گے تاکہ پاکستان میں اشتعال نہ پھیلے ۔

سماعت کے دوران بانی متحدہ نے جج کے سامنے اپنے نام، تاریخ پیدائش اور ایڈریس کی تصدیق کردی ہے ۔

جج نے چارجز کی تفصیل بانی متحدہ کو پڑھ کر سنائی ، مگر بانی ایم کیو ایم نے جج کے سامنے خود پر عائد الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

جج نے بانی متحدہ سے پوچھا کہ کیا انھیں پتہ ہے کہ انھیں دہشت گردی کے الزامات میں چارج کیا گیا ہے۔

بانی ایم کیو ایم پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

لندن کے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کے کورٹ نمبر ون میں بانی متحدہ کو پیش کردیا گیا، جہاں کیس کی سماعت ہوئی۔

نفرت انگیز تقریر کے کیس میں ضمانت ختم ہونے پر بانی ایم کیو ایم تیسری بار جمعرات کو لندن کے سدک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے، جہاں انہوں نے تیسری بار بھی لندن پولیس کے سوالوں کے جوابات نہیں دیے جس پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

بانی ایم کیو ایم کو پولیس حراست میں ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اُنہیں عدالت میں الزامات سے آگاہ کیاجائےگا جس کے بعد ان کے وکلا ضمانت کی درخواست دائر کریں گے۔

نفرت انگیز تقریر کے الزام میں بانی ایم کیو ایم ضمانت ختم ہونے پر 4 ماہ میں تیسری بار برطانوی پولیس کے سامنے پیش ہوئے۔

ذرائع کے مطابق بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے تیسری بار بھی لندن پولیس کے جوابات نہیں دیئے، لندن پولیس نے بانیٔ ایم کیو ایم کو سوالوں کے جوابات دینے کی ہدایت کی تھی۔

الطاف حسین سے کہا گیا کہ جوابات دینا ان کے مفاد میں ہوگا تاہم جوابات سے انکار پر ان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔

واضح رہےکہ بانی ایم کیو ایم پر اگست 2016 ءمیں تقریر کے ذریعے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام ہے۔

لندن پولیس نے اُنہیں رواں برس 11 جون کو نفرت انگیز تقریر کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور وہ گزشتہ ماہ 12 ستمبر کو بھی ضمانت ختم ہونے پر سدک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں