67

والدین کی فرمانبرداری اور حسن سلوک ۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر۔ پیر سید سہیل بخاری

سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد خداوندی ہے
اور تمہارے باپ کا قطعی حکم ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور پرستش کرو ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ واحد رہبر اور رہنما ہیں جنہوں نے دنیا کو واضح طور پر بتایا ہے کہ خدا کی عبادت اور بندگی کے بعد انسان پر سب سے اہم ذمہ داری اور اولین فریضہ اپنی ماں کی عزت اور احترام اور فرمانبرداری کرنا ہے۔ اس کے بعد باپ اور دیگر عمر رسیدہ بزرگ۔



موجودہ زمانے میں اولاد اپنے ماں باپ اور دیگر بزرگوں سے جس طرح پیش آرہی ہے اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ معاشرے کو اپنے مذہب اسلام کی تعلیمات کا کچھ علم نہیں ہے۔
والدین اور خصوصاً ماں اپنی اولاد کے لئے جو تکالیف اٹھاتی ہے اور جس طرح وہ اپنا خون جگر دے کر زندگی اور توانائی بخشتی ہے اور باپ دن رات محنت مشقت کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پالتا ہے وہ کسی باشعور انسان سے ڈھکا چھپا نہیں ہے لیکن والدین کے ساتھ ا ولاد کا جو رویہ اور طرز عمل ہوتا ہے یا نظر آتا ہے ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ قرآن پاک میں اس کو بڑے ہی دلکش اور پیارے انداز میں بیان کیا ہے: ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرے اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا مشقت اٹھا کر اسے جنا اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں اسے تیس مہینے لگ گئے، یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے کہا: اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی اور ایسا نیک عمل کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمایا اور ایسا نیک عمل کرو جس سے تو راضی ہو اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سکھا دے میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان بندوں میں سے ہوں۔

” اس طرح کے لوگوں سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں کو درگزر کر جاتے ہیں یہ جنتی لوگوں میں سے شامل ہوں گے اس کے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے”۔
ہمیں چاہیے کہ ہم مذہبی تہواروں اور خوشی کے موقعوں پر اپنے ماں باپ کے ساتھ خاندان کے دیگر بزرگوں کو نہ صرف اہمیت دیں بلکہ ان کی عزت اور احترام میں کسی قسم کی کمی نہ آنے دیں ہم نہ صرف ان سے بے پناہ محبت کا والہانہ اظہار کریں بلکہ ان کے ساتھ ادب سے بھی پیش آئیں تاکہ ان کے دل میں آپ کے لیے ایسا جذبہ پیدا ہو جائے کہ وہ آپ کو آپ کی عدم موجودگی میں یاد رکھیں اور دیگر رشتہ داروں سے بھی آپ کے رویہ کی خوشی سے ایسا اظہار کریں کہ رشتہ دار آپ سے ملنے کے لیے بے تاب ہوں ہمارا مذہب والدین کے احترام اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا درس دیتا ہے سورۃ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ” لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ ہم کہاں خرچ کریں جواب دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اس کے اولین حقدار والدین ہیں “۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اپنے باپ کی شکایت کرنے لگا کہ وہ جب چاہتے ہیں میرا مال لے لیتے ہیں نبی پاک ﷺ نے اس آدمی کے باپ کو بھی بلایا جو لاٹھی ٹیکتا ہوا ایک بوڑھا آدمی آپکی میں حاضر ہوا نبی کریم ﷺ نے اس بوڑھے سے تحقیق فرمائی تو اس نے کہنا شروع کیا: اللہ کے پیارے رسولﷺ ایک زمانہ تھا جب یہ کمزور اور بے بس تھا اور مجھ میں طاقت تھی میں مالدار تھا اور یہ خالی ہاتھ تھا میں نے کبھی اس کو اپنی چیز دینے سے نہیں روکا تھا آج میں کمزور ہوں یہ تندرست اورجوان ہیں میں خالی ہاتھ ہوں اور ناتواں ہوں۔ اور یہ مالدار ہے اب یہ اپنا مال مجھ سے بچا بچا کر رکھتا ہے۔ اس شخص کی بات سن کر اللہ کے پیارے نبی ﷺرو پڑے اور(بوڑھے کے لڑکے سے مخاطب ہوکر)ارشاد فرمایا:” تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے”۔



والدین کو اپنے مال کا مالک سمجھئے اور ان پر دل کھول کر خرچ کریں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کی نافرمانی کرنا ہے۔ انسان کا کسی انسان کے سامنے جھکنا شرک کہلاتا ہے لیکن والدین اور بزرگوں کے آگے جھکنے کو پروردگار عالم نے عبادت قرار دیا ہے۔ پروردگارعالم فرماتے ہیں کہ میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی شکرادا کرو۔ ماں کی عظمت کا ایک واقعہ پیش خدمت ہے کہ پرانے وقت میں تین آدمی سفر کے لیے روانہ ہوئے راستے میں طوفان آگیا ان تینوں نے بھاگ کر ایک غار میں پناہ لی طوفان کی شدت سے ایک بہت بڑا پتھر گرا جس کی وجہ سے غار سے باہر نکلنے کا راستہ بند ہو گیا۔ اب وہ تینوں مسافر بیحد پریشان ہوئے۔ انہیں موت یقینی نظر آرہی تھی پر وردگار عالم سے دعائیں مانگی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا ان میں سے ایک شخص کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ ہم میں سے ہر شخص اپنی زندگی میں نیک کام کرنے کا قصہ سنا کر رب کریم سے مددکاطالب ہو۔ جناب چنانچہ پہلے شخص نے اپنا قصہ سنایا کہ میں ہر رات سونے سے پہلے دودھ کا پیالہ لے کر ماں کے پاس آتا اور جب وہ دودھ پی لیتی پھر اپنے بچوں کو دودھ پلاتا ایکرات مجھے گھر آنے میں دیر ہو گئی جب میں دودھ کا پیالہ لے کر ماں کے پاس گیا تو وہ سو گئی تھی میں پیا لہ لیے کھڑا رہا کہ جگانا مناسب نہیں۔اب بچوں نے دودھ کے لئے رونا شروع کر دیا بچوں کے شور کی وجہ سے ماں کی آنکھ کھل گئی تو پہلے میں نے ماں کو دودھ پیش کیا تو بعد میں بچوں نے پیا۔ پھر کہا یا اللہ اگر تیری نگاہ میں یہ نیک عمل ہے تو میری مدد فرما اور اس پتھر کو راستے سے ہٹا دے اس کے بعدپتھر اپنی جگہ سے تھوڑا سا سرک گیا مگر اتنا راستہ نہیں تھا جس سے وہ لوگ باہر نکل سکتے اس کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے شخص نے اپنی اپنی نیکیوں کے سنائے اور ہر دفعہ پتھر سرکتا رہا اور وہ تینوں باہر نکل سکے ماں کی خدمت اتنی عظیم نیکی ہے کہ اس کا واسطہ دینے سے پروردگار عالم پہاڑ کو بھی سرکا دیتا ہے۔ والدین کی زندگی میں اولادان کا احترام اور عزت کرتی ہے مگر والدین کے انتقال کے بعد اولاد کا فرض ہے کہ انھیں اپنے دلوں میں زندہ رکھیں ان کی برسی منائی جائے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اور ان کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعائیں مانگی جائیں۔ تاکہ باری تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” باپ کی قسم کھانے سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ منع کرتا ہے”۔
رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ماں باپ کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھنا ایک حج کے ثواب کے برابر ہے۔ قرآن مجید میں ایک سے زائد مقامات پر پروردگارعالم کی عبادت کے بعد والدین سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے جو شخص اپنے والدین سے محبت،پیار، اخلاق اور تابعداری سے پیش آئے گا وہی دوسرے لوگوں سے بھی خوش اخلاقی سے پیش آئے گا۔ والدین کی فرماں برداری سے متعلق باری تعالی کا ارشاد ہے: ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر پہنچ جائیں تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک ان میں سے یا دونوں تو نہ کہو ان کو اف تک،نہ جھڑک کر جواب دو ان کو اور کہہ ان سے بات ادب کی اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کر نیاز مندی سے اور کہہ اے رب ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے مجھ کو چھوٹا سا پالا ۔ سورۃ بنی اسرائیل
“اور ہم نے انسان کو وصیت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اس کی ماں نے اسے تکالیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف سے جنم دیا”
پروردگارعالم سب انسانوں کے والدین کو سلامت رکھنا اور جن کے والدین اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا ء کرنا ہم سب کو لوٹ کر تمہاری طرف ہی جانا ہے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:” رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کریم کی ناراضگی والد کی ا ناراضگی میں ہیں ” اللہ ہم سب کو والدین کی فرمابرداری تابعداری کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں