47

چینی حکام پر امریکی پابندیاں، امریکا چین کے داخلی معاملات میں دخل اندازی سے باز رہے، بیجنگ

ویب ڈیسک

سنکیانگ صوبے کی صورتحال کے حوالے سے امریکا چین پر مسلسل دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چینی سرکاری اہلکاروں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی حکومت نے بتایا ہے کہ چینی اداروں کو بلیک لسٹ قرار دینے کا واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین ہونے والے ان مذاکرات سےکوئی تعلق نہیں، جو اسی ہفتے شروع ہونے والے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے مابین طویل عرصے سے تجارتی جنگ جاری ہے اور فریقین تجارتی مسائل کو حل کرنے کی خاطر کئی مرتبہ مذاکرات بھی کر چکے ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس امریکی اقدام کے بعد تازہ مذاکراتی عمل کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات کم ہی ہیں۔

اس موقع پر ان چینی سرکاری افسراں کے نام نہیں بتائے گئے، جن پر یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سنکیانگ پارٹی کے شین کوانگاؤ پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا سوچ رہی تھی۔ کوانگاؤ چینی کمیونسٹ پارٹی کے با اثر ترین پولٹ بیورو کے ایک رکن بھی ہیں۔

چین میں ایغوروں کا دیس سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیلمغربی چینی علاقے سنکیانگ میں حفاظتی انتظامات سخت ترچین کی قدیم شاہراہِ ریشم پر واقع شہر کاشغر میں دن میں تین بار الارم بجتا ہے اور دکاندار حکومت کی طرف سے دیے گئے لکڑی کے ڈنڈے تھامے فوراً اپنی دکانوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ پولیس کی نگرانی میں منظم کی جانے والی ان انسدادِ دہشت گردی مشقوں کے دوران یہ دکاندار چاقو لہرانے والے فرضی حملہ آوروں کے خلاف لڑتے ہیں۔

ان پابندیوں کے بعد امریکا میں چینی سفارت خانے نے اپنے اوّلین رد عمل میں کہا کہ امریکی اقدام ‘بین الاقوامی تعلقات کو چلانے کے بنیادی اصولوں‘ کی شدید خلاف ورزی ہے اور ساتھ ہی واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا محض بہانہ بنا کر بیجنگ کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کر رہا ہے۔

چینی سفارت خانے نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ”سنکیانگ میں انسانی حقوق کے وہ مسائل نہیں ہیں، جن کا امریکا دعویٰ کر رہا ہے۔ سنکیانگ میں انسداد دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا مقصد وہاں پنپنے والی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔‘‘ اس موقع پر امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی غلطی کو درست کرتے ہوئے چین کے داخلی معاملات میں دخل اندازی سے باز رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں