50

پہلے مسلمان تو اسلام قبول کرے ۔ ظفر اقبال ظفر

تحریر۔ ظفر اقبال ظفر

اکثریت اس وہم میں مبتلا ہے کہ کوئی آئے گا اور حالات بدل دے گا۔سارا نظام منتظر ہے ایسے مسیحا کا جو اصلاحات مسلط کر دے گا اور اچھائی بہتری نکلنا شروع ہو جائے گی جس سے دولت مندوں نے روزگار مہیا کرنا شروع کر دینا ہے اور پولیس جرائم کی پیدائش بند کر دے گی عدالتیں انصاف فراہم کرنے لگیں گی حق پر مبنی فیصلے فوری عمل میں آ جائیں گے وکیل جھوٹے قصور وار کے لیے لڑنا بند کر دیں گے ہسپتالوں میں مریضوں کی بیماری کی کیفت ڈاکڑکے اندرمحسوسات سے معیاری علاج کے ساتھ فوری آرام میں حل کروا دے گی۔میڈیسن کمپنیاں منافع میں ڈاکٹر کی بجائے انسانیت کو سہلولتیں دینا شروع کر دیں گی۔سکولوں میں بچوں کی والدین کی کمائی دیکھ کر فیس لی جائے گی۔پٹواری قبضہ گروپوں کی بجائے حقدار کا دفاع کرئے گا۔لوگ ہمسایوں کے گھر فاقوں کی تصدیق کے بعد لقمے حلق سے اتاریں گے۔کاروبار میں جائز منافع زیادہ برکت کی وجہ بنے گا۔ناقص پھل کو سہی پھل کے ساتھ مکس کرکے تولا نہیں جائے گا۔ہر خریدی ہوئی چیز واپس اور تبدیل ہو جایا کرئے گئی۔ملاوٹ زدہ اشیا کسی کو مارنے جیسی سمجھی جائیں گی۔عورت کی عزت پر کبھی آنچ نہیں آئے گئی۔جہیز کو لعنت سمجھ کر غریبوں کی بچیوں کو مالدار لوگ بیاہ کر لانا غیرت پسند ی سمجھیں گے۔امیر کویہ احسا س ہوجائے کہ بھوک سے مرنے والے کا زمہ دار مالدار ہوگا۔ظلم ہوتے ہوئے دیکھنے والا اسے نہ روکنے میں خود کو برابر کا شریک سمجھے گا۔سچ کے ساتھ اکثریت اور جھوٹ تنہا ہو گا۔اگر آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب جو ایمان اور ضمیر کا تقاضہ ہے اسے کسی اور نے آ کر کرنا یا کروانا ہے تو یقین جانئیے آپ اس سسٹم کے جوابدہ ہیں کہ حقوق العباد میں انہی کرداروں کا حساب لیا جانا ہے۔جب یہ خود احتسابی آپ کو اس بات کے لیے تیار کردے کہ آپ کے ہاتھوں یا آپ کی وجہ سے کوئی خرابی رونما نہیں
ہونی چاہیے تو آپ حسن سلوک کی وجہ بن کر حقوق العباد کا حق ادا کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔



اللہ نے وسائل کی کمی نہیں رکھی غیر ضروری قابض نے معاشرے کو حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔جاگیر چھوڑ کر مرنے والا آخری وقت میں بھی نہیں سوچتا کہ اس کی وجہ سے کتنی آسانیاں اور بھلائیاں لوگوں میں تقسیم ہو سکتی تھیں جو میری آخرت کا خزانہ بن سکتا تھا میں نے اسے مخصوص اولاد کے لیے چھوڑ دیا اب کھائیں گے وہ اور حساب دوں گا میں۔اگر میں اللہ کی مخلوق کے لیے تقسیم کرتا تو آج وہی میری جنت کا سامان ہوتا مگر اب دوسروں کے لیے نہ کرنے کا سوال بنا ہوا ہے جس کاجواب شرمندگی اور سزا کا روپ نتیجہ ہے۔مفاداتی طرز زندگی نے معاشرے کو زلتوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔اپنے اختیار کے عملوں کو چھوڑ کر کہا جاتا ہے اللہ ان کے حالات پر رحم کھائے گا۔اپنا فرض اللہ پہ چھوڑ کر تم بچ جاؤ گے اور تم ہوتے کون ہو؟ جو مخلوق کی مدد کی بجائے اللہ کو رائے دے رہے ہو۔اللہ ہمارا مالک ہے ہماری چاہتوں کا پابند نہیں تم انسانیت کے معیار پر پورا نہیں اترتے اور گمان کرتے ہو تمارے حقوق اللہ غیبی مدد سے پورے کروائے۔تم وہ انسان ہو جس کی پیدائش کرکے اللہ نے فرشتوں کے سامنے فخر کیا تھا۔کیا رب کی زات جلال میں نہیں آئے گی۔اسلامیت مسلمانیت انسانیت کو گندہ کرنے والے بدکرداروں کی دنیا میں عذابوں کے رستے بند کروانے والے آقاکریم ﷺ ظالموں کی شفاعت کروائیں گے؟ وہ مظلوموں بے سہاروں بھوکوں مسکینوں یتیموں کے لیے رحمت العالمین ہیں۔کیا انہیں دُکھ نہیں ہوگا میری اُمت میں پیدا ہونے والا میرے ہی کمزوروں کے اندر میری محبت کی تلاش نہیں کر سکا۔ اسے خدا اور اس کی جنت کے ملنے کا انعام کیوں ہو۔آقا کریم ﷺ کا ہر عمل ہر چاہت ہر تمنا ہر سوچ میرے خاندان اور نسل کے سارے گمانوں سے افضل اور بہتر ہے مگر کبھی کبھی حالات دیکھ کر کلیجہ منہ کوآتا ہے کہ اگر پہلی قوموں کی طرح دنیا میں بھی بروں پرعذاب کا نزول ہونے دیتے تو آج کئی ظالم خود غرض مفاد پرست جہیں اسلامی تعلیمات اصلاح نہ کروا پائیں انہیں سزائیں سدھانے کا کام کرتیں تو ساری زندگی ان کی وجہ سے تکلیفوں میں گزارنے والے آسانیوں کا وقت گزار لیتے۔میں ان عذابوں اورسزاوں کے حق میں صرف اس لیے ہوں کہ ایک تو متاثرین کی جان جلد چھوٹ جاتی اور دوسرا آخرت کا عذاب اور سزا دنیا سے کہیں زیادہ دردناک ہے۔اس لحاظ سے ظالموں پر یہ بھی بہتریہی ثابت ہوتا۔مگر سچ اور حقیت یہ ہے کہ آقا کریم ﷺ کی کرم نوازیوں اور عطاؤں کا بھی لوگوں نے ناجائز فائدہ اُٹھایا ہے کرداروں کی غلاظت سے اسلام اور مسلمان کے معیار کو رسوا کیا ہے۔میرے پاس غیر مسلم کو پیش کرنے والا کردار نہیں ہے جس کی بنا پر میں اسے اسلام کی دعوت دوں۔اور اگر قبول اسلام کی دعوت دے بھی دوں تو سوال آتا ہے تم مسلمانوں نے اسلام کو کتنا قبول کیا ہے؟تمارے نبیﷺ کا فرمان ہے ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں۔تمارے پاس ملاوٹ سے پاک چیز ہے کون سی؟ تم تو اپنا ایمان بھی ملاوٹ زدہ رکھتے ہو۔تمارے نبی ﷺ کا فرمان ہے سود لینا ماں کے ساتھ زنا اور اللہ کے ساتھ اعلان جنگ ہے تم تو ہم سے سودی قرضے لے کر نسلوں تک کے ہمارے مقروض ہو۔پہلے مسلمان تو اسلام کو قبول کرئے۔۔۔ہائے میری شرمندگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں