76

شہید پاکستان حکیم محمد سعید ایک لازوال شخصیت ۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر ۔ پیر سید سہیل بخاری

روئے زمین پر ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور(صرف)تیرے رب کی ذات جو نہایت عزت و اکرام والی ہے باقی رہ جائے گی۔ پھر تم(اے انسانو اور جنو!) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ہر کوئی زمین و آسمان میں ہے اسی سے مانگتا ہے ہر روز اس کی نئی شان ہے پھر (انسانو اور جنو!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے اے جنواور آدمیو! ہم جلد فارغ ہوکر تمہاری طرف متوجہ ہوں گے پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے اے جن و انس کے گروہو! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ مگر تم ایک خاص قوت و غلبہ کے بغیر بھاگ نہیں سکتے (جو تم کو حاصل نہیں) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ ا جائے گا مگر تم نہ اسے روک سکو گے اور نہ بدلہ لے سکوگے پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ پھر جب آسمان پھٹے گا تو وہ چمڑہ کی طرح گلابی رنگ کا ہو جائے گا۔ پھر تم اپنے رب کی کون کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے سو اس دن کسی انسان اور جن سے گناہوں کے متعلق سوال نہ کیا جائے گا۔پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے گنہگار لوگ اپنے چہروں سے پہچان جائیں گے پھر انکو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑا جائے گا۔ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جہنم جس کی گنہگارتکذیب کیا کرتے تھے۔وہ آگ اور انتہائی کھولتے ہوئے پانی سے گھومتے پھریں گے۔ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ پروردگار عالم کی انہی نعمتوں میں سے دنیا میں ایک نعمت حکیم محمد سعید شہید پاکستان تھے اور اسلامی نقطہ نظر سے شہید زندہ ہوتا ہے وہ ظاہری طور پر لوگوں کو نظر نہیں آتا مگر باطنی طور پر دنیا کے کونے کونے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہوتا ہے۔ حکیم محمد سعید شہید پاکستان کے ساتھ ساتھ مسیحائے پاکستان بھی ہیں۔



حکیم محمد سعید شہید پاکستان ایک دن کا انہیں ایک ماہ کانہیں ایک سال کا نہیں بلکہ ایک صدی سے زیادہ کا ایک ایسا سنگ میل ہے جس کی بنیاد ان کے والد حافظ حکیم عبدالمجید اور ان کی رفیق کار اور رفیق سفرمحترمہ رابعہ بیگم نے” ہمدرد” کے نام سے رکھی ان کی مشاورت، خدمت اور انتھک محنت نے ہمدرد کے قیام اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا اور دونوں میاں بیوی کی شب وروز محنت مسلسل جدوجہد اور جذبہ انسانیت سے ہمدردہلی کو بڑا دواخانہ بنادیا اور ملک و قوم کو دو عظیم سپوت دیے جو بلاشبہ رہتی دنیا تک ان کا نام روز اول کی طرح روشن رہے گا۔ بر صغیر پاک و ہند میں ہمدرد کا ڈنکا بج رہا ہے۔ حکیم عبد الحمید مرحوم کے صاحبزادے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں محترمہ رابعہ بیگم کے چھوٹے صاحبزادے حکیم محمد سعید پاکستان نے ہمدرد کی بنیاد رکھ کر اپنی بھرپور صلا حینوں کا مظاہرہ کیا اور اور ایسا کارنامہ انجام دیا کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔ پاکستان میں ان کے ہمراہ ان کی شریک حیات محترمہ نعمت بیگم تھی لیکن جو خاتون ان کے کاموں میں ہر طرح ان کے ساتھ شانہ بشانہ چلتی رہیں وہ شہید پاکستان کی دختر نیک اختر محترمہ سعدیہ راشد جو اپنی دادی جان کی نقش ثانی ہیں اور فروغِ ہمدرد پاکستان میں اپنے عظیم باپ کی رفیق سفر بلکہ مشیر خاص رہیں اور اب تک ایسا کردار ادا کر رہی ہیں کہ ان کی دادی کی روح خوش ہو جاتی ہوگی۔ شہید پاکستان اور مسیحائے انسانیت حکیم محمد سعید عظیم پاکستان کے تابناک اور روشن مستقبل پر یقین رکھتے تھے مستقبل سے مایوسی کو وہ گناہ اور مایوسی پھیلانے کو ملک کے خلاف سازش قرار دیتے تھے وہ عملی انسان تھے انہوں نے پاکستان کی نئی نسل کو سنوارنے کے لیے نونہالوں کے لیے 1972 ء میں تعلیم بذریعہ عجائب گھر کا پروگرام ترتیب دیا ابتدائی پر وگرام میں دو تین سکول کے بچوں کو عجائب گھر بلایا جاتا اور ان کو عجائب گھر کی سیر کرائی جاتی پھر آڈیٹوریم میں جمع کرکے ان سے ذہنی آزمائش کے پروگرامز اور میوزیم میں دیکھی گئی اشیاء کے بارے میں تاریخی حوالوں سے نونہالوں سوالات کیے جاتے بعدازاں حکیم صاحب نے “سائنس پڑھو آگے بڑھو “کے عنوان سے نونہا لوں کا ایک پروگرام ترتیب دیا اس پروگرام کے ذریعے وہ نونہا لوں میں سائنس پڑھنے اور سائنسدان بننے کا شوق پیدا کرنا چاہتے تھے۔ اس پروگرام میں سائنس کے موضوعات پرنونہالوں کو تقریر اور کوئی ایک سائنس دان کسی سائنسی موضوع پر روشنی ڈالتاتھا۔ 25 اگست 1985 ء کو حکیم محمد سعید نے نونہالوں کے لیے بزم ہمدرد نونہال کی مستقل بنیاد رکھ دی اور نونہالوں میں تقریر نغمے اور ٹیبلوز کے علاوہ کسی اہم شخصیت کو مہمان خصوصی مدعو کیا جاتا جو نو نہالوں کو اچھی اچھی اورکام کی باتیں بتاتے پھر حکیم صاحب نے 4جنوری 1995 ء کو بزم ہمدرد نونہال کو ہمدرد نونہال اسمبلی کا درجہ دے دیا۔ہمدرد نونہال اسمبلی میں اسپیکر اور قائد حزب اختلاف کے عہدے ہوتے ہیں اسی طرح ہمدرد مجلس شوریٰ کا قیام بھی حکیم محمد سعید کا ایسا کارنامہ ہے جو رہتی دنیا تک انمٹ نشان چھوڑے گا۔ ہمدرد مجلس شوریٰ میں ہر ماہ ملک کی سلامتی اور ترقی کے لئے حکومت کونئی نئی قرار داد پیش کی جاتی ہیں جن کے موضوع موجودہ حالات پر مبنی ہوتے ہیں اور ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد و شخصیات شریک ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں حکیم محمد سعید شہید پاکستان کا ایک ناقابل فراموش کارنامہ ہمدرد فاؤنڈیشن کا قیام ہے جس کے تحت فلاحی خدمات سر انجام دی جاتی ہیں ذہین بچوں کو وظائف یتیموں اور بیواؤں کو وظائف راشن کا انتظام فری میڈیکل کیمپ، سفید پوشوں کی امداد بغیر کسی تشہیرکی جاتی ہے اور اس کا سہراہ حکیم محمد سعیدکے بعد ان کی درد مند،ہمدرد اور مخلص خاتون محترمہ سعدیہ راشد کے سر ہے جو کہ اس کام کو بخوبی سر انجام دے رہی ہیں۔ ایشین کلچرل ایسوسی ایشن آف پاکستان نے محترمہ سعدیہ راشد کی فلاحی، سماجی خدمات پر انہیں ایشین میڈیا ایوارڈ 2018 ء سے نوازا جس کی تقریب الحمرا ہال نمبر ون شاہراہ قائداعظم لاہور میں منعقد ہوئی۔حکیم محمد سعید کی طب میں ایجادات پوری انسانیت کی بہتری کے لئے ہیں وہ ماہر تعلیم بھی تھے اور انہوں نے ایک صحراکو علم و تعلیم کانخلستان بنا دیا تھا انہوں نے ہماری ثقافت کو تحفظ دیا جس پر ہمیں شہید پاکستان پر فخر ہے۔ہمدرد یونیورسٹی نئی نسل کی سوچ میں انقلابی تبدیلیاں لارہی ہے اور اس کا سہرا ان کو جاتا ہے جن کی انقلابی سوچ کا نتیجہ ہمدردیونیورسٹی ہے۔ ہمدرد یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ دیگر تعلیمی ادارے بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان کے مستقبل کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتے تھے حکیم محمد سعید کی خدمات بے مثال ہیں وہ ہر موسم میں سفید شیروانی میں ملبوس تن ومن کے اجلے تھے وہ جدہر چلے جاتے اجالا پھیل جاتا روشنی ہو جاتی شرافت کا یہ پیکر آپ نے چھوٹوں سے کمال شفقت اور احترام سے پیش آتے حکیم محمد سعید شہید پاکستان ایک کامیاب انسان تھے پروردگار عالم نے ان میں یہ خوبی ڈالی ہوئی تھی کہ وہ جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتے کامیابی ان کے قدم چومتی تھی انہوں نے طب مشرقی کو جدت سے ہمکنار کیا ان کی شہادت سے قوم ایک ایسی شخصیت سے محروم ہوگئی جس نے ملک کے نونہالوں کی آبیاری کے ساتھ ساتھ ملک کے ہر شعبہ کے افراد کی نمائندگی کی حکیم محمد سعید کا شمار اپنے عہد کے عظیم ترین انسانوں میں ہوتا ہے انسان جو نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز سے بروئے کار لائے بلکہ انہوں نے دوسروں کی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتے ہوئے ان سے کام لیا وہ اٹھارہ سے بیس گھنٹے کام کرتے تھے اور صرف چار گھنٹے سوتے تھے انہوں نے مضبوط قوت ارادی اور خود اعتمادی سے کام لیتے ہوئے پیدائشی لکنت پر حیرت انگیز طور پر قابو پایاآج ہم ایسے مرد مومن اور شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جو زمین پر رہ کر آفاقی صفات کے مالک تھے گویا حکیم محمد سعید کی خدمات کو بیان کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے وہ علمیت، حکمت، دیانت، ایثار اور قربانی کا ایسا مجسمہ تھے وہ طبیب بھی تھے ادیب و مدیر بھی تھے اور وہ اس فانی دنیا میں اللہ کی مخلوق کے لئے فرشتہ نما انسان تھے جنہوں نے اپنے لہو سے پاکستان کی بنیادوں کو مزید مضبوط اور مستحکم کیا۔ ” شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے” شہید پاکستان حکیم محمد سعید نے 17 اکتوبر کو 1998 ء سکی صبح جام شہادت نوش کیا۔

ہمارا بھی لہو شامل ہے تزئین گلستان میں
ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں