92

کرپشن کے ناسور نے عظیم پاکستان کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ پیر سید سہیل بخاری

تحریر۔ پیر سید سہیل بخاری

جس ملک میں 14کروڑ عوام غربت کی لکیر کو چھوتے ہوں جس ملک میں مسلمانوں نے اپنی تقریر،تحریر اور تبلیغ کو اپنا کاروبار بنا لیا ہو۔ عوام کو صاف پانی تک میسر نہ ہو تعلیم کا حصول ناممکن ہو۔ جھوٹ کے ماحول میں سچ بولنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگیا ہو اس ملک میں کرپشن کا ناسور کسی بھی شعبہ میں اپنے عروج پر ہو گا پاکستان کی عوام معاشرے کی تمام برائیوں، بداخلاقیوں، بے راہ روی اور بے حسی کے خالق اور ذمہ دار ہم خود ہیں۔ قطار میں کھڑا ہونا اپنی شان اور ہتک سمجھتے ہیں۔ وقت پر بل ادا نہ کرنا اور آخری دن بینک، ڈاکخانہ میں رش میں الجھنا اور رشوت دے کر جلدی کام کروانا پاکستانی عوام کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی برائیاں اور بددیانتی پاکستان عوام کے لیے کوئی برا کام نہیں ہے اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے ٹوکن کے لیے رشوت دینا اور سگنل توڑ کر لال نوٹ وارڈن کی جیب میں ڈالنا کمال فن ہے۔ پاکستانی قانون ہمارے تھانوں،کچہریوں،پٹوار خانوں، سیاسی ایوانوں کے ساتھ ساتھ ہرڈیپارٹمنٹ میں مذاق بن چکا ہے اگر قانون مستحکم ہو گا تو کسی بھی ملک اور معاشرے میں کرپشن جنم نہیں لے گی۔ کرپشن دراصل اپنا کام نکلوانے اور سرکاری کاموں میں کمیشن اقتدار میں اعلی قیادت،انتظامی مشینری کے چھوٹے بڑے اہلکار کرتے ہیں اور تمام قواعد و ضوابط توڑ کر اپنا کام نکلواتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بڑے پڑھے لکھے لوگ بھی دوسروں پر بہت تنقید کرتے ہیں لیکن اپنے آپ پر تنقید کرنا یعنی خود احتسابی کرنا پسند نہیں ہے اور وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کا ذاتی علم مکمل اور آخری ہے اور وہ اس دنیا کے سب سے ایماندار بندے ہیں جن پر تنقید کرنا کرپشن جیسے الزام لگانا ان کی توہین نہیں ہے بلکہ جو الزام لگا رہا ہے وہ خود ایک کرپٹ انسان ہے جس نے خود کبھی آئینے میں اپنا حلیہ نہیں دیکھا اور نہ کبھی اپنے ضمیر کو جھنجوڑا ہے کہ وہ کس طرح کے کام کرکے اپنے آپ کو گناہ کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ مذہب اور انسانیت کی دنیا اس قدر عظیم اور وسیع ہے کہ کوئی بھی ایک انسان اس کا تصور نہیں کرسکتا کیونکہ تصورات اور نظریات کئی صدیوں سے چلے آرہے ہیں اور ہر مکتبہ فکر کے پاس اپنے اپنے ٹھوس دلائل موجود ہے جس کی وجہ سے ہر کوئی اپنے اپنے خیالات پر قائم ہے۔ پاکستان بننے کے بعد آج تک کسی بھی حکمران کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ قرآن کے بنیادی احکامات اور قوانین کو اپنی زندگی اور ملکی زندگی میں نافذ کرتا جیسے وقت کی پابندی، وعدے کی پسداری کے ساتھ ساتھ کرپشن سے پاک معاشرے کی تشکیل دیتا۔ یاد رکھیں مسجدوں گرجوں اور عبادت خانوں میں عبادت کرنے سے انسان ابتدائی طور پر تو مسلمان بن جاتا ہے لیکن حقیقی طور پر ہرگز نہیں بن سکتا کیونکہ حقیقی طور پر انسان ہمیشہ اپنے اعمال اور کردار ایمانداری سے مسلمان بن سکتا ہے لیکن ہمارے اس معاشرے میں نہ تو اعمال ہے نہ تو کردار ہے اور نہ ایمانداری ہے۔ تو پھر کیسے بندہ ایک مسلمان بن سکتا ہے؟

علامہ اقبال نے اس عظیم حقیقت کو اپنے انداز میں کچھ اس طریقے سے بیان کیا ہے
زباں سے کہہ بھی دیا، لاالہ تو کیا حاصل
دل ونگاہ مسلمان نہیں، تو کچھ بھی نہیں

ہر انسان اور حکمر ان کا سچ اور جھوٹ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے اور اس میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ اور کمی ہوتی رہتی ہے لیکن پروردگارعالم کا سچ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتا دنیا کے ہر ملک میں انسان کے بنیادی حقوق کی خرید وفروخت ہوتی ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ کرپشن کا ناسور ہے کیونکہ ہر معاشرے میں اسی فیصد جھوٹ اور بیس فیصد سچ ملا ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی مجموعی طور پر کچھ ایسی ہی صورتحال ہے کہ ہر انسان کو 90 فیصد جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کرپشن کا پودا دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہاہے اور کسی بھی معاشرے میں جب تک کرپشن کا دور دورہ ہوگا تو وہ معاشرہ اور وہ ملک تباہی کے دھانے پر کھڑا ہوجائے گا دنیا کی کوئی بھی چیز اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اس چیز کا استعمال اچھا یا برا بناتا ہے اور معاشرے کو اس وقت کرپشن کے لفظ نے برا بنا دیا ہے۔ اور اگر انسان کے خیالات نیک ہونگے اور وہ اپنی چادر میں رہ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے گا تو کبھی بھی وہ کرپشن کا سہارانہیں لے گا۔ ایمانداری سے اپنی زندگی گزارے گا اور اللہ کے ڈر سے وہ کرپشن جیسی برائی سے دور رہے گا کیونکہ یہ فانی زندگی ہے اور جہاں پر لافانی زندگی گزارنی ہے اس کے لئے انسان نے کبھی کچھ نہیں کیا۔ کرپشن سے کمائی ہوئی دولت سے عمرہ،حج زکوۃ دینے سے برے اعمال اچھے اعمال میں نہیں ڈھلتے۔ بلکہ ایمانداری سچ اور کرپشن سے پاک روزی سے پرودگار عالم کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیازمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

حکومت پر بھاری سے میں داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ کرپشن اور رشوت خوری کے فوری خاتمہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے عوام رشوت کے ذریعے اپنا کام نکلوانے کی کوشش نہ کریں بلکہ اس کے خلاف ایک مکمل مہم چلائی جائے۔ لیکن ہمارے عوام کرپشن کے چیمپئنز کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگانے کی کوشش میں مصروف ہیں اس سے نہ ملک میں کرپشن اور رشوت کا خاتمہ ہوسکے گا بلکہ اس سے مزید تقویت ملے گی۔ ہمارا نعرہ ہے کہ” کرپشن مٹاؤ پاکستان بچاؤ”۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک قانون بنایا جائے کہ جو کرپشن کرے گا اس کو سزائے موت دی جائے گی اور اس میں کوئی تاخیر نہ ہوگی جیسے ہی وہ کرپشن یا ر شوت کے الزام میں پکڑا جائے گا اس کو فوری پھانسی پر لٹکا دیا جائے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور ملک و قوم سے غداری نہ کریں۔ ملک سے کرپشن اس وقت تک ختم نہیں کی جاسکتی جب تک کرپشن کے خلاف اقدامات کو حکومت کا تحفظ حاصل نہ ہو کیونکہ کرپشن کے ناسور نے عظیم پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں