150

اقبال اکیڈمی کے زیر اہتمام تاریخ میں پہلی بار نو روزہ علامہ اقبال عوامی میلہ اور بک فئیر کا انعقاد۔

افتتاحی تقریب میں شفقت محمود، اعجاز احمد چوہدری اور سید یاسر گیلانی نے شرکت کی۔
ظہیر احمد میر اور ڈاکٹر طاہر حمید تنولی کی کاوشوں کو خراج عقیدت

(نمائیندہ لاہور )

اقبال اکیڈمی کے زیر اہتمام پہلے نو روزہ علامہ اقبال عوامی میلے اور بک فئیر کا انعقاد مینار پاکستان کے سائے تلے ہوا۔ اقبال عوامی میلے کا افتتاح علامہ اقبال کے مزار پر حاضری اور دعا سے ہوا۔ افتتاحی تقریب میں اعجاز چوہدری (صدر پاکستان تحریک انصاف، پنجاب) اور سید یاسر گیلانی (چیئرمین پی ایچ اے) نے شرکت کی۔ چیرمین آرگنائیزنگ کمیٹی جناب ظہیر احمد میر اور سیکرٹری آرگنائیزنگ کمیٹی ڈاکٹر طاہر حمید تنولی بھی ان کے ہمراہ تھے۔


افتتاحی تقریب کے موقع پر اعجاز چوہدری (صدر پاکستان تحریک انصاف، پنجاب) نے کہا کہ پاکستان کا معرض وجود میں آنا فکر ِ اقبال کی ہی مرہون منت ہے۔ یہی وہ ہستی تھی جس نے برصغیر کے مسلمانوں میں جوش آزادی پیدا کیا۔در حقیقت پاکستان کا بانی اقبال ہی ہے۔اقبال فقط ایک شاعر ہی نہیں بلکہ اک عظیم مفکر تھے۔ اک ایسا مفکر جس کی فکر کا ماخذ قرآن حکیم ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کا یہ ویژن ہے کہ فکر اقبال کی بنیاد پر معاشرے کی تشکیل کی جائے بلکہ اسے ریاست مدینہ کی طرز کی ریاست بنایا جائے جس میں امن، انصاف اور خوشحالی کا دور دورہ ہو۔

سید یاسر گیلانی (چیئرمین پی ایچ اے) نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ فکرِ اقبال کی ترویج کے لئے پی ایچ اے نے اقبال اکیڈمی کے ساتھ بھر پور تعاون کیا ہے اور اپنا موثر کردار ادا کیا ہے اور مزید بھی کرتا رہے گا۔ اگر ہم فکر اقبال کو اپنی زندگیوں میں نافذ کر لیں تو ہم بطور فرد اور بطور قوم عروج تام حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے اقبال اکیڈمی کو یقین دلایا کہ وہ ان کی اس عظیم کاوش میں انکے ساتھ ہیں۔

وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود نے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم فکر اقبال کو اپنے تعلیمی نصاب کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ ہماری نسل اقبال کے آفاقی پیغام کو سمجھے اور اس پر عمل کرے کیونکہ بقول اقبال زندگی تو عمل سے بنتی ہے۔ ہماری فکر ہمارے عمل سے مجسم ہونی چاہئے، انہوں نے اقبال اکیڈمی کی اس موثر کاوش کو سراہا اور فرمایا کہ حکومت اقبال کی فکر کو عام کرے گی۔ اقبال فہمی کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں گے جس کے دور رس نتائج نکلیں گے

چیرمین آرگنائیزنگ کمیٹی جناب ظہیر احمد میر نے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا مقصد علامہ اقبال کی فکر کی آبیاری کرنا اور معاشرے میں اس کی اس انداز میں ترویج کرنا کہ ہر پیرو جوان اس سے بہرہ ور ہو اور اپنی زندگیوں کو اس کے سانچے میں ڈھالے اور اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کو حاصل کرے۔ انہوں نے اقبال کے تصور شاہین پر روشنی ڈالتے ہوئے شاہین کی خوابیدہ خصوصیات کو بیان کیا۔ شاہین کی زندگی کے مختلف ادوار پر روشنی ڈالی اور نوجوانان ملت کی توجہ انکی طرف دلاتے ہوئے انہیں اس کی تقلید پر ابھارا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فکر اقبال سے قوم کو روشناس کروانا ہمارا مشن ہے اور ہم اسے پورا کرکے رہیں گے سیکرٹری آرگنائیزنگ کمیٹی ڈاکٹر طاہر حمید تنولی نے علامہ اقبال عوامی میلہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ پہلا اور آخری میلہ نہیں بلکہ یہ ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کا نقطہ آغاز ہے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم اسکا جال شہر شہر اور قریہ قریہ پھیلا دیں۔ہم علامہ اقبال کی فکر کو عام فہم زبان میں ہر خاص و عام، مرد و زن، بچے بوڑھے اور جوان تک پہنچا دیں۔ بک فئیر میں ملک کے نامور پبلشرز نے اپنی شرکت سے عوام کو کتب بینی کی طرف راغب کرنے کے لئے ارزاں نرخوں پر کتب کے حصول کو ممکن بنایا ہے جو کہ اک احسن قدم ہے۔

عوامی میلہ میں پنجاب گروپ آف کالجز، اور دیگر کالجز کے طلبا و طالبات کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی اوراقبال اکیڈمی کی اس کاوش کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر مہمان اکرام نے تقریب کے اہتمام میں منفرد کردار کرنے والوں میں اعزازی شیلڈز تقسیم کیں اقبال عوامی میلہ و بک فیئر 9 نومبر سے 17 نومبر تک مینار پاکستان میں جاری رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں