78

اقبال اکادمی کے زیر انتظام علامہ اقبال عوامی میلہ و بک فئیر کا دوسرا دن۔

وفاقی پارلیمانی سیکرٹری محترمہ سعدیہ سہیل کی شرکت، اظہار خیال اور بک سٹالز کا دورہ
مختلف کالجز کے طلبا و طالبات نے ٹیبلو پیش کئے اور کلام اقبال ترنم کے ساتھ پڑھا۔

(نمائیندہ لاہور)

اقبال اکادمی کے زیر انتظام علامہ اقبال میلہ اور بک فئیر کے دوسرے دن مختلف سکولوں اور کالجز کے طلبا و طالبات نے شرکت کی اور علامہ اقبال کی فکر پہ مبنی ٹیبلوز پیش کئے۔ جسے حاضرین کی کثیر تعداد نے پسند کیا اور کالجز طلبا و طالبات کو داد دی۔ انہوں نے تصور خودی اور تصور شاہین کو اجاگر کیا تاکہ اسے نوجوانوں کے قلوب اذہان میں جاگزیں کیا جائے۔ اس کے علاوہ طلبا و طالبات نے ترنم کے ساتھ کلام اقبال پڑھا اور اک سماں باندھ دیا جس نے حاضرین کی روح کو سیراب کر دیا۔


اقبال میلے کے دوسرے دن کی مہمان خصوصی وفاقی پارلیمانی سیکرٹری سعدیہ سہیل تھیں جنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ فکر اقبال پاکستان کی آزادی کا موجب ہے۔ اسی فکر نے ہمیں آزادی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔آزادی کی قدر کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب ہم کشمیری مسلامانوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتے اور کسمپرسی کی زندگی گذارتے ہوئے دیکھتے ہیں۔انہوں نے مزید فرمایا کہ حکومت بھی فکر اقبال کی ترویج کے لئے کوشاں ہے اور چاہتی ہے کہ اسے عوام تک پہنچایا جائے تاکہ ہم اپنی بنیادی قدروں کو پہچانیں اور ان پر عمل کرکے اپنے حال اور مستقبل کو روشن کریں۔انہوں نے
اقبال اکیڈمی کی انتظامیہ کو اس عظیم کاوش پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بک سٹالز کا دورہ بھی کیا۔



آرگنائزنگ کمیٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر طاہر حمید تنولی نے تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اقبال میلہ کا مقصد عوام کو اقبال کی فکر کے قریب کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اقبال اکیڈمی کا مشن ہے کہ اقبال کی فکر کو معاشرے کی تشکیل کا بنیادی جز بنایا جائے تاکہ پاکستان کی تشکیل کا خواب صحیح معنوں میں شرمندہ تعبیر ہو سکے۔


تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے مہمانان گرمی عمر ظہیر میر نے کہا کہ اقبال کی فکر نوجوانوں کو شاہین بننے کا درس دیتی ہے جس کا مطلب جہد مسلسل ہے۔
تقریب کے اختتام میں ظہیر احمد میر نے شرکار کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں