123

اقبال اکادمی کے زیر انتظام علامہ اقبال عوامی میلہ و بک فئیر کا چوتھادن ۔

مجھے خوشی ہے کہ میں سیالکوٹ سے ہوں اور اسی ادارے سے پڑھا ہوں جہاں سے اقبال نے تعلیم حاصل کی۔نیول کمانڈر لاہور۔
محنت سے ہر چیز حاصل کی جا سکتی ہے۔ نوجوان فکر اقبال اور تعلیم پہ توجہ دیں۔ہم نے میرٹ پہ وائس چانسلر لگائے۔ گورنر پنجاب۔

(نمائیندہ لاہور)

اقبال ؒعوامی میلہ کے چوتھے روز ر کی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور حمد ثنا سے ہوا۔پاکستان نیوی لاہور اسٹیشن سے نعمت اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہ مجھے فخر ہے کہ میں سیالکوٹ سے ہوں اور یہ بھی فخر ہے کہ میں نے ایک سال اُس تعلیمی ادارے کا طالب علم رہا جہاں علامہ اقبال ؒ نے تعلیم حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ کو صرف نو نومبر کے دن کو ہی اقبال سے محبت کے اظہار کے طور پر نہیں منانا چاہئے بلکہ ہمیں ان کی تعلیمات اور مقصد کو اپنی طرز زندگی میں اتارنا ہے۔یورپ نے اقبالؒ کی تصانیف اور فکر پر عمل کرکے دنیا میں مقام بنایااور ہم علامہ اقبالؒ کو صرف تقریبات تک محدود کر کے بیٹھے۔


گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اپنے خطاب میں کہا اقبال کا شاہین گھونسلا نہیں بناتا وہ چوبیس گھنٹے پرُجوش رہتا ہے۔اسی لیے اقبال ؒ نے اپنے نوجوانوں کو شاہین کی طرز پر کام کرنے کا پیغام دیا ہے۔اقبالؒ کا شاہین بنتے تو آج ہم اپنی ایجادات کی بھرمار کر چکے ہوتے ہم بدقسمتی سے دنیا کو دینے کی بجائے لینے کے محتاج ہیں ہمیں اقبالؒ کے شاہین بن کر دنیا پہ حکومت کرنی تھی۔مگر ہم فکر اقبالؒ اور مقصد اقبال ؒ سے دُور ہو کر کامیابیوں پر گرفت کو وہ شکل نہیں دے پا رہے جو اصل میں ہونی چاہئے تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ محنت سے ہر چیز حاصل کی جا سکتی ہے۔ہم نے تعلیم کے میدان میں ترقی کرنی ہے۔ میں نے پنجاب کی تمام یونیورسٹیوں میں میرٹ پہ وائس چانسلرز کا تقرر کیا ہے۔


ڈاکڑ شفیق عجمی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقبال ؒ صرف پاکستان کے ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے راہنمائی کا سرچشمہ بن کر آئے۔اقبال ؒ نے دنیا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی مگر آج اقبالؒ کو دنیا کے درجنو ں تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے اقبال ؒ کی خودی خود کو بدلنے کے لیے تھی اور جس نے بھی خود کو بدلنا ہے وہ اقبالؒ کا ضرورت مند ہے۔
آرگنائزنگ کمیٹی کے سیکرٹری ڈاکڑ طاہر حمید تنولی نے اپنے خطاب میں شرکا اور مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ اقبالؒ میلہ کا مقصد اقبالؒ کی فکر و مقصد کا پیغام دینا ہے اقبالؒ نے ہی قائداعظم کو1936میں پاکستان کے قیام پر پختہ کیا تھاقائد اعظم ؒ نے بھی اقبالؒ کی اہمیت کو مانا اور اقبالؒ کی وفات پر قائد اعظم ؒ نے کہا کہ مجھے اقبالؒ اور ملک میں ایک چیز چننے کا کہا جائے تو میں اقبالؒ کو چنوں گا اور ان کی تصنیف کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دوں گا۔


چیئرمین اقبال عوامی میلہ جناب ظہیر احمد میر نے خطاب کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا کہ مین اپنی ٹیم کی جدوجہد کی وجہ سے کامیابیوں کو سمیٹ رہا ہوں ہمارے ساتھیوں نے دن رات اپنی محنت سے عوام کو اقبال میلہ کی خوبصورتی سے دوچار کروایا۔میں تمام شرکا اور مہمانوں کا شکرگزار ہوں کہ ہم اقبال ؒ کا جو پیغام دینا چاہتے تھے آپ نہ صرف اس کا حصہ بنے بلکہ اس مقصد کو آگے بھی پھیلا رہے ہیں۔اس کے بعد مہمانوں کو اعزازی شلیڈ دی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں