78

اقبال اکادمی پاکستان کے زیراہتمام 9 روزہ اقبال میلہ اور بک فیئر کی اختتامی تقریب ۔

اختتامی روز منعقد ہونے والی تقریب میں صاحبان علم و دانش اور سرکردہ سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

نمائیندہ لاہور ۔ تحریک ٹی وی

اقبال اکادمی پاکستان کے زیراہتمام انعقاد پذیر نو روزہ اقبال میلہ و بک فیئر کے اختتامی روز منعقد ہونے والی تقریب میں صاحبان علم و دانش اور سرکردہ سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ تعلیمی اداروں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبا بھی تقریب میں شریک تھے۔ تقریب سے پروفیسر ڈاکٹر مظفر عباس سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن برگیڈیر ڈاکٹر وحیدالزماں طارق ممتاز بینکار منیر احمد علامہ اقبال میلہ کمیٹی کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ظہیر احمد میر میلادکمیٹی آرگنائزنگ کمیٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر طاہر حمید تنولی, عمر ظہیر میر, خواجہ خالد آفتاب سفیران اقبال کے سرپرست محمد طاہر انجم اور سفیران اقبال کے صدر انجینئر اعجاز جاوید نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں علامہ اقبال کی فکر کی ناگزیریت اور نوجوان نسل کی تربیت کے لئے فروغ فکر اقبال کی ضرورت پر زور دیا۔

اقبال اکادمی پاکستان کے زیراہتمام ہونے والے 9 روزہ اقبال میلہ اور بک فیئر کے نویں روز کی اختتامی تقریبات کی آخری نشست انٹرفیتھ فیملی فیسٹیول کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ اس نشست میں اقلیتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی یہ نشست سینیٹر ولید اقبال کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ مہمانان گرامی میں سنیلہ روت ایم این اے چیئرپرسن صدر اقلیتی ونگ پاکستان تحریک انصاف, ہارون گل ایم پی اے مہندر پال سنگھ پارلیمانی سیکرٹری پنجاب جاوید ولیم سیکرٹری کیتھولک کمیشن امرناتھ پادری امجد نیامت نے شرکت کی ۔

اس نشست کے انعقاد میں اقبال اکادمی پاکستان کے ساتھ مجلس رومی اقبال نے بھی تعاون کیا مجلس رومی اقبال کے عہدے داران ڈاکٹر جاوید یونس اپل اور میجر اعجاز زیدی بھی تقریب میں شریک تھے۔

سینیٹر ولید اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم ہندوستان کے بعد اگر پاکستان اور بھارت کے حالات کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کے انسانی حقوق کا احترام اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا جو ماحول پاکستان میں موجود ہے اس کی کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی جبکہ بھارت میں اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا چکا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ اب بھارت میں اعلی عدالتیں بھی قانون اور دلیل کے بجائے مذہبی توہمات کی بنیاد پر فیصلے کر رہی ہیں جس سے بھارت جیسے سیکولر ہونے کے دعویدار ملک میں اقلیتوں کا مستقبل ہر آنے والے دن مخدوش ہوتا جا رہا ہے ۔بابری مسجد کا سانحہ اور اس پر ہونے والے عدالتی فیصلہ اور کشمیر کے حالات بھارت کی ناگفتہ صورتحال کی عکاس ہے اور اس سے ہمارے ملک آزادی اور بانیان پاکستان کی بصیرت کی عظمت سامنے آتی ہے کہ آج پاکستان کی صورت میں ہمیں کتنی بڑی نعمت میسر ہے شنیلا روت نے اپنے خطاب میں کہا پاکستان اقلیتی برادری کے لیے امن واشتی اور تحفظ اور سلامتی کا گہوارہ ہے۔

مسیحی رہنما ہارون گل نے کہا کہ پاکستان کے قیام میں مسیحی برادری نے بھر پور ساتھ دیا اور آج بھی پاکستان کے تحفظ دفاع اور استحکام میں مسیحی برادری کی قربانیاں اور ہر طرح کی خدمات شامل ہیں اقبال میلہ کمیٹی کی سیکرٹری ڈاکٹر طاہر حمید تنولی نے اپنے خطاب نے کہا کہ اقبال اکادمی پاکستان کی زیر اہتمام منعقد ہونے والے اس اقبال میلے کا اختتام انٹرفیتھ پر کرنے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ اقبال کا پیغام محبت برداشت اور رواداری کا پیغام ہے اور آج ہمیں اپنے معاشرے کو تفرقے یا انتشار کے بجائے وحدت کا نمونہ بنانا ہوگا جس کا واحد راستہ علامہ اقبال کا دیا ہوا تصور محبت اور عشق ہے۔ جس کی روح احترام انسانیت اور بلا تفریق مذہب رنگ نسل آدمیت کی خدمت ہے میلے کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے عمر ظہیر میر نے کہا کہ آج ہمیں علامہ اقبال کے پیغام کو ایک مخصوص علاقے تک محدود رکھنے کے بجائے عوام الناس تک پہنچانا ہوگا جس کے لیے یہ میلہ منعقد کیا گیا علامہ اقبال عوامی میلہ کمیٹی کی آگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ظہیر احمد میر نے اقبال اکادمی پاکستان کے اہداف ومقاصد بیان کرتے ہوئے اقبال میلہ کے انعقاد کی ناگزیریت اور اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس سلسلے کو مزید وسیع کیا جائے گا اور پاکستان کے ہر شہر تک پہنچایا جائے گا تاکہ فکر اقبال کی فروغ کی جو کوتاہی ہم سے گزشتہ ستر سال کے دوران ہوتی رہی اس کا ازالہ کیا جاسکے انہوں نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ تقریب سے امر ناتھ , امجد نیامت اور ڈاکٹر جاوید یونس اوپل نے بھی خطاب کیا تقریب کے اختتام پر حاضرین میں اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں