336

اگر سچ تک پہنچنا ہے

تحریر۔ منیر احمد بلوچ

 اگر کسی کو بتایاجائے کہ امریکہ کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے دشمنی کی اصل وجہ کیا تھی؟۔ وہ عمران خان سے کیوں اور کس بات پر ناراض ہوا تو ہر کسی کے کان کھڑے ہو جائیں گے لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ ہماری اپوزیشن کی تمام جماعتیں خوشی سے پھولے نہیں سما رہیں کہ امریکہ اب عمران خان  کوسزا دے کر رہے گا کیونکہ ان لوگوں نے اسے ناراض کر دیا ہے

وطن کی محبت میں وہ زخم سہے جو واجب بھی نہ تھے، نہ جانے یہ فقرہ صحیح ہے یا غلط لیکن وقت آئے گا جب وطن کی محبت میں زخم کھانے والے  صدر پاکستان عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور جنرل باجوہ تین افراد کے نام ملکی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھے جائیں گے لیکن ان کے نام تب سامنے آئیں گے جب ان کے خلاف کھیلا گیا تمام ڈرامہ پورے سچ کی صورت میں سامنے آئے گا؟۔سچ بے شک کڑوا ہوتا ہے لیکن سچ میرے رب کی خاصیت ہے سچ محبوب خدا محمد مصطفےٰ ﷺ کی پہچان ہے۔کبھی وہ اصل بھید بھی کھل جائے گا کہ ا سلام آباد کے دھرنے کیلئے اکتوبر کے آخری دن کیوں منتخب کئے گئے کیا وہ جانتے تھے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہر قسم کے دباؤ اور دھمکیوں کو روندتے ہوئے نومبر کے دوسرے ہفتے میں ملکی تاریخ کے ایک انتہائی اہم ترین فیصلے پر عمل کرنے والے ہیں؟۔ کیا یہ کچھ حیران کن نہیں لگا کہ دھرنے کیلئے پشاور کی بجائے کراچی سے اسلام آباد تک کا طویل سفر اختیار کیا گیا؟۔ انصار اسلام پر حکومت کی لگائی گئی پابندی کو کالعدم قرار دے دیا گیا جبکہ یہ پابندی تیس اکتوبر2008 کو نیکٹا کے تحت لگائی جا چکی تھی؟۔ دھرنے میں شامل پی ٹی ایم کی ریلیوں کے ایک گروہ نے جنرل باجوہ کے خلاف گھٹیا نعرے کیوں لگائے گئے؟۔ تحریک انصاف کے خلاف یک دم تمام اپوزیشن جماعتیں ایک ساتھ کیوں اکٹھی ہو ئیں؟۔ عمران خان حکومت ختم کرنے کی دھمکیاں کیوں دی جانے لگیں۔ تحریک انصاف کے خلاف یک دم روزانہ کی بنیاد پر ”فارن فنڈنگ“ کی گرج چمک کیوں شروع ہوئی۔                                                                                      

ملک سے غداری کے جرم میں گرفتار فوج کے دو سینئر افسران کو ملٹری کورٹ سے سزائیں ملتے ہی امریکہ اپنے ان جاسوسوں کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنا کیوں شروع ہو گیا؟۔ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن کیلئے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کردار پر اسے ملنے والی سزا کے خلاف ان دو سینئر فوجی افسران کی مدد کیلئے امریکہ کیوں سیخ پارہا؟۔

 میرے ذاتی علم میں ہے اور اپنے ایک گزشتہ مضمون میں اس کا ذکر بھی کر چکا ہوں کہ جس رات میاں نواز شریف کو سخت بیمار ظاہر کرتے ہوئے  نیب سیل سے سروسز ہسپتال لاہور لایا گیا اس رات دس بجے تک نیب پنجاب کے آرام دہ سیل میں وہ مکمل ہشاش بشاش تھے۔سروسز ہسپتال منتقل ہونے سے صرف چوبیس گھنٹے پہلے لاہور کی احتساب عدالت میں چوہدری شوگر ملز میں گرفتاری کے بعد جب انہیں ریمانڈ کیلئے نیب کورٹ لایا گیا تو عدالت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ان کی میڈیا سے کی جانے والی گفتگو اور باڈی لینگویج یو ٹیوب پر دیکھیں تو ان کی بیماری اور روانگی کھل کر اپنا راز بتا دے گی؟۔ ان کی لندن روانگی سے لے کر دھرنے کے تمام کردار ایک ایک کر کے کھلتے جائیں گے اس کیلئے بس تھوڑا سا انتظار کرنا ہو گا کیونکہ
عین الحق لا فانی ہے۔

 وقت جلد ہی بتائے گا کہ امریکی انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ ایلس ویلز تین روز تک کہاں بیٹھ کر جنرل باجوہ کو اپنی دی جانے والی پیش کش کا انتظار کرتی رہی؟۔ جب ایلس ویلز کی تمام پیشکشیں اس کی تمام دھمکیاں اس کے تمام لالچ پاؤں کی ٹھو کر پر رکھتے ہوئے پاکستان کے صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف نے اپنے وطن کی سلامتی اپنی مسلح افواج اور اس کے ہر اثاثے کے تحفظ کیلئے سینہ تان کر میدان میں کھڑے ہو گئے تو پھر انہیں اس گستاخی کی سخت سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔کبھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی یا شائد سب بھول چکے تھے کہ پاک فوج کے اہم ترین عہدوں پر فائز لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اور بریگیڈئر راجہ رضوان کو آئی ایس آئی کی شبانہ روز محنت کے بعد ایک بڑے ملک کیلئے جاسوسی کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا ان دونوں کی گرفتاری کی خبریں جب پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پر ایک دھماکے کی صورت میں ابھرنے لگیں جب اخبارات کے صفحات ان کی ملک دشمنی کے چر چوں کے ساتھ رنگین ہوئے تو سمجھ آیا کہ یہ دونوں نمک حرام افسران اپنی ماں کی عزت کروڑوں ڈالرز کے عوض کسی کے ہاتھ بیچ رہے تھے۔

 اگر کسی کو بتایاجائے کہ امریکہ کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے دشمنی کی اصل وجہ کیا تھی؟۔ وہ عمران خان سے کیوں اور کس بات پر ناراض ہوا تو ہر کسی کے کان کھڑے ہو جائیں گے لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ ہماری اپوزیشن کی تمام جماعتیں خوشی سے پھولے نہیں سما رہیں کہ امریکہ اب عمران خان  کوسزا دے کر رہے گا کیونکہ ان لوگوں نے اسے ناراض کر دیا ہے ارے بزدلو اس پاک فوج نے اس کی اعلیٰ قیادت نے تو امریکہ کے لاکھ دباؤ کے با وجود ابھی تک ڈاکٹرشکیل آفریدی کو حوالے نہیں کیا تو یہ دو غداران وطن جو پاک فوج اور ملکی دفاع کو دیمک کی طرح چاٹ رہے تھے انہیں کیسے چھوڑا جاتا۔ امریکی اشاروں پر بہت سے لوگ ایک ہی تان میں یہ راگ الاپے جا رہے تھے کہ اب دیکھنا ہماری باتیں نوٹ کر لو تین ماہ بعد عمران خان کی حکومت ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد نئے انتخابات ہو کر رہیں گے؟۔ مولانا کا دھرنا سب کچھ بہا لے جائے گا؟۔

 ہر جگہ ایک ہی سوال پوچھا جارہا تھا کہ شہباز شریف گیم چینجر بننے جا رہا ہے؟۔ یہ افواہیں پھیلا ئی جانے لگیں کہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ اگلا وزیر اعظم شہباز شریف ہو گا؟لیکن الٹی ہو گئیں سب تد بیریں کچھ نہ امریکہ نے کام کیا اور ننگ دین ننگ وطن راجہ رضوان کو ملکی سلامتی داؤ پر لگانے، غیر ملک کیلئے جاسوسی کرنے کے جرم عظیم کی پاداش میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا لیکن اگر ساتھ یہ بھی اضافہ کر دیا جائے کہ ایلس ویلز راجہ رضوان کی پھانسی کی سزا پر عمل در آمد سے تین دن پہلے تک صدر عارف علوی، عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت تینوں شخصیات کے اعصاب پر سوار رہی تو یہ بھی کچھ عجیب سا لگے گا اور جب ان کا ایجنٹ راجہ رضوان تختہ دار پر چڑھا دیا گیا تو پھر وہ سی پیک کے خلاف دل کی بھڑاس نکالنے لگی اور اب ترقی پسندی اور لبرل ازم کی آڑ میں طلبا ء یونین کی بحالی کے نام سے نکالے گئے مارچ میں پاک فوج کو گالیاں نکلوائی جا رہی ہیں اور یہ نعرے سب سن رہے ہیں جو مادر پدر آزاد یہ لڑکے لڑکیوں سے لگوا رہے ہیں۔ سفید ہاتھی افواج پاکستان سے اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے کیلئے سانپ کی طرح کینچلیاں بدل بدل کر حملہ آور ہو رہا ہے۔ چند روز پہلے اسلام آباد کی فضاؤں میں ہمارے جنگی طیاروں کی گھن گرج سب کو سنائی دی ہو گی جو اعلیٰ سطح کی آپریشنل مشق ہاک آئی کا انعقاد تھا جس میں تینوں ریجنل کمانڈز کے تمام آپریشنل ائر بیسز نے حصہ لیتے ہوئے فضائیہ کے تمام اقسام کے جنگی طیاروں، فورس ملٹی پلائیرز اور خصوصی دستوں نے مختصر وقت میں جارحانہ حکمت عملی کی بڑے وسیع پیمانے پر مشقوں کے ذریعے واضح پیغامات دیتے ہوئے اپنی خدا داد صلا حیتوں کا مظاہرہ دنیا بھر کو دکھا دیا۔

لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اور بریگیڈئر راجہ رضوان کو دوسرے ملک کیلئے جاسوسی کرنے کے جرم میں گرفتار کرنے کے بعد ان پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلایا گیا جہاں انہیں صفائی کے تمام مواقع دیئے گئے ان کے سامنے ان کی ایک ایک حرکت کی تفصیلات رکھی گئیں اور پھر ملٹری کورٹ نے لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو عمر قید اور بریگیڈئر راجہ رضوان کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ امریکی اپنے ایجنٹ کو پھانسی دینے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیتے رہے لیکن پاک وطن کے جانباز ان دونوں غداروں کو کیف کردار تک پہنچانے کے فیصلے پر ثابت قدم رہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اب کچھ لوگ وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپوزیشن کے متعلق اپنے لہجے کو نرم رکھیں ہر وقت اپوزیشن کے ساتھ جارحانہ رویہ  منا سب نہیں ایک لمحے کیلئے سوچئے کہ”لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اور بریگیڈئر راجہ رضوان کو ملک دشمنی کی سزا ملنے کے خلاف امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اپوزیشن نے جو رویہ اور کردار ادا کیا اس کے بعد آپ عمران خان یا کسی پاکستانی سے کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح کی اپوزیشن کو جا کر ادب سے سلام کرو؟۔۔

منیر احمد بلوچ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں