124

عدلیہ نہیں عدالتی تعصب کا مجرم ہوں۔

تحریر۔ منیر احمد بلوچ

میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی معزز عمارت اور اس کے نام کا بے حد احترام کرتا ہوں لیکن اس میں بیٹھے ہوئے کچھ لوگوں کا احترام کیوں کروں ان کے عدالتی تعصب کو بر ابھلا کیوں نہ کہوں جب اشتہاری قرار دیئے گئے جنرل پرویز مشرف کے خلاف اس کی غیر مو جو دگی میں ان کا ٹرائل کیا جاتا ہے جب کہ جاتی امرا سے تعلق رکھنے والے اسحاق ڈار، حسن نواز، حسین نواز،علی عمران اور سلمان شہباز کے خلاف تمام فائلیں تمام کاروائیاں سمیٹ کر ایک جانب رکھ دی جاتی ہیں

ذبیحہ ماڈل ٹاؤن کو گذرے پانچ برس ہونے کو ہیں اس پر مقتولین اور ان کے ورثاء کی جانب سے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی آٹھ پٹیشنز ابھی تک زیر التوا رکھی ہوئی ہیں جن کیلئے نہ تو کوئی تاریخ مل رہی ہے اور نہ ہی کسی کو نوٹس جاری کیا جا رہا ہے کسی بڑے خاندان کی بیٹی کیلئے بند عدالتیں کھول کر اسے اس کی مرضی کا انصاف دیا جا رہا ہے تو تنزیلہ شہید کی بیٹی اور شازیہ شہید کی بھتیجی جب عدالت کے بڑے جج کے دروازے پر انصاف مانگنے کیلئے بیٹھتی ہے تو پانچ گھنٹے تک سر ٹکرانے کے با وجود اس کیلئے انصاف اپنی جگہ سے ایک انچ بڑھنے سے بھی انکار کر دیتا ہے۔

کسی سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا مجرم نہیں بلکہ عدالتی تعصب کا مجرم اس لئے ہوں کہ نواز شریف کیخلاف ایک مقدمے میں فیصلہ دینے والا جج جسٹس بشیر تسلیم کردہ مجرم کی خواہش کے مطا بق اس کے خلاف دوسرا مقدمہ اس لئے سننے سے معذرت کر لیتا ہے کہ اس کے خلاف پہلے ہی فیصلہ دے چکا ہوں کیا یہ عجب نہیں کہ اس طرح ہر جج کے پاس کسی عادی مجرم کی ایک ہی اپیل یا مقدمہ سامنے آئے کہ کیونکہ وہ پہلے کسی مقدمے میں اس کے خلاف فیصلہ سنا چکا ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر جنرل مشرف کے خلاف افتخار چوہدری کا روح رواں اور جنرل مشرف سمیت افواج پاکستان کو دن رات گالیاں بکنے والا اطہر من اللہ بحیثیت جج اس کے خلاف کوئی بھی کیس کیوں سن رہا ہے؟۔

میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی معزز عمارت اور اس کے نام کا بے حد احترام کرتا ہوں لیکن اس میں بیٹھے ہوئے کچھ لوگوں کا احترام کیوں کروں ان کے عدالتی تعصب کو بر ابھلا کیوں نہ کہوں جب اشتہاری قرار دیئے گئے جنرل پرویز مشرف کے خلاف اس کی غیر مو جو دگی میں ان کا ٹرائل کیا جاتا ہے جب کہ جاتی امرا سے تعلق رکھنے والے اسحاق ڈار، حسن نواز، حسین نواز،علی عمران اور سلمان شہباز کے خلاف تمام فائلیں تمام کاروائیاں سمیٹ کر ایک جانب رکھ دی جاتی ہیں؟۔کیا اسے انصاف کہنا کسی طور بھی زیب دیتا ہے؟۔کیا یہ جنرل مشرف سے انتقام نہیں؟۔کیا یہ انصاف اور انصاف فراہم کرنے والے معزز اداروں کے منہ پر طمانچہ نہیں؟۔کیا یہ سپریم کورٹ کی سفید عمارت پر کیچڑ اور گندگی کے چھینٹے نہیں؟۔اس قدر گھناؤنا تعصب رکھنے والے کسی جج کیلئے احترام کیسے پیدا کروں؟۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب سرادر آصف سعید کھوسہ آپ نے جسے ہی حلف لیا تو عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے والوں کے خلاف آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا اب تک بہت سے معمولی لوگ جن میں پولیس کا ایک اے ایس آئی بھی شامل ہے جھوٹی گواہی کے جرم میں دس سال کیلئے پابند سلاسل کیا جا چکا ہے لیکن اس یک طرفہ نظام انصاف کے خلاف میں کیوں نہ لکھوں کہ ایک بہت بڑے باپ کی بیٹی سپریم کورٹ جیسی عدالت میں بوگس اور جعلی کاغذات پیش کر دیتی ہے جس کی سزا سات سال قید با مشقت ہے لیکن اس کو اس لئے معاف کر دیا جاتا ہے کہ اسے اس ملک کے ایک بہت بڑے خاندان کی بیٹی ہونے کا شرف ہے۔حضور خود ہی فیصلہ کیجئے کہ جھوٹی گواہیاں دینے والے آپ نے اب تک نہ جانے کتنے لوگوں کو سزائیں سنا دی ہے لیکن آپ کے سامنے جھوٹی اور جعلی دستاویزات پیش کرتے ہوئے عدلیہ کو گمراہ کرنے کا جرم کرنے والی کسی بہت بڑے خاندان کی بیٹی اس لئے معاف کر دی جاتی ہے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں؟۔جب قانون سب کیلئے برابر ہے توشریف خاندان سے منسلک کسی بھی خاتون کا یہ کہتے ہوئے انصاف کے ترازو کو نیچے جھکا دینا کہ ”کوئی بات نہیں بچی ہی تو ہے اور بچیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں“ کیا دین اسلام میں، قران پاک کی کسی آیات مبا رکہ میں کسی بھی فرمان رسول اللہ ﷺ میں درج ہے کہ صرف رئیسوں، بادشاہوں، ججوں کی بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں صرف ان کی ہی عزت کیا کرو باقی ہر کسی کی بیٹی کو جیلوں کی دیواروں کے اندر کچل دو؟۔میں سپریم کورٹ یا کسی بھی ہائیکورٹ کی شان، وقار اور تقدس کا سب سے بڑا حامی ہوں لیکن اس انصاف کا کسی طور بھی حامی نہیں ہو سکتا جو امیر اور غریب میں فرق کرے؟۔ جو میری مقدس کتاب قران حکیم اور میرے خد اکے محبوب حضرت محمد ﷺ کے احکامات کی خلاف ورزیاں کرے۔حضور خود ہی سوچئے کہ یہ کس طرح کا انصاف ہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں معمولی جرائم میں ملوث خواتین اپنے دودھ پیتے بچوں کے ساتھ مقید کر رکھی ہیں اور شریف خاندان کی کسی ایک بیٹی کو تمام قوانین اور آئین سے مبرا قرار دے رکھا ہے؟۔

میرے جیسے کسی بھی شخص کی زبان سے عدلیہ کے متعلق ہلکی سی بھی آواز نکلے تو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے دیا جاتا ہے جیسے کل ہی غلام سرور خان اور فردوس عاشق اعوان نے صرف یہی کہا تھا کہ آج تو عدالت کی چھٹی تھی اگر یہ مقدمہ ایک دن بعد سن لیا جائے تو کیا حرج ہے؟۔یہ سنتے ہی توہین عدالت کا نوٹس دیتے ہوئے انہیں عدالتوں میں گھسیٹنے کا حکم لیکن اس ملک کا ہر ٹی وی چینل ہر اخباراور ہر میڈیا کانفرنس اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف خاندان اشرافیہ اور ان کے پیادوں نے ایک دو دن نہیں چند ہفتوں نہیں بلکہ کئی کئی ماہ تک وہ اودھم مچائے رکھا کہ الامان الحفیظ….مگر مجال ہے کہ کسی عدالت نے آنکھ اٹھا کر بھی انہیں دیکھا ہو؟۔سانجھی بیٹی نے اپنے ہر جلسے میں عدلیہ کو وہ بے نقط سنائیں کہ ایک زمانہ کانپ اٹھا لیکن قانون کو تھپکیاں دیتے ہوئے سلا دیا گیا کہ کوئی بات نہیں یہ ہماری سانجھی بیٹی ہے۔

پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کے محکمہ جیل خانہ جات کے ریکارڈ گواہ ہیں کہ کسی بھی جرم میں قید یا مقدمے کے فیصلے کے انتظار میں بند حوالاتی اپنے ماں باپ بہن بھائیوں بلکہ اپنی سگی اولادوں کے انتقال پر ان کے جنازوں میں شرکت نہ کر سکے کیونکہ انہیں اس کیلئے اجا زت ہی نہیں دی گئی تھی…..لیکن شریف خاندان سے تعلق رکھنے والی نیب کی حوالات میں زیر تفتیش ملزمہ اور ایک مقدمے میں با قاعدہ سزا یافتہ مجرمہ کو اپنے مجرم باپ کی تیمارداری کیلئے یہ کہہ کر ضمانت دے دی جاتی ہے کہ اس کے علا وہ کوئی نہیں جو اس کی دیکھ بھال کر سکے؟۔حضور والا اس قدر جھوٹ کیوں؟ اس ملزم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی باہر تھی اس کی بہو موجو د تھی کیا ایک وہی بیٹی تیمارداری کر سکتی ہے تو جو اس کی سیا ست کا جا نشین بنا دی گئی ہے اس سے یہ ظاہر نہیں ہو جاتا کہ عدلیہ اس وقت عمران خان کی حکومت کے خلاف ایک فریق بن چکی ہے وہ جان بوجھ کر اپنی سانجھی بیٹی کو اس لئے جیل سے نکال کر ضمانت دیتے ہیں کہ اس کے علا وہ کوئی ”سیا سی تیمارداری“ کے گن ہی نہیں جانتا؟۔ضمانت تو اس لئے دی گئی تھی کہ اپنے بیمار باپ کی تیما رداری کر سکے اور جب وہ ملزم باپ ضمانت پر لندن پہنچ چکا ہے تو اس ضمانت کی طوالت کس قانون کے تحت”سوائے اس کے وہ سانجھی ہے“

ماتحت عدالت نے کس قانون کے تحت ایک ایسے مجرم کا حلفیہ بیان تسلیم کیا جس کے متعلق ملک کی سب سے سپریم عدالت اپنے فیصلے میں تحریر کر چکی ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں؟۔ملکی قانون بھی ہے اور روایت بھی کسی عدالت میں اگر کسی شخص کو عادی جھوٹا قرار دے دیا جائے تو کسی بھی جگہ پر اس کی گواہی کو تسلیم نہیں کیا جاتا لیکن یہاں چپکے سے بیان حلفی تسلیم کر لیا جاتا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں