49

ہندواستھان کے مسلمان۔ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

تحریر۔ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

   محمد بن قاسم کی سندھ میں ہندو جاتی اورداہرکی سندھ میں بودھوں کےخلاف ظالمانہ سلطنت کو 712 میں ہی ایک لاکھ بیس ہزارہندوبزدل فوجیوں کوصرف12ہزارمسلم سپاہ۔ کے ہاتھوں بربادی کاسامناہوا.تواسلام کےمنصفانہ نظام نے ہندومتشدد ذہنیت کاپردہ چاک۔ کرکےرکھ دیا۔جس پرسندھ کی مسلمان حکومت کےخلاف ہندوسازشیوں نےسازشوں کے جال بچھانا شروع کردیئے تھے۔ ان کی سازشوں اورہندوذہنیت کومحمودغزنوی نے1001 سےتاراج کرنا شروع کیا ۔مگرسومنات کی تباہی اور17 کامیاب حملوں کے باوجوداس نے ان پتھرکےبجاریوں کے ہندواستھان(ہندووں کےملک)پرقبضہ نہیں کیاتھا۔مگر۔شہاب الد ین محمدغوری نے جب پرتھوی راج کاتکبرتوڑا توہندوستان پراسلام کا پھریرابھی لہرا دیا۔ ہندومفتوحین کولمیشہ اپنی پناہ میں رکھا گیا۔یہ وہ جاتی تھی کہ جواپنے ہم مذ ہبوں پربھی تشدد سےبازنہ رہتی تھی اورشُد رکے گیتایاپران سُننے پران کےکانوں میں سیسہ پگھلا کرڈال دیا کرتی تھی۔ان کی مذہبی وحشت کا یہ عالم تھا کہ شوہر کےمرنےپرعورت کو زندہ جلادیاجاتا تھا۔اگروہ جل کرنہ مرتی تواسےزندگی بھرانَ جلی چتا میں جلناپڑتا تھا۔

      مسلمانوں نےان ہندووں وحشت سے نکال کرتہذیب،شائستگی اورتمدن یافتہ دورمیں داخل کردیا تھا۔ انہیں سلا کپڑاپہننا سکھایااوران کی اخلاقی تربیت کی۔ مسلمان حکمرانوں اورمسلمان عوام نےانہیں کبھی مذہبی منافرت کانشانہ نہ بنایا تھا۔بلکہ مسلمانوں حکمرانوں کاساڑھےآٹھ سوسالہ دورِاقتدارمیں ہندومسلم ہم آہنگی کا بہترین دوربر قرار رکھا تھا۔اب چاہےاسےہندووں کی بزدلی کہہ لیں یامسلمانوں کی روا داری۔

      آج کاہندوووں کاملک(ہندواستھان)ظلم وبربریت کاعملی نمونہ ہے۔گویا موجودہ حکمران ٹولے نےایک متنازعہ بل پاس کرکے پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف تعصبات کی ایک نہ ختم ہونے والی آگ پرتیل چھڑک دیا ہے۔ایک جانب مسلمانوں کے خون کی ہولی بی جے پی نے گذ شتہ پانچ سال پہلے ہی شروع کردی تھی۔تودوسری جانب حال ہی میں پاس کیاجانے والامتنازعہ واینٹی مسلم بل ہے۔بقول کانگرسی رہمنا ششی تھرورکےقائداعظم محمدعلی جناح کےدوقومی نظریہ کوبی جے پی نےزندہ کردیا ہے۔بلکہ ہم توکہتے ہیں کہ ہندوستان کےمسلمانوں کوکبھی بھی دوقومی نظریئے سے پیچھے نہیں ہٹناچاہئے۔ اس متنازعہ بل کی وجہ سے پورے ہندوستان میں ہنگامےاُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔انسانی حقوق کےعالمی دن پرہندوستان کی 6 سے زیادہ ریاستوں جن میں آسام،اروناچل پرد یش ناگا لینڈ،تری پورہ، میگھالیہ۔مغربی بنگال کےعلاوہ(کشمیرجس میں گذشتہ 4 ماہ سےزیادہ عرصہ سےبربریت اورلاک ڈاوئن کا سلسلہ جاری ہے) میں خطرناک مسلم کُش ہنگامے اوربلوےجاری ہیں۔لوگ سڑکوں پرنکل آئے شاہراہیں بلاک کردی گئی ہیں۔لوک سبھا میں بل کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں۔ہندوستان میں کئی ریلوےاسٹیشن نظرآتش کردیئے گئے اورفائرنگ کےنتیجےمیں بہت سےافرادہلاک وزخمی ہوگئے ہیں۔

      یہ متنازعہ بل پیش کرنے والےامت شاپرامریکی کمیشن کی جانب سےپا بندی کا مطالبہ کیاجارہا ہے۔ایک امریکی رکن کانگرس کا کہنا ہےکہ ہندواسٹیٹ میں مسلمان سے دوسرے درجے کے شہریوں کا سلوک کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ نےبھی اپنا دورہ ہندوستان ملتوی کردیا ہے۔ کانگرسی لیڈروں کا کہنا ہے کہ مودی نے آئین پر حملہ کر کے ہندوستانی آئین کوہٹلری قوانین بناکرہندوستان کوتقسیم کردیا ہے۔ متنازعہ بل سپُریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہنددوستان ایک نسل پرست ملک ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ نے نازی نسل پرست نظریہ تازہ کر دیا ہے۔        

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں