67

.اور وہی فیصلہ سنا گیا

تحریر۔ منیر احمد بلوچ

اور وہی فیصلہ سنا دیا گیا جس کی جانب ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے آصف سعید کھوسہ نے چند دن پہلے جنرل مشرف کی تضحیک کرنے کے انداز میں اپنے دونوں بازو اوپر اٹھاتے ہوئے اشارہ دیا تھا۔ فیصلہ جو عرصہ پہلے لکھا جا چکا تھا اس کو کل سنا دیا گیا ’’تفصیلی فیصلہ دیکھئے کب آتا ہے لیکن چند پیرے یہ کہتے ہیں کہ جنرل مشرف نے دو مرتبہ آئین توڑا“ یہ الزام درست ہے لیکن پہلی مرتبہ جب انہوں نے نواز حکومت کو بر طرف کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا تو ان کے اس عمل کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے جائز قرار دیتے ہوئے فیصلے میں لکھا”ملک کو لوٹ مار کا قلعہ بنا دیا گیا تھا اس لئے جنرل مشرف کا فیصلہ درست ہے اس لئے ہم انہیں تین سال تک موقع دیتے ہیں پھر وہ انتخابات کرائیں گے“۔ آگے چلئے اسی سپریم کورٹ نے انہیں 31 دسمبر2007 تک وردی میں رہنے کی اجا زت دے دی یعنی جب آپ کسی سول حکومت کے حکمران کوبحیثیت آرمی چیف قانونی جواز دے دیتے ہیں تواس کا اٹھایا ہوا فوجی قانون کے تحت کوئی ا قدام غداری کے زمرے میں کیسے آ سکتا ہے؟۔

اسلام کی رو سے کسی بھی مقدمہ میں ثبوت فراہم کرنے کے دو ہی طریقے ہوتے ہیں ”شہادت“ اور ”قسامت“ اور شہادت کے سلسلہ میں گواہ کا عادل ہونا اولین شرط ہے خائن اور،خائنہ کی شہا دت جائز نہیں اور نہ ہی دشمن کی شہا دت قابل قبول ہوسکتی ہے“۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بارہ اکتوبر1999 کو اپنی دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کا تختہ الٹنے پر نہ جانے پسپائی اختیار کی کیونکہ وہ کہتے رہے کہ وہ غاصب کا محاصبہ کرتے ہوئے بارہ اکتوبر کے غیر قانونی اقدام کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کاروائی کرتے ہوئے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ لیکن نہ جانے کس کس کو بچانے کیلئے یا عزت سادات کی حفاظت کیلئے اب صرف تین نومبر2007 کی ایمر جنسی نافذ کرنے پر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج کرا دیا اگر غداری کا یہ مقدمہ درج ہوجاتا ہے تو کیا ”سابق صدر رفیق تارڑ کو بھی اس مقدمے میں سزا دی جائے گی کیونکہ بارہ اکتوبر1999 سے21 جون2001 تک تقریباََ بیس ماہ وہ جنرل مشرف کے ہر غیر قانونی عمل میں برابر کے معاون ومددگار بنے رہے“ 1973 کے آئین کی اس کلاز کو جس کے تحت غداری کے الزمات کا مقدمہ قائم کیا گیا جس کی تفصیلات کوسامنے رکھیں تواس کے مطابق اگر کوئی بھی شخص طاقت کے استعمال سے یا کسی بھی طریقے سے آئین کو پامال کرتا ہے،معطل کرتا ہے اس کی تنسیخ کرتا ہے تو وہ بغاوت کا مرتکب سمجھا جائے گا اور اگر کوئی بھی شخص آئین کی پامالی، تنسیخ یا اسے معطل کرنے کے عمل میں کسی بھی طریقے سے مدد گار بنتا ہے وہ بھی اس جرم میں برابر کا حصہ دار ہو گا اور اسی سزا کا مستحق ہو گا جو آئین پامال کرنے والے شخص کیلئے مختص ہو گی اور کوئی بھی عدالت بشمول ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ آئین کو توڑنے، معطل کرنے کے عمل کو قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتی اور ایسا کرنے والے اسی سز اکے مستحق ہوں گے جو آرٹیکل چھ کے تحت دوسروں کیلئے تجویز کی جائے گی اور پارلیمنٹ بذریعہ قانون ایسے اشخاص کیلئے سزا مقرر کرے گی جنہیں سنگین غداری کا مرتکب قرار دیا گیا ہو۔ اب جن جج حضرات نے جنرل مشرف کے فوجی اقدام کو جائز اور درست قرار دیا ان پر مقدمہ نہ چلانا سمجھ میں نہیں آتا؟۔

کچھ لوگ جان بوجھ کر انتہائی چالاکی سے جنرل مشرف کے بارہ اکتوبر کو حکومت کو بر طرف کرنے کے عمل کو بائی پاس کرتے ہوئے اس بات پر زور دیئے جا رہے ہیں کہ صرف تین نومبر کے ”غیر آئینی“ اقدامات پر ہی جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے…اگر فیصلہ سازوں کی خواہش کو سامنے رکھتے ہوئے بارہ نومبر کو بائی پاس کرتے ہوئے جنرل مشرف کی تین نومبر کو لگائی جانے والی ایمر جنسی کا جائزہ لیا جائے توپھرجنرل مشرف کی تین نومبر کوایمرجنسی میں لکھا تھا”اس وقت صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ حکومت وقت کیلئے اپنے معاملات کو آئین کے تحت انجام دینا بہت ہی مشکل ہو چکا ہے اور جب ملک اس طرح کی صورت حال پر پہنچ جائے تو ملکی معاملات اور سلامتی کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے مناسب اقدمات کرنے کیلئے آئین خاموش ہے سو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے کچھ غیر معمولی اقدامات کئے جائیں۔

اس صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں وزیر اعظم شوکت عزیز، چاروں صوبوں کے گورنر، چیئر مین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی،ملک کی تمام مسلح افواج کے سروسز چیفس،وائس چیف آف آرمی سٹاف سمیت مسلح افواج کے کور کمانڈرز شریک ہوئے اس اہم اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت حال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد میں جنرل پرویز مشرف بحیثیت چیف آف آرمی سٹاف ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرنے اور آئین کے تعطل کا اعلان کرتا ہوں اور ساتھ ہی ایمر جنسی کے تحت پی سی اوآرڈر نمبر ایک 2007 جاری کرتے ہوئے سوائے آئین کی بنیادی حقوق سے متعلق 9,10,15,16,17,19, 25 کے باقی تمام شقوں کو اپنی اصل حالت میں بحال کرنے کا اعلان کر تا ہوں (کیا آئین کو مکمل طور پر معطل کیا گیا؟)ایمر جنسی کے نفاذ کے بیالیس دنوں کے بعد ملک میں نافذ ایمر جنسی کو ختم کرتے ہوئے جنرل مشرف نے آئین بحال کرنے اور ساتھ ہی تمام ججوں کوملکی آئین کے تحت ایک بار پھر حلف لینے کا حکم جاری کیااب اگر جنرل مشرف کے خلاف تین نومبر کے اقدمات کرنے پر آئین کے آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کے تحت کسی بھی قسم کی کوئی کاروائی کی جاتی ہے تو یہ کاروائی اس وقت(تین نومبر تک) نافذالعمل آئین اور قانون کے تحت ہو نی چاہئے نہ کہ اس اقدام کے ڈھائی سال بعد اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے بنائے جانے والے قانون کے تحت تین نومبر کو آئین کے آرٹیکل چھ کی طرف دیکھا جائے تو وہ یہ ہے”کوئی بھی شخص جو طاقت سے یا طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئین کی تنسیخ کرتا ہے اس کی سازش کرتا ہے“۔

جنرل مشرف نے تین نومبر کو سوائے آئین کو التوا میں رکھنے کے نہ تو آئین کو تہہ و بالا کیا اور نہ ہی اسے منسوخ کرنے کا کوئی حکم جاری کیااور آئین کو التوا میں رکھنا کسی طور بھی غداری کے زمرے میں نہیں آتا۔ جنرل مشرف نے تین نومبر کو نہ تو کسی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹانہ ہی مجلس شوریٰ یعنی پارلیمنٹ کو ختم کیا بلکہ چوبیس نومبر2007 کو سپریم کورٹ کے ایک سات رکنی بنچ نے جنرل مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو جائز اور درست قرار دیتے ہوئے اس کی با قاعدہ توثیق بھی کی۔ ایک انتہائی اہم پہلو یہ بھی سامنے رکھیں کہ بیالیس روزہ نافذ کردہ ایمر جنسی کے دوران ہی جنرل مشرف نے چیف آف آرمی سٹاف کا اپنا عہدہ چھوڑتے ہوئے جنرل کیانی کو اپنی جگہ آرمی چیف مقرر کیا

اگر قانون کی زبان میں بات کی جائے تو تین نومبر کو نا فذالعمل قانون کے مطابق جنرل مشرف کے خلاف تین نومبر کے اقدامات پرآرٹیکل چھ کے تحت کسی بھی صورت میں غداری کا مقدمہ چلایا جانا سمجھ میں نہیں آتا

Pakistani courts have given decisions in numerous cases declaring this or that action to be ultra vires of the constitution(”beyond the powers” of the person or authority doing it) and have struck it down.

تین نومبر کو ایمر جنسی نافذ کرتے ہوئے جنرل مشرف کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے ججز اور ان کے اہل خانہ کی نظر بندی کے احکامات جاری کئے تھے لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ کے جناب جسٹس ریاض احمد خان اور جسٹس نور الحق پر مشتمل دو رکنی بنچ کی طرف سے جنرل مشرف کی اس مقدمہ میں ضمانت منظور کرتے ہوئے جو تحریری فیصلہ جاری ہوا اس کے مطا بق ”مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ ججز کو نظر بند رکھنے کے احکامات جنرل پرویز مشرف نے دیئے تھے“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں